عوام اینڈ سنز

حضرت عیسیٰ نے بارہ حواریوں کے ساتھ آخری بار نوالہ توڑتے ہوئے کہا ’تم میں سے ایک دھوکہ دے گا‘۔

بات آئی گئی ہوگئی۔ بارہ میں سے ایک حواری جوڈا اسکریات شہر کے سب سے بڑے یہودی راہب کے پاس پہنچا اور چاندی کے تیس سکوں کے بدلے عیسیٰ کی شناخت کا سودا کر لیا۔

اور پھر رومی دستے کی رہنمائی اس باغ تک کی جہاں عیسیٰ اپنے دیگر حواریوں کے ساتھ موجود تھے۔ جوڈا نے عیسی کی پہچان کروانے کے لئے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور رومی دستے نے عیسیٰ کو حراست میں لے لیا۔

عین اس لمحے جوڈا کو احساسِ جرم نے ڈس لیا اور اس نے ندامت میں چاندی کے سکے زمین پر پھینک دیے اور وہاں سے چلا گیا۔ اور درخت سے لٹک کر خود کشی کر لی۔ مگر جوڈا کی بعد از وقت پشیمانی عیسیٰ کے کسی کام نہ آئی۔

اس واقعے کے دو ہزار برس بعد بس اتنا بدلاؤ آیا ہے کہ دھوکہ دینے والے پشیمانی میں خود کشی نہیں کرتے ۔قبلہ بدل لیتے ہیں۔

ہم روحِ سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان

کل اور کسی نام سے آ جائیں گے ہم لوگ (رضی اختر شوق)

عجب ہے کہ جس سماج میں کوئی عورت ایک کو چھوڑ دوسرا خصم کر لے تو ہر کسو کے دیدے گول گول گھوم جاتے ہیں۔

مگر اسی سماج میں اگر کوئی بااثر و نیک نام ایک پارٹی، اصول یا نظریہ چھوڑ کے دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں جتنی بھی پارٹیاں بدل کے دوبارہ پہلی پارٹی میں آ جائے تو اس کی سیاسی عصمت و غیرت و فراست کو عملاً کوئی بٹا نہیں لگتا۔

اس فعل کے لئے اردو میں بڑی اچھی سی اصطلاح بھی رائج ہو چکی ہے۔ عملیت پسندی۔

اس ملک میں ہر وقت کوئی نہ کوئی مویشی منڈی لگی رہتی ہے۔ انھی میں سینیٹ الیکشن کے نام پر ہر تین برس بعد لگنے والی بکرا پیڑھی بھی ہے۔ سنا ہے کہ ہر بار اس بکرا پیڑھی کی زمین مارے شرم کے ایک فٹ اور اپنے ہی اندر گڑ جاتی ہے۔

کسی حساس ادارے، جماعت، لیڈر، پراپرٹی ایجنٹ یا بچولئے پر انگلیاں اٹھانے سے کیا حاصل؟ کل وہ آپ کے تھے، آج کسی اور کے لئے ہیں، کل کسی اور کے ہوں گے۔

منڈی تو چلتی ہی سپلائی اور ڈیمانڈ پر ہے۔ کاروبار کے لئے لازمی ہے کہ یا آپ کے پاس ہارڈ کیش ہو یا ساکھ یا پھر دبدبہ۔

کہتے ہیں سب انڈے گندے نہیں۔ آج بھی نظریے اور اصول پر زندگی گزار دینے والے انمول لوگ باقی ہیں۔

تو کیا ہیرا منڈی میں سب ایک ہی طرح کے دھندے دار پائے جاتے ہیں؟

صادق سنجرانی

وہاں بھی تو رزقِ حلال کمانے والے ہار فروش، خوانچہ فروش، سازندے، سازوں کی مرمت کرنے والے، درزی، موچی، ریسٹورنٹس چلانے والے اور پشتینی مکانات میں رہنے کے باوجود کوئی اور نوکری یا کام کاج میں زندگی جٹا دینے والے سفید پوش رہتے ہوں گے۔

سب ان کی عزت بھی کرتے ہوں گے۔ لیکن عزت دار اس محلے کی وجہِ تعارف تو نہیں؟

یہ تماشا جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا، یہ ظلم اور مظلومیت کا تھیٹر۔ اب تو اس کے اسکرپٹ کی ایک ایک لائن بچہ بچہ گلیوں میں بولتا پھر رہا ہے۔ یہ تماشا ہے، کوئی آدرشی مقدس جنگ نہیں۔ یہ یرغمال عوام کی جسمانی و ذہنی خرید و فروخت کے دھندے کی آمدنی پر بہت سے دلالوں کی باہمی تھیٹریکل لڑائی ہے۔

قومی مفاد اینڈ کمپنی یا عوام اینڈ سنز کا بورڈ لگا دینے سے کیا دھندہ انسان دوست ہو جاتا ہے؟ دوکان میں آئیت الکرسی فریم میں ٹانگنے سے دھندے کے اصول بھی بدل جاتے ہیں کیا؟

جوڈا اسکریات زندہ ہو جائے تو اس کا شمار شائد اس عہد کے ولیوں میں ہو۔ اس نے کم ازکم دھوکے پر پشیمان ہو کر چاندی کے سکے زمین پر تو گرا دیے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *