سینیٹ سائیڈ شو

اپوزیشن نے سینیٹ کے چئیر مین کو ہٹانے کا پلان بنالیا ہے ۔صادق سنجرانی جو اس تحریک کا نشانہ بننے والے ہیں  ، 2018 کے سینیٹ الیکشن میں پتا نہیں کہاں سے نمودار ہو کر سینیٹ کے چئیر مین بن گئے جب  آصف زرداری مخصوص وجوہات کی بنا پر  خفیہ قوتوں کی ایما پر چل رہے  تھے جن کا مقصد ن لیگ کو ایک دو قدم پیچھے دھکیلنا تھا۔

شاید  نون لیگ  2 درجے سے کہیں زیادہ  سطح نیچے گرا دی گئی تھی۔بلوچستان میں ان کی حکومت بلکل ویسے ہی  غائب ہو گئی جیسے ان کی سینیٹ میں سیٹوں کی اکثریت کی امید ۔ اس عمل کے دوران ملک کا سب سے پسماندہ  اور محرومی کا شکار صوبہ سینیٹ  کے سربراہ کے عہدے کا مالک بن گیا اور اس عمل میں پی ٹی آئی اور پی پی نے مل کر  کردار ادا کیا۔

لیکن  فیک اکاؤنٹ کے کیس اور گرفتاریوں  کے بعد آصف علی زرداری نے بلوچ حقوق کے بارے میں اپنا ذہن بدل لیا جو انہوں نے اپنے ہی  پارٹی کے آدمی رضا ربانی کے مقابلے میں سامنے رکھے تھے۔ رضا ربانی کو پی ایم ایل –این نے اتفاق رائے سے  سینیٹ کا چئیرمین منتخب کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ لیکن یہ تب کی بات ہے۔ اس وقت پی پی پی پہلا زخم لگانا چاہتی  ہے۔

افطار کے وقت کھجووں پر ہاتھ صاف کرنے سے پہلے ہی   سے پی پی پی کی طرف سے ن لیگ پر دباو ڈالا جارہا تھا کہ سینیٹ چئیرمین کو بدلا جائے لیکن نون لیگ نے اس پر کان نہ دھرے کیوں کہ وہ نواز شریف کو ضمانت دلوانے کے معاملے میں پر امید تھے۔ لیکن ایسا نہ ہوا  اور ن لیگ پہلے سے منتظر پی پی پی کی باہوں میں گرنے  پر مجبور ہو گئی۔

ان دو پارٹیوں کے پاس  اس قدر اکثریت ہے کہ وہ آرام سے سینیٹ چئیر مین کو ہٹا سکتے ہیں۔ ان کے مقابل جماعت کے پاس بہت کم تعداد ہے لیکن انکے پاس اتنی  طاقت ہے  جو اپوزیشن کے پاس نہیں ہے۔  یہ دیکھنا باقی ہے کہ مسلز میں اتنی لچک ہے کہ وہ  پی پی پی  اور ن لیگ کی اکثریت کو شکست دے سکے یا نہیں۔

لیکن سینیٹ میں اس لڑائی کا جو بھی نتیجہ ہو ، سیاست کی بڑی بڑی لڑائیوں میں  تویہ ایک چھوٹا سا کھیل ہے ۔ اسی لیے تو یہ سینیٹ کہلاتا ہے۔

ایوان بالا میں بلواسطہ انتخابات ہوتے ہیں اور اس ایوان کے انتخابات بھی متنازعہ ہوتے دکھائی دیتے رہے ہیں۔ لیکن اس کے متنازعہ ہونے کا تعلق امیدواروں کی سلیکشن سے ہے  جو پارٹیاں پیسے دے کر امیدوار خرید لیتی تھیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے تک ایک والد اور اس کے دو بیٹے اکھٹے سینیٹ میں بیٹھے نظر آتے تھے  اور اس کی وجہ ان کی دولت کو قرار دیا جاتا تھا نہ کہ ان کی سیاسی پختگی کو۔ 2012 میں جب پی پی کو سینیٹ میں اکثریت حاصل تھی، ایک پی پی امیدوار  جو پارٹی میں بہت مضبوط تھا ہار گیا اور ایک آزاد امیدوار جیت گیا  اور ایک ق لیگی اہلکار  بھی سینیٹ کی سیٹ پر جیتنے میں کامیاب ہو گیا۔ دوسری طرف  کے پی کے جیسی جگہوں سے محدود ووٹ نے سیل پرجیز کو ایک کھلا راز بنا دیا تھا۔ ووٹنگ کے عمل میں اس قدر گھپلا تھا کہ پارٹیوں نے براہ راست بات چیت کر کے  ایک سخت ڈسپلن طے کیا تا کہ انہیں معلوم ہو سکے کہ ان کے اپنے امیدوار کو ہی منتخب کیا جائے گا ۔ نتیجہ کے طور پر ووٹر کو اپنی مرضی کے امیدوار کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا گیا۔

اور نہ ہی پارٹیاں سینیٹ  کی مرکزی حیثیت کے بارے میں پریشان تھیں ۔ وہ اپنے امیدوار کو کسی علاقہ یا جائے پیدائش کو دیکھے بغیر  ٹکٹ دیتی تھیں۔ بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ کوئی امیدوار اپنے علاقے کا ڈومیسائل دیکھ کر اپنی نومینیشن واپس کر دے جیسا کہ اعتزاز احسن اور فرحت اللہ بابر نے کیا ۔

لیکن یہ سب چیزیں الیکشن کا بنیادی جز تھیں اور قابل قبول تھیں۔ جس چیز نے 2018 کے سینیٹ الیکشن کو متنازعہ بنایا وہ یہ تھا کہ سیاسی پارٹیوں کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ نے بھی اس الیکشن میں بہت محرک کردار ادا کیا تھا۔ ماضی میں  اسٹیبلشمنٹ سینیٹ الیکشن کا معاملہ سیاسی پارٹیوں پر چھوڑ دیتی تھی  اور صرف نیشنل اسمبلی پر توجہ مرکوز رکھتی تھی۔ اس بار اسٹیبلشمنٹ کے کارندوں نے پی پی کے ساتھ مل کر ن لیگ کو سینیٹ میں  اکثریت کے حصول سے محروم کر دیا۔

اس سے الیکشن زیادہ متنازعہ ہوئے ہیں، گندے ہوئے ہیں یا اس سے بھی زیادہ متنازعہ ہوئے ہیں اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کس کو کیا پوچھا جاتا ہے۔اب چونکہ پی پی کو لگتا ہے کہ اسے اسٹیبلشمنٹ نے استعمال کیا ہے اس لیے یہ 2018 کی غلطی کو درست کرنا چاہتی ہے  یا یوں کہیے کہ یہ اب سینیٹ کو درست کرنا چاہتی ہے جس کی وجہ الیکشن کے بعد نئی تناظر کا ظہور ہے۔

کیسز اور گرفتاریوں کے دباو میں گھری ن لیگ پی پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیے تیار ہے  جس کے ساتھ پہلے وہ عدم اعتماد کی وجہ سے  تعاون کے لیے کچھ عرصہ قبل تیار نہ تھی۔ کاتلیا کے مطابق یہی درست طریقہ ہے کیونکہ دشمن کا دشمن دوست ہی ہوتا ہے۔ جو بھی ہو، اور چئیرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کا جو بھی نتیجہ نکلے، یہ پھر بھی ایک سائیڈ شو کی ہی حیثیت کا حامل ہو گا اور اس سے زیادہ کچھ نہیں ہو گا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ایک پارٹی کو چھوٹی سی فتح کا احساس دلا دے گا لیکن چانسز یہی ہیں کہ بڑے سٹیج پر اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہو گی۔

اگر اپوزیشن نیا چئیرمین سینیٹ لانے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو بھی اپوزیشن کے خلاف احتساب کا کھیل ٹھنڈا پڑنے والا نہیں ہے۔ خاص طور پر مستقبل قریب میں تو ایسی کوئی امید نہیں ہے۔ کوئی اور رعایت  جیسا کہ کم گرفتاریاں یا زیادہ ضمانتیں بھی ملنے کی توقع نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سینیٹ میں پی پی اور ن لیگ کا تعاون دونوں پارٹیوں کے بیچ عدم اعتماد کی فضا کو کم نہیں کرے گا  جو آصف زرداری کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر صادق سنجرانی کو منتخب کرنے سے پیدا ہو گئی تھی۔

نہ ہی اس کی ناکامی کی صورت میں  پی ٹی آئی کو درپیش چیلنج میں کمی واقع ہو گی۔ پی ٹی آئی کو معاشی  اور گورننس  مسائل سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا رہے گا ۔ اور میڈیا کی ناراضی اور بپھری ہوئی اپوزیشن کو ہینڈل کرنا بھی زیادہ مشکل دکھائی دے گا۔ اس کے باوجود سینیٹ کا کھیل کھیلا جانا ہے اور اس کے ایک سے زیادہ راونڈ ہونگے۔ کیونکہ دیوار سے لگی اپوزیشن کے پاس سینیٹ کے علاوہ کوئی خاص کارڈ نہیں بچے ہیں جنہیں وہ استعمال کر سکے۔ناراض اور دباو میں گھری اپوزیشن  اپنے دانت دکھانے کا فیصلہ کر چکی ہے اگرچہ اس کے پاس زیادہ کچھ دکھانے کو بچا نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس سے کچھ بڑا فائدہ حاصل نہیں ہو گا  اور صرف اپوزیشن کے دعووں کی  اخلاقی حیثیت کی کسی حد تک نفی ہو جائے گی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سنجرانی کو ہٹانے کی کوشش اتنی ہی بری ہے جتنا ان کو لانے کی تھی اور یہ کسی بھی متعلقہ حلقہ کی بہترین تصویر  پیش نہیں کرے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *