آئین کا آرٹیکل 25.(1)

ہمارا سارے کا سارا نظامِ زندگی طبقاتی تقسیم پر چل رہا ہے۔ پیدائش سے لے کر موت تک‘ تعلیم سے لے کر روزگار تک۔ ایک وہ ہیں‘ جن کے بچے جاہل اور اَن پڑھ دائی کے ہاتھوں یا سڑک اور رکشے میں پیدا ہوتے ہیں۔بڑا تیر چلا لیں تو کسی سرکاری ہسپتال کے برآمدے میں اس دنیا میں اپنی آمد کا اعلان کرتے ہیں اور ایک وہ ہیں‘ جو اعلیٰ پرائیویٹ ہسپتالوں میں سفید کوٹ میں ملبوس اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹروں کے ہاتھوں یا یورپ وغیرہ میں اپنی آنکھیں کھولتے ہیں۔ یہ صرف ابتدا ہوتی ہے۔ اول الذکر بچے تھوڑے سے بڑے ہوتے ہیں تو کسی چھپر ہوٹل میں میز پر کپڑا مارنے‘ ورکشاپ میں استاد کو پیچ کس اور نٹ بولٹ پکڑانے یا گلیوں میں آوارہ پھرنے میں اپنا بچپن اور لڑکپن گزار دیتے ہیں۔ بڑا تیر مارا تو کسی ٹاٹ والے سکول میں داخل ہو جاتے ہیں۔دوسرے طبقے کے بچے حسب ِ مراتب سکول میں داخل ہوتے ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں اور تعلیمی اداروں کے مختلف درجے ہیں۔ ایسے ایسے تعلیمی ادارے کہ عام آدمی ساری زندگی ان کی دیوار کے اندر بھی نہیں جھانک سکتا۔ تعلیم اور ڈگری خرید کرتے ہیں۔
اس کے بعد کا مرحلہ بھی اسی نظام کے تحت چلتا ہے۔ پہلے والے بچے بڑے ہو کر ہوٹل میں مکمل بیرے بن جاتے ہیں۔ورکشاپ میں استاد یا اسسٹنٹ استاد لگ جاتے ہیں۔ کہیں چوکیداری یا سیلز مینی کرتے ہیں۔ کسی پرائیویٹ دفتر میں آفس بوائے بنتے ہیں یا حد توپ چلائیں تو کلرک بادشاہ کے عہدے پر براجمان ہو جاتے ہیں۔ دوسرے والے اپنا کاروبار سنبھالتے ہیں۔ پرائیویٹ کمپنیوں میں اشتہار کے بغیر خالی ہونے والی ایگزیکٹو پوسٹوں پر براجمان ہوتے ہیں۔ مقابلے کا امتحان پاس کرتے ہیں۔ سرکاری کارپوریشنوں میں اعلیٰ پوزیشن والی نوکری کرتے ہیں اور لاکھوں روپے تنخواہ سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کرتے ہیں یا پھر اپنے والد محترم کی وفات سے خالی ہونے والی نشست پر الیکشن لڑتے ہیں‘ بلکہ بعض سمجھدار تو والد محترم کی زندگی میں ہی کسی دوسری پارٹی کی طرف سے اپنی اسی آبائی نشست پر خاندان کے اندر ہی انتخابی زور آزمائی کرتے ہیں‘ تاکہ اسمبلی کی نشست بہرطور گھر میں ہی رہے۔
موت بھی اس معاشرتی نظام کو توڑنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ پہلے طبقے والے مولوی سے تعویذ لیتے لیتے‘کسی اتائی سے غلط سلط ٹیکے لگواتے ہوئے‘ سرکاری ڈسپنسری سے لال دوائی لیتے ہوئے‘ شترِ بے مہار ڈاکٹروں کے زیر سایہ چلنے والے کسی سرکاری ہسپتال کے برآمدے میں ایڑیاں رگڑتے ہوئے یا گھر کی چارپائی پر بے بسی کی تصویر بنے ہوئے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ دوسرے طبقے والے سرکاری خرچ پر بیرونِ ملک علاج کرواتے ہوئے‘ کسی مہنگے پرائیویٹ کلینک یا ہسپتال میں اپنی آنکھیں بند کرتے ہیں‘ لیکن یہ طبقاتی سفر موت پر بھی ختم نہیں ہوتا۔ قبرستان کی تقسیم بھی اسی طبقاتی نظامِ زندگی کا حصہ ہے۔ پہلا طبقہ بعد از موت کسی عام تام قبرستان میں جگہ پاتا ہے اور دوسرے طبقے کا مردہ کسی سوسائٹی کے خوبصورت پھولوں بھرے قبرستان میں داخلے کی پرچی کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ ملتان میں درجنوں درگاہیں ایسی ہیں کہ عقید ت مند قبر کی جگہ لاکھوں روپے میں خریدتا ہے۔ باقیوں کا تو پتا نہیں البتہ ایک خاکوائی دوست نے بتایا کہ ان کے ایک عزیز نے حافظ جمال کے دربار (مقبرہ) میں قبر کی سات ضرب اڑھائی فٹ کی جگہ دس لاکھ روپے میں خریدی تھی۔ غریب کو مرنے کے بعد بھی پیر صاحب کا فیض مفت حاصل نہیں ہو سکتا۔
لیکن پیدائش سے موت تک کے درمیان اور بھی درجنوں مراحل ایسے ہیں جن کا ذکر صرف ایک کالم میں کرناممکن نہیں‘مثلاً :عدالتوں میں ذلیل یا سرخرو ہونا۔ جیل میں عام بیرک کا قیدی ہونا یا خصوصی کمرے میں اے سی لگا کر قید کاٹنا۔ جیل کا غیر انسانی کھانا زہر مار کرنا (اللہ کے رزق کے بارے میں ایسا کہنا کفرانِ نعمت کے زمرے میں بھی آ سکتا ہے‘ مگر میں یہ بات جیل میں قیام کے اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر لکھ رہا ہوں‘ اللہ تعالیٰ معاف کرے) یا گھر کے مرغن کھانوں سے مستفید ہونا۔ کسی فارغ قسم کے وکیل کی پیروی سے لے کر بے گناہ ہونے کے باوجود سزا ہونے سے لے کر کروڑوں روپے والے وکیل کے طفیل وکٹری کا نشان بناتے ہوئے عدالتوں کو فتح کرنے تک۔ جھوٹے گواہوں کے زور پر سزا ہونے سے لے کر گواہوں کے بیٹھ جانے کے باعث باعزت بری ہو جانے تک۔ ہر جگہ ذلیل و رسوا ہونے والا اور عزت و آبرو حاصل کرنے والا۔ عدل و انصاف سے محروم ہونے والا اور عدل و انصاف خریدنے والا۔ بنیادی ضروریاتِ زندگی کو ترسنے والا اور دنیا میں موجود ہر سہولت سے موج میلہ کرنے والا طبقہ ہمارے سماج کے منہ پر اپنی اپنی استطاعت کے مطابق جوتے مار رہا ہے‘ بلکہ سماج بھی کہاں؟ ہمارے منہ پر جوتے مار رہا ہے۔
کرپشن کے الزام میں جیل جانے والے سابق وزیراعظم ‘بلکہ تین بار والے سابقہ وزیراعظم کے جیل کے کمرے سے ایئر کنڈیشنر اتارنے کی بات ہو تو اس پر شور و غوغا کرنے والوں کی غالب تعداد اس طبقے سے تعلق رکھتی ہے ‘جن کو جیل جانے پر اے سی والا کمرہ تو کجا بیرک میں وہ کونا ملتا ہے‘ جہاں پنکھے کی ہوا بھی نہیں پہنچتی۔ پاکستان کا 1973ء کا آئین ایسی کسی طبقاتی تقسیم کی نفی کرتا ہے۔ آئین کے باب اول میں آرٹیکل 8سے 28 تک فرد کے بنیادی حقوق کے تحفظ سے متعلق ہیں۔ آرٹیکل 25کہتا ہے کہ :(1) تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور قانونی تحفظ کے مساوی طور پر حقدار ہیں۔ میں نے مذکورہ بالا آرٹیکل کا ترجمہ خود سے نہیں کیا‘ بلکہ پاکستان کے آئین کا سرکاری اردو متن لکھا ہے۔ آئین کے بارے میں وضاحت ہے کہ اگر کہیں کوئی وضاحت کا مسئلہ درپیش آ جائے تو پھر انگریزی متن کو درست سمجھا جائے گا‘ اس لیے اصل انگریزی متن بھی لکھ رہا ہوں ‘تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے:
All citizens are equal before law and are entitled to equal protection of law.
تعزیرات ِپاکستان میں جب کسی فوجداری دفعہ کی سزا کا ذکر ہوتا ہے تو اس میں کسی قسم کی کوئی ایسی شق نظر نہیں آتی جو سزا کو طبقاتی حوالوں سے منقسم کرے۔ سزا بھگتنے کے لیے کسی اے‘ بی یا سی کلاس کا ذکر نہیں۔ یہ مقتدر طبقے کا ذاتی مفاد پر مشتمل رعایتی ایجنڈا ہے۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے‘ جیسے اسمبلی کے ارکان اپنی تنخواہ اور الاؤنسز خود بڑھا لیتے ہیں‘ اسی طرح جیل کے اندر قیدیوں میں طبقاتی تقسیم دراصل انصاف‘ سزا اور آئین پاکستان میں درج شہریوں کے مابین برابری کے تصور کے منہ پر طمانچہ ہے اور باقاعدہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔نیب کی تحویل میں بڑے بڑے (طبقاتی حوالے سے) ملزمان کو گھر سے کھانے کی سہولت دی جاتی ہے۔ جیل جانے والوں میں سے زور دار اور صاحبِ حیثیت قیدی‘ جیل کے اندر اپنی مرضی کی زندگی گزارتے ہیں۔ مزید مزے کرنے ہوں تو ہسپتال چلے جاتے ہیں۔ ہسپتال بھی ایسے کہ کمرے فائیو سٹار ہوٹل جیسے ۔ طبقاتی تقسیم ایسی کہ ایک قیدی مشقت کرے اور دوسرے کو ایک عدد مشقتی قیدی دیا گیا ہو‘ یعنی جیل میں مفت کے نوکر کی سہولت میسر ہو۔ میں نہ تو قانون دان ہوں اور نہ ہی قانون پر دسترس کا کوئی دعویٰ ہے‘ لیکن ایک دو سوالات ہیں‘ جن کے جوابات درکار ہیں؛ کیا مملکت ِخداداد پاکستان میں افراد کے درمیان تفریق پیدا کرنے والے ضابطے‘ سہولتیں اور مختلف مینوئل 1973ء کے آئین کی روح کے خلاف نہیں؟ کیا یہ آئین سے متصادم ہونے کے باعث آئین کی صریح خلاف ورزی نہیں؟ کیا آئین سے متصادم ضابطے اور مینوائل آئین توڑنے کے مساوی نہیں؟ کیا ان کو بنانے والے آرٹیکل 6 کے تحت قابلِ گرفت نہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر یہ سب کچھ کیسے چل رہا ہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر آئین کے اندر درج شہری کے بنیادی حقوق کے تحفظ سے متعلق آرٹیکلز کی کیا ضرورت ہے؟ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *