غوث علی شاہ کے دُکھ

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

غوث علی شاہ کے دُکھ

خامہ بدست کے قلم سے
”دنیا“ میں جناب رؤف کلاسرا کا تازہ کالم زیر نظر ہے۔ وہ اپنے دوست ریٹائرڈ پولیس افسر میر زبیر محمود کی صاحبزادی کی شادی کے لیے کراچی گئے تھے،یہی روداد ان کے کالم بعنوان ”بس ذرا کراچی تک“ کا موضوع ہے: اس میں بھی انہوں نے نوازشریف کی مذمت کا پہلو نکال لیا: اور اس کے لیے سید غوث علی شاہ کو ذریعہ بنایا اگرچہ وہ ”یہ کہانی اس سے پہلے بھی کئی بار بیان کرچکے ہیں۔ لیکن نوازشریف کی مذمت جتنی بار بھی کی جائے کم ہے۔فرماتے ہیں: اسی دوران کسی نے میرے کندھوں پر ہاتھ رکھا۔ مڑ کر دیکھا تو سابق وزیر اعلیٰ سندھ غوث علی شاہ کھڑے تھے۔ ان سے لندن میں 2007میں نوازشریف کی جلا وطنی کے دوران روزانہ ڈیوک سٹریٹ پر ملاقات ہوتی تھی۔ ایک دن انہوں نے ہم چند صحافیوں سے کہا، دیکھ لیں نوازشریف نے چپکے سے سعودی عرب کی فلائٹ لے لی۔ وہ ساتھ والے سیل میں قید تھے، لیکن انہیں ہوا تک نہ لگنے دی۔ میں نے مذاقاًکہا،شاہ جی! آپ ہمارے سامنے بات کرتے ہیں، کبھی نوازشریف کے منہ پر بھی کہاہے؟ وہ چپ کر گئے۔ اگلے دن جب دربار لگا تو ان کی مجھ پر نظر پڑی۔ اور موقع دیکھ کر نوازشریف کوکہا، سائیں آپ نے تو ڈیل کرلی تھی۔ اتنے بڑے جہاز میں ہمارے لیے کوئی سیٹ نہ تھی۔ ہمیں بھی لے جاتے، کیا فرق پڑجانا تھا؟ دفتر میں خاموشی چھا گئی تھی۔ نوازشریف نے بات دل میں رکھی اور وزیر ا عظم بننے کے بعد غوث علی شاہ کو قریب تک نہیں پھٹکنے دیا۔ صدر بنایا تو ممنون حسین کو، گورنر بنایا تو کسی اور کو۔پہلی بات تو یہ کہ جلا وطنی کا اہتمام صرف شریف فیملی کے لیے تھی۔ دہشت گردی عدالت کے جج رحمت حسین جعفری نے مشرف کے تما م تر دباؤ کے باوجود نواز شریف کوموت کی بجائے قید کی سزا سنائی تو حکومت ہائی کورٹ میں اپیل میں چلی گئی۔ مشرف ہر صورت نوازشریف کو سزائے موت پر تلا ہوا تھا۔ ایسے میں سعودی ولی عہد عبداللہ بن عبدالعزیزبروئے کار آئے۔ ان کے بقول،”ہمارے دوست کی گردن تلوار کے نیچے تھی، ہم اسے بچا کے لے آئے“۔صرف غوث علی شاہ ہی نہیں، طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں، شہبازشریف سمیت، میاں صاحب کے کئی اور رفقا بھی قید تھے، مثلا شاہد خاقان عباسی، سیف الرحمن اور سرکاری افسران میں سید سعید مہدی اور رانا مقبول۔اس کے علاوہ مہتاب عباسی، پرویز رشید ارو جاوید ہاشمی وغیرہ بھی زیر عتاب تھے، ان میں سے کسی نے گلہ نہیں کیا کہ میاں صاحب انہیں ساتھ کیوں نہ لے گئے؟ یہ تمام پاکستان ہی میں رہے اور ڈٹ کر ڈکٹیٹر کا مقابلہ کرتے رہے۔ البتہ غوث علی شاہ صاحب نے چودھری شجاعت حسین کے ذریعے ریلیف حاصل کیا اور لندن چلے گئے۔
میاں صاحب نے اپنے دور اقتدار میں بزرگ سندھی لیڈر کا پورا خیال رکھا۔انہیں ان کے مقام ومرتبہ کے مطابق حکومت میں اہم مناصب بھی دیئے۔ 1985سے 1988تک سندھ کی وزارت اعلیٰ تو جنرل ضیاء الحق کی نظر عنایت کا نتیجہ تھی لیکن ستمبر1991سے جولائی 1993تک وزیر دفاع اور 25فروری 1997سے 18جون 1999تک وفاقی وزیر تعلیم کے منصب پر، وہ وزیر اعظم نوازشریف ہی کا انتخاب تھے۔19جون سے12اکتوبر1999 تک وہ سندھ کے معاملات پر وزیر اعظم کے مشیر رہے، اس حیثیت میں انہیں وزیر اعلیٰ کے اختیارات اور وفاقی وزیر کا درجہ حاصل تھا۔ 2013میں قومی اسمبلی کا الیکشن وہ ہار گئے، ورنہ میاں صاحب کی تیسری وزارت عظمیٰ میں بھی کسی اہم وزارت پر فائز ہوتے۔ باقی رہی یہ بات کہ صدر بنایا تو ممنون حسین کو، گورنر بنایا تو کسی اور کو۔۔۔۔تو کیا سرکاری مناصب پر کسی اور وفادار اور باصلاحیت فرد کا حق نہیں تھا؟ قومی اسمبلی کا الیکشن ہارے ہوئے شاہ صاحب کو صدارت یا گورنری کا منصب سونپنا کیا اچھا لگتا؟ بلکہ زیادہ صحیح الفاظ میں کیا اس سے خود شاہ صاحب کی عزت میں اضافہ ہوتا؟
کالم نگار مزید فرماتے ہیں: میں نے کہا سائیں نوازشریف نے کیوں یہ سلوک کیا آپ کے ساتھ؟ ہنس کر بولے: سائیں چھوڑیں بعض لوگوں کو عزت دار لوگ راس نہیں آتے۔ تو کیا میاں صاحب کی پہلی دونوں حکومتوں کا اہم حصہ ہوتے ہوئے شاہ صاحب ”عزت دار“ نہیں تھے؟اور یہ بھی کہ آج کے مشکل دور میں جو لوگ میاں صاحب کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ عزت دار نہیں۔۔۔؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *