آزادی صحافت کے خلاف، ارشاداتِ تازہ

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

آزادی صحافت کے خلاف، ارشاداتِ تازہ

خامہ بدست کے قلم سے
”مادرپدرآزادی“ روزنامہ 92نیوز میں جناب ارشاد احمد عارف کے تازہ کالم کا عنوان ہے، جس میں وہ پاکستانی میڈیا کی ”مادرپدر آزادی“ کو زیر بحث لائے ہیں،لیکن آغاز انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے اتوار کی سہ پہر واشنگٹن کے کیپٹل ون ایرینا میں ہونے والے جلسے سے کیا ہے(پاکستان میں تب رات کا آخری پہر شروع ہونے کو تھا) فاضل کالم نگار کی یہ بات بجا کہ واشنگٹن میں جلسہ عام اور ہزاروں افراد کی شرکت، ہال میں لگی کرسیوں کی وجہ سے گنتی آسان اور مبالغہ مشکل بلکہ نا ممکن۔۔۔بلا مبالغہ یہ ایک بڑا جلسہ تھا، اور یقینا واشنگٹن میں، پاکستانیوں کے اتنے بڑے سیاسی اجتماع کی مثال پہلے موجود نہیں، اگرچہ اس حوالے سے ”جتنے منہ، اتنی باتیں“ کے مصداق سو طرح کے تبصرے اور تجزیے بھی موجود ہیں کہ کونسی کونسی لابیاں اور گروہ اسے کامیاب بنانے کے لیے سرگرم رہے۔ پس پردہ جھانکنے کی ضرورت نہیں، لیکن یہ تو سامنے کی حقیقت تھی کہ اس میں شرکت کے لیے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے طول وعرض سے ہی نہیں، کینیڈا تک سے بھی لوگ آئے تھے۔ مزید ارشاد فرمایا: واشنگٹن جیسے مصروف، کاروباری اور ساہو کارانہ ذہنیت کے شہر میں جہاں لوگ چائے کا کپ بھی یہ کہہ کر پلاتے ہیں کہ میں آپ کو اپنے قیمتی وقت سے پندرہ منٹ نکال کر ایک ڈالر کی چائے پلا سکتا ہوں۔ ہزاروں پاکستانی نژاد امریکیوں کا دور دراز سے ہال میں جمع ہو کر کئی گھنٹے تک پاکستانی وزیر اعظم کا انتظار کرنا اور تقریر سننا اہم واقعہ جس کی پاکستان میں تو شاید کسی کو قدر ہویا نہ ہو مگر امریکہ میں اہمیت ملے گی۔ لیکن فاضل کالم نگار یہاں اس بات کو نظر انداز کرگئے کہ یہ جلسہ کسی ”ورکنگ ڈے“ پرنہیں تھا، جب لوگ اپنے ایک ایک منٹ کو ڈالر میں Convertکرنے کی فکر کرتے ہیں، بلکہ اتوار کا دن تھا اور اس سے ایک روز پہلے سینچر کو بھی ہفتہ وار چھٹی تھی۔ اور ہفتہ وار چھٹی کے یہ دو دن امریکہ میں لوگ سیروتفریح اور لطف ومسرت کی دیگرسرگرمیوں میں صرف کرتے ہیں۔ جلسے کی تعداد کے متعلق خود ”کیپٹل ون ایرینا“ کی منتظم کے مطابق سا ڑھے نو ہزار کرسیوں کی گنجائش تھی۔
کالم کے عنوان”مادرِ پدر آزادی“ہی سے عیاں تھا کہ موصوف میڈیا کی ”آزادی“ کو زیر بحث لانا چاہتے ہیں۔ فرماتے ہیں: عدالتی سزا یافتہ اور نیب کو مطلوب افراد کو ہیرو ثابت کرنا اور قومی اداروں پر کیچڑ اچھالنا کسی کا بنیادی حق ہے، نہ پاکستان مخالف قوتوں کی برپا کردہ ففتھ جنریشن وار کا حصہ بننا تقاضائے صحافت۔ پہلی بات تو یہ کہ عدالتی فیصلے پر ”فیئر کومنٹس“ کا حق تو خود عدلیہ بھی تسلیم کرتی ہے۔نوازشریف کی نااہلی اور اس کے بعد نیب عدالت سے (ایون فیلڈاپارٹمنٹس ریفرنس میں) قید اور جرمانے کی سزاؤں کو خود سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت متعدد ریٹائرڈ ججوں اور ایس ایم ظفر جیسے ممتاز قانون دانوں نے بھی ”کمزوردلیل پر مبنی“ فیصلے قرار دیا۔ جہاں تک نیب کے مطلوب افراد کو ہیرو ثابت کرنے اور قومی اداروں پر کیچڑ اچھالنے کی بات ہے تو میڈیا میں کوئی کسی کو ہیرو ثابت نہیں کررہا۔ صرف یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ نیب اپنی کارروائی میں عدل وانصاف کے بنیادی تقاضوں کو نظر اندازنہ کرے اور سیاسی انتقام میں آلہ کار نہ بنے۔ خود سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان متعدد بار یہ ریمارکس دے چکے ہیں کہ نیب لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے سے باز رہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے عدالت کے روبرو اپنے مقدمے میں کہا تھا کہ تاریخ میں سب سے زیادہ ناانصافیاں، انصاف کے ایوانوں میں ہوئیں۔ جہاں تک ”غداری“ کی بات ہے تو اپنے ہاں حسین شہید سہروردی سے لیکر مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح تک کون ہے جسے”غدار“ قرار نہیں دیا گیا؟ بلکہ اس سے بھی پہلے، پاکستان کے اوّلین وزیر اعظم اور قائد اعظم کے دستِ راست خان لیاقت علی خاں کے خلاف نا کام بغاوت کے سرغنہ جنرل اکبر خاں نے کورٹ مارشل کے دوران کہا تھا کہ وہ ایک نااہل، کرپٹ اور کشمیر کے غدار وزیر اعظم کوکیفر کردار تک پہنچانا چاہتے تھے۔۔۔”نااہل“،”کرپٹ“ اور ”غدار“کے یہ الفاظ پاکستان کے اکثر سویلین حکمرانوں کا پیچھا کرتے رہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *