جوئے خانے سے پی آئی اے تک!

Yasir Pirzadaدنیا میں بعض کاروبار ایسے ہیں جن کے بارے میں عموماً یہی خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں گھاٹا نہیں ہو سکتا ،مثلاً جوئے خانے اور ایئر لائن چلانا۔ماہرین کے مطابق (مراد یہ کہ فدوی کے مطابق) جوا خانہ بہترین کاروبار ہے جو کبھی گھاٹے میں نہیں جا سکتا کیونکہ جیتا ہوا جوار ی مزید پیسے کی لالچ میں تب تک کھیلتا ہے جب تک وہ ہار نہیں جاتا اور ہارا ہوا جواری اپنی رقم واپس لینے کے لیے اس وقت تک کھیلتا ہے جب تک اس کے پاس واپسی کا کرایہ بھی نہیں بچتا۔ اچھی شہرت رکھنے والے جوئے خانے البتہ ایسے جواری کو واپسی کا کرایہ ضرور بخش دیتے ہیں۔ایسا ہی کچھ تاثر ایئر لائن کے کاروبار کے بارے میں بھی ہے ،سنتے ہیں کہ اس دھندے میں بھی اندھا دھند پیسہ ہے ،ایئر لائن کا چلانا ایسے ہی ہے جیسے کوئی جوا خانہ یا سونے کی کان چلانا،جب جی چاہا کان میں سے سونا کھرچ کر اتار لیا ۔حقیقت کیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ہوا بازی کی انڈسٹری دنیا بھر میں 32ملین لوگوں کی ملازمت کا ذریعہ ہے اور دنیا کی معیشت میں اس کا حصہ3.5کھرب ڈالر ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایئر لائن کے مالکان سونے کی بالٹیوں میں ڈبکیاں لگا کر نہاتے ہیں۔ اس شعبے کے منافع کا دارومدار تیل کی قیمتوں پر ہے جو کہ کل خرچوں کا 26%بن جاتا ہے ، اس کے بعد لیبر کا خرچہ ہے جو18-38% تک ہوتا ہے۔ سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ گذشتہ چار دہائیوں میں دنیا کی ایئر لائنز کا بعد از ٹیکس منافع ان کے کل ریوینیو کا اوسطاً فقط 0.1%تک رہا ۔ہوا بازی کے شعبے کی ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت دنیا کے سرمایہ داروں کے تقریباً 500ارب ڈالر اس کاروبار میں لگے ہیں ، اگرپچھلے دس برسوں میں وہ یہ سرمایہ کسی دوسرے کاروبار میں لگاتے تو ان کا سالانہ منافع کم از کم 40ارب ڈالر ہوتاجو ہوا بازی کے کاروبار سے 20ارب ڈالر زیادہ ہے۔
60کی دہائی میں پی آئی اے کا شمار دنیا کی بہترین ایئر لائنزمیں ہوا کرتا تھا ۔ اس دوران کچھ ایسے ریکارڈ بنے جو آج تک نہیں ٹوٹ سکے ،جیسے 1962میں لندن سے کراچی تک تیز ترین پرواز کا ریکارڈاور دنیا کی پہلی غیر کمیونسٹ ملک کی ایئر لائن جس کی پرواز 1964 میں چین اتری۔پی آئی اے کے یہ ”سنہری سال“ تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت ہوا بازی کے شعبے میں پی آئی اے کی مکمل اجارہ داری تھی ،چونکہ پاکستان وہ واحد غیر کمیونسٹ ملک تھا جس کی پرواز براستہ پیکنک (بیجنگ) مختصر ترین روٹ کے ذریعے جا سکتی تھی چنانچہ پی آئی اے نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بھاری منافع کمایا۔اس ضمن میں پی آئی اے کا کسی بین الاقوامی ایئر لائن سے کوئی مقابلہ نہیں تھا اور ملک بھی معاشی ترقی کی راہ پر گامزن تھا سو پی آئی اے کا سر اپنے آپ کڑاہی میں ہو گیا بالکل اسی طرح جیسے اس وقت دیگر حکومتی اداروں کی پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں!
2005ء سے اب تک پی آئی اے مکمل خسارے میں ہے ،دلچسپ بات یہ ہے کہ2005 سے 2009 تک پی آئی اے کے محصولات میں 47.6%اضافہ ہوا مگر اس کی بڑی وجہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 34.8%تک کمی تھی۔اگر آپ پی آئی اے کی سالانہ رپورٹ دیکھیں تو ایئر لائن کے عہدے داران کی رنگ برنگی تصاویر (جن میں وہ نہ جانے کیوں چھاتی پھلائے کھڑے ہیں )کے علاوہ آپ کو جو بات نظر آئے گی وہ یہ کہ پی آئی اے کا 2012 میں خسارہ33,182ملین روپے ہے ۔پی آئی اے کے خسارے کی بنیادی وجہ اس کا تیل کا خرچہ ہے جو 42%ہے جبکہ دنیا کی ایئر لائنز کی اوسط اس ضمن میں 26%ہے ۔ خسارے کی دوسری بڑی وجہ دنیا بھر میں پھیلے اس کے 21,500ملازمین ہیں ،پی آئی اے کی سٹاف ٹو ایئر کرافٹ کا تناسب 500ہے جو غالباً دنیا میں سب سے زیادہ ہے کیونکہ دنیا کی دیگر ایئر لائنز کا اوسط تناسب اس ضمن میں 150سے 200تک ہے ۔پی آئی اے کی آمدن کا صرف 2%کارگو سروسز کی مد میں حاصل ہوتا ہے اور اس نالائقی کی وجہ یہ ہے کہ ملک کے بڑے ایکسپورٹ سینٹرز جیسے فیصل آباد،سیالکوٹ اور ملتان میں سٹوریج کی کوئی سہولت نہیں ۔
ادھر دنیا کی کامیاب ایئر لائنز کا حال یہ ہے کہ 1985میں وجود میں آنے والی رائن ایئر نے صرف 25ملازمین کے ساتھ کام کا آغاز کیا تھا،اور آج رائن ائیرکی روزانہ پروازوں کی تعداد 1400ہے اور اس کے 27ممالک میں 44بیس ہیں ۔امارات ایئر لائنز کی مثال تو مزید دلچسپ ہے۔ اس ایئر لائن نے 1985میں پی آئی سے سے دو جہاز ”ادھار “لے کر کام شروع کیا تھا اور آج 26سال بعد اس کا شمار کرہ ارض کی بڑی ایئر لائنز میں ہوتا ہے ۔
یہ ایئر لائن دنیا بھر میں 30,000میل کا احاطہ کرتی ہے ،اس کی پہنچ 70ممالک تک ہے اور یہ دنیا کی واحد ایئر لائن ہے جو اکیلے دبئی سے چھ بر اعظموں تک جاتی ہے، اس کے ملازمین کی تعداد 38,797ہے جبکہ اس کے پاس ”نوجوان“ جہازوں کا فلیٹ ہے جس کی تعداد 193ہے، ان جہازوں کی اوسط عمر 77ماہ ہے جبکہ دنیا میں جہازوں کی اوسط عمر 132ماہ کے قریب ہے ،امارات کا سٹاف ٹو ایئر کرافٹ تناسب 200ہے جبکہ پی آئی اے کا 500!اب ایسا بھی نہیں ہے کہ پی آئی اے کے علاوہ تمام ایئر لائنز اپنی حکومتوں کا کماؤ پوت ہیں ،حقیقت میں یہ کاروبار اس قدر مشکل ہے کہ اچھی سے اچھی ایئر لائن کو بھی حکومتی امداد کی ضرورت پیش آجاتی ہے جیسے جاپان ایئر لائنز،ایئر لنگس،ایئر فرانس،لفتھنزا،برٹش ایئر ویز وغیرہ۔
حل کیا ہے ؟ ایک حل تو حکومت نے پی آئی اے کے 26%حصص بیچنے کی صورت میں پیش کر دیا ہے ،اس کی بجائے اگر پی آئی اے کے صرف فلائٹ آپریشنز پرائیویٹائز کئے جاتے تو زیادہ مناسب تھا۔پی آئی اے کا خسارہ تیل کے ابنارمل خرچے کی وجہ سے ہے اور یہ خرچہ پرانے جہازوں کی مہربانی ہے ،نئے جہاز وں کے لئے پیسے چاہئیں ،حکومت کو یہ پیسے خرچ کرنے ہی پڑیں گے ۔دوسرا مسئلہ سٹاف ٹو ایئر کرافٹ کا بد ترین تناسب ہے، اس کے لئے حکومت نے گولڈن ہینڈ شیک کا سوچا ہے ،جو بظاہر معقول بات ہے ،دیکھنا یہ ہے کہ حکومت یونین کا دباؤ کس حد تک برداشت کر پاتی ہے ۔
پی آئی اے کی کارکردگی بہتر کرنے کا ایک طریقہ Code Sharing Agreementمیں داخل ہونے کی صورت میں ہے جس میں شامل ہونے کے بعد مسافروں کو یہ سہولت مل جاتی ہے کہ وہ پی آئی اے کی ٹکٹ خرید کر وہاں بھی سفر کر سکتے جہاں پی آئی اے کی پرواز نہیں جاتی ،اس سے ہماری ایئر لائن کی آمدن میں غیر معمولی اضافہ ممکن ہے ۔ایک طریقہ یہ ہے کہ پی آئی اے کو ایک علاقائی ایئر لائن بنا دیا جائے جو مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے مسافروں کے لئے مخصوص ہو ،اسے پی آئی اے ایکسپریس کا نام دے کر پی آئی اے انٹرنیشنل سے علیحدہ کیا جا سکتا ہے ۔حج پروازیں ہماری آمدن کا بڑا ذریعہ ہیں اور یہاں ہماری اجارہ داری ممکن ہے مگر پھر نالائقی آڑے آ جاتی ہے ،اندازہ لگائیں کہ پی آئی اے کی حج پرواز خالی واپس آتی ہے کیونکہ اسے جدہ سے مسافر لانے کی اجازت نہیں ،اس مسئلے کے حل کے لئے پی آئی اے جدہ سے کسی دوسرے سعودی شہر سے پرواز واپس لا سکتی ہے ،کم از کم خالی آنے سے تو بہتر ہے ۔پی آئی اے کا اپنا کچن ہے جس کی کوئی ضرورت نہیں ،دنیا کی بیشتر ائیر لائنز جہاز میں کھانے کے لئے کچھ نہیں دیتیں اور اس کے بدلے ان کا کرایہ کم ہو جاتا ہے جس سے ان کی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے ،پی آئی اے بھی یہ کر سکتی ہے ۔اور اگر نہیں کر سکتی تو 100%شیئر بیچ کر لاس ویگاس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی شراکت داری سے کوئی جوا خانہ کھول لے، حکومت کو چار پیسے آ جائیں گے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *