اندھیر نگری، چوپٹ راجا!

24جولائی کو امید کے مطابق بورِس جونسن برطانیہ کے نئے وزیر اعظم بن گئے۔ اس سے کسی کو نہ حیرانی ہوئی اور نہ ہی پریشانی ہوئی۔ کیونکہ جب سے تھریسا مے نے وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا تبھی سے چند ناموں میں بورِس جونسن کا نام سر فہرست تھا۔دراصل بورِس جونسن منتخب نہیں ہوئے بلکہ یوں کہا جائے کہ انہیں نامزد کیا گیا ہے تو مبالغہ نہیں ہوگا۔
اگر صرف بورِس جونسن کے بارے میں بات کی جائے تو شاید میں ان باتوں کو نہیں لکھ پاؤں گا جو اہم ہے۔ پھر بھی میں کوشش کرتا ہوں کہ بورِس جونسن کا مختصر خدو خال آپ کے سامنے پیش کروں۔ بورِس جونسن کو اگر دیکھنے کا اتفاق ہو تو سب سے پہلے آپ ان کے سنہرے زلف سے محظوظ ہوں گے۔ یا آپ یہ سوال کریں گے کہ اس آدمی کا بال اصلی ہیں یا نقلی۔ویسے ان کے بال نہ تو اچھے لگتے ہیں اور نہ ہی برے دِکھتے ہیں۔ اس کے بعد سڈول جسم جو ایک ہندوستانی یا پاکستانی ڈھول کی مانند لگتا ہے۔ یعنی گول مٹول جسم اور جسے دیکھ کر ڈھول کی طرح پیٹنے کو جی چاہتا ہے۔بات کرنے کا انداز نرالا نہ کہہ کر عجیب کہنا مناسب ہوگا۔ بس جو منھ میں آیا بک دیا۔ اب اس کا نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو۔
حضرت لندن کے ایک معروف اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں جس کی عوض میں انہیں £5000پونڈ ہر ہفتے ملتا ہے۔ کاش ہمیں بھی کالم لکھنے کے عوض میں پانچ انگلیوں والے ہاتھ سے سلام ہی نصیب ہوجاتا۔ ظاہر سی بات ہے انگریزی زبان کی قدر اور قیمت اتنی زیادہ ہے کہ ہماری اردو زبان اس کے مقابلے میں مفت میں لوگوں کو تہذیب و تمدن اور سلیقہ سکھاتی رہتی ہے۔ تو پھر کون اس کا معاوضہ دینا چاہے گا۔
برطانیہ میں (Brexit) بریکسِٹ کے بعد سے ہی پورا ملک ایک عجیب و غریب الجھن میں پھنسا ہوا ہے۔ ابھی حالات اس حد تک ساز گار نہیں ہوئے ہیں۔ برطانیہ کی سابق وزیر اعظم تھریسا مے نے اپنی پوری کوشش کی تھی کہ کسی طرح برطانیہ کے لوگوں اور دنیا والوں کو یقین دلائیں کہ برطانیہ یورپ سے نکل کر بھی ایک مستحکم اور مضبوط معیشت والا ملک ہے۔ لیکن ہائی کورٹ نے حکومت کو یہ آرڈر دے ڈالا کہ (Brexit)بر یکسٹ کی کاروائی کی پارلیمنٹ سے منظوری لی جائے۔اس فیصلے میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ (Brexit)بر یکسٹ کے سلسلے میں پارلیمنٹ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ برطانیہ کو یورپ چھوڑنے کی تاریخ کب اور کس طرح مقرر کرنی چاہئے۔یہ کیس جینا میلر ایک انوسٹمنٹ منیجر نے (Brexit)بر یکسٹ کی کاروائی اور حکومت کے خلاف دائر کیا تھا۔ جس کا نتیجہ آتے ہی برطانیہ کی سیاست میں ایک بار پھر بھونچال سا آیا ہواہے اور جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

یوں تو برطانیہ کی سیاسی صورتِ حال کا اندازہ لگانا کافی مشکل ہورہا ہے کیونکہ) (Brexitبر یکسٹ کے بعد تمام سیاسی پارٹیاں ریفرنڈم کے نتیجے سے برہم ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ جن میں ایک وجہ معیشت ہے جس سے بزنس کمیونٹی کافی نروس ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ ایک طبقہ اس بات سے پر امید ہے کے (Brexit)بر یکسٹ سے ملک کی حالت بہتر ہوگی اور امیگریشن پر کنٹرول ہوگا۔
لیکن ایک شخص جس کا نام نائجل فراج ہے اور جسے نسل پرست اور برطانوی سیاست میں تمام الجھنوں کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ نائجل فراج نے پہلے(UKIP) یو کِپ پارٹی بنا کر بریکسِٹ کی حمایت میں مہم چلا کر ریفرنڈم میں اپنی جیت حاصل کی۔اُس وقت یوکِپ پارٹی نے کہا تھا کہ یوروپین یونین ایک ’پیاسا ویمپائر‘ ہے جو برطانیہ کا خون چوس رہا ہے۔ یوکِپ پارٹی کی اُس مانگ کو مضبوط کرتی ہے جس میں برطانیہ کو یوروپین یونین سے الگ کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔یوکِپ کے لیڈر نائیجل فراج نے کہا کہ برطانیہ ان دنوں یوروپین یونین کو £55میلین پونڈ روزانہ اپنی ممبر شپ کی فیس بھرتا ہے جس کی کوئی اور صورت نہیں ہے۔ نائجل فراج نے ہمیشہ برطانوی سیاستدانوں پر الزام لگا یا ہے کہ یوروپین یونین برطانیہ پر حکومت چلا رہی ہے جس سے عوام میں کافی ناراضگی ہے۔
اُن دنوں بورِس جونسن بھی برطانیہ کو یوروپین یونین سے نکالنے کی حمایت میں کافی زور و شور سے مہم چلائی تھی۔بورِس جونسن کو اپنے مقصد میں کامیابی تو مل گئی لیکن انہوں نے تھریسا مے کے خلاف لیڈر شپ مقابلے سے کوئی دلچسپی نہیں دِکھائی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ توقع کے خلاف تھریسامے بلا مقابلہ برطانیہ کی نئی وزیراعظم بن گئی۔ تاہم تھریسا مے نے خلافِ توقع بورِس جونسن کو خارجہ سیکریٹری کے لئے اپنی کابینہ میں شامل کر لیا۔ لیکن بورِس جونسن اپنی منفرد عادت اور متنازعہ بیانات سے محض دوسال ہی تھریسامے کے ساتھ رہ پائے اور جولائی 2018
میں بریکسِٹ معاملے کو لے کر انہوں نے خارجہ سیکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
بورِس جونسن کا پورا نام (Alexander Boris de Pfeffel Johnson)الیزانڈر بورِس ڈی پیفیفل جونسن ہے۔ ان کی پیدائش 19جون 1964کو ہوئی تھی۔ بورِس جونسن سب سے پہلے ہینلی سے 2001سے 2008تک ممبر پارلیمنٹ بنے۔ اس کے بعد
2015سے اکسبرج اور ساؤتھ ریسلیپ سے دوبارہ ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔2008سے 2016تک لندن کے مئیر منتخب ہوئے۔
ان کی پیدائش نیو یارک سٹی میں ایک انگریز رئیس خاندان میں ہوئی تھی۔بورِ س جونسن کی ابتدائی تعلیم پہلے براسیل کے معروف یوروپین اسکول میں ہوئی اس کے بعد لندن کے معروف ایٹن کالج میں انہوں نے اپنی مزید تعلیم مکمل کی۔بعد میں بورِس جونسن نے اعلیٰ تعلیم بالیول کالج آکسفورڈ سے حاصل کی۔ 1986میں آکسفورڈ یونین کے صدر منتخب ہوئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بورِس جونسن نے معروف انگریزی اخبار ’دی ٹائمز‘ سے بطور صحافی اپنے کئیریر کا آغاز کیا۔ لیکن انہیں ایک خبر میں دھوکہ دہی سے کام لینے کی وجہ سے برطرف کر دیا گیا۔بعد میں انہوں نے معروف اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کو جوائین کیا اور براسلز کے نمائندہ کے طور پر یوروپین یونین پر رپورٹنگ کرتے رہے۔ ان کے مضامین یوروپین یونین مخالف اور برطانوی دائیں بازو کے حامیوں کو کافی لبھاتے رہے۔
بورِس جونسن کے حمایتی انہیں ایک دل پسند،مزاحیہ اور مقبول شخصیت کے طور پر پسند کرتے ہیں۔ تاہم بورِس جونسن نے بطور لندن مئیر اپنی لیڈر شپ کا ثبوت پیش کیا تھا جو شاید ان کے وزیر اعظم بننے میں ایک اہم وجہ ہوسکتی ہے۔اس کے علاوہ بورِس جونسن کی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ بھی آئے ہیں اور وہ ہمیشہ یا تو اسے اپنے مخصوص انداز سے سنبھال لیتے یا لوگوں کو دل لگی کا سامنا مہیا کرتے۔
بورِس جون سن نے کئی بار ایسی متنازعہ باتیں کی ہیں جس سے برٹش قدروں کو دھچکا بھی پہنچا ہے۔ مثلاً ایک دفعہ انہوں نے برقعہ پہننے کے حوالے سے لکھا کہ برقعہ لیٹر بکس کی مانند ہے۔ جس کی وجہ سے ان پر سخت نکتہ چینی کی گئی تھی۔بورِس جونسن نے سعودی عرب کی یمن حملے کی بھی حمایت کی تھی اور برطانیہ کا سعودی عرب کو اسلحہ سپلائی پر پابندی لگانے سے انکار کر دیا تھا۔گویا اس طرح سے بورِس جونسن نے لاتعداد متنا زعہ مضامین لکھے اور بیان دئیے ہیں۔ جس سے برطانیہ کا ایک طبقہ ان سے کافی خوف زدہ اور نا امید ہے۔
بورِس جونسن کے وزیر اعظم بننے سے جہاں ایک طبقہ کافی پریشان اور نا امید ہے تو وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کافی خوش ہیں۔ ظاہر سی بات ہے ایک تو کریلا اس پرنیم چڑھا۔ امریکی صدر نے اپنے مخصوص انداز میں بورِس جونسن کی کامیابی پر انہیں مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ بورس کو برطانوی لوگ’بورس ٹرمپ‘ کہہ رہے ہیں۔
بورِس جونسن وزیراعظم بنتے ہی زیادہ تر نئے چہروں کو اپنی کابینہ میں شامل کیا ہے تاہم ساجد جاوید کو چانسلر (وزیر خزانہ) اور پریتی پٹیل کو ہوم سیکریٹری کا اہم عہدہ دیا گیا ہے۔ ساجد جاوید تو اپنے آپ کو نام کا مسلمان بتا کر ترقی کرتے جارہے ہیں جبکہ پرپتی پٹیل2017 میں جب (Aid Minister)ایڈ منیسٹر بنی تھی تو انہوں نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ ایک غیر قانونی میٹنگ کر کے ملک کی قومی سلامتی کے ساتھ سمجھوتہ کیا تھا جس کی وجہ سے انہیں برطرف کر دیا گیا تھا۔
خیر بورِس جونسن تو وزیر اعظم بن گئے اور دنیا کا ایک اور ملک برطانیہ بھی ان ملکوں میں شامل ہوگیا جہاں کے حکمران یا تو احمق ہیں یا چوپٹ راجہ۔ ہم سبھوں نے تو یہ محاورہ سنا ہی ہے ’اندھیر نگری،چوپٹ راجا۔ ٹکے سیر بھاجی، ٹکے سیر کھاجا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *