کچھ کرنا ہوگا!

یہ بات بہرحال طے ہے کہ امریکی حکام حالیہ بھارتی اقدامات کے بارے میں ناصرف پوری طرح آگاہ تھے‘ بلکہ کشمیر کو فلسطین بنانے کی بھارتی کاوشوں میں اسی طرح معاون ہیں‘ جس طرح ایک عرصے سے وہ اسرائیل کی ہر طرح سے پشت پناہی کر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارتی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 اور اس سے جڑی ہوئی ذیلی شق 35 اے کے خاتمہ اور وادی کو مسلم اکثریت سے مسلم اقلیت میں تبدیل کرنے کی گھنائونی سازش میں مکمل طور پر شریک نظر آتے ہیں۔ اسرائیل کو مغربی کنارے پر بستیاں بسانے میں عالمی فورمز پر عددی مدد فراہم کرنے والا امریکہ اس مسئلے پر پوری طرح بھارت کی پشت پر کھڑا محسوس ہوتا ہے۔
1949ء میں کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کے معاہدے کا بنیادی جزو بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 ہے‘ جو کشمیر کو امتیازی حیثیت دیتا ہے اور وہ بھارتی اکائی میں رہتے ہوئے بھی بھارتی اکائی کا مکمل حصہ نہیں رہتا۔ دفاع‘ مواصلات اور خارجہ امور کے سوا کشمیر دیگر تمام معاملات میں خود مختار ہے۔ اپنا جھنڈا اور آئین بنا سکتا ہے اور یہ دونوں چیزیں بہرحال مقبوضہ جموں و کشمیر میں موجود تھیں۔ جموں و کشمیر کے لوگ (مع لداخ) اپنے قانون خود وضع کر سکتے تھے۔ درج بالا تین معاملات‘ یعنی دفاع‘ مواصلات اور خارجہ امور کے علاوہ دیگر کسی قسم کے بھارتی قانون کا اطلاق ریاستی حکومت کی توثیق کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ مرکزی حکومت‘ کشمیر میں مالی ایمرجنسی بھی نافذ نہیں کر سکتی تھی۔ اس خصوصی شق کے تحت بھارت ان تمام قوانین کا اطلاق مقبوضہ جموں و کشمیر پر نہیں کر سکتا تھا‘ جو وہ اپنے دیگر صوبوں میں کرتا ہے۔ اس لحاظ سے کشمیر بھارت کے عام صوبوں سے بہت مختلف حیثیت کا حامل تھا‘ جو مودی سرکار نے ختم کر دی ہے۔
1954ء میں اسی آرٹیکل 370 کی ایک ذیلی شق 35 اے نافذ العمل ہوئی‘ جو کشمیر میں رہنے والوں کو ان کا تشخص برقرار رکھنے اور تحفظ دینے کا ایک مضبوط ذریعہ تھی۔ اس شق کے تحت کشمیر کا پیدائشی شخص ہی کشمیر میں زمین اور جائیداد خریدنے کا حق رکھتا تھا اور کوئی غیر کشمیری یا کشمیر سے باہر پیدا ہونے والا شخص کشمیر میں جائیداد‘ زمین یا کاروبار کے لیے کوئی عمارت وغیرہ نہیں خرید سکتا تھا۔ یہ کشمیر میں کشمیریوں کو احساسِ تحفظ بھی دیتا تھا اور آرٹیکل کی یہ شق کشمیر میں اور خصوصاً وادی میں رہنے والے کشمیری مسلمانوں کی عددی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کے آگے ایک بہت بڑی رکاوٹ بھی تھی اور کشمیری مسلمانوں کو تحفظ اسی شق کے تحت حاصل تھا‘ وگرنہ بھارتی سیٹھ اور بنیا‘ وادی میں زمین اور جائیداد خرید کر وہاں مالک بن کر بیٹھ جاتا اور کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ وہی تاریخ دہرائی جا چکی ہوتی‘ جو پیسے والے یہودیوں نے فلسطین میں رقم کی۔ پیسے والے ہندو ہزار بار چاہنے کے باوجود محض اس آرٹیکل کی وجہ سے کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ وہ کچھ نہیں کر پا رہے تھے‘ جو یہودیوں نے فلسطین میں مسلمانوں کے ساتھ کیا‘ لیکن اب کشمیر کو پہلے مرحلے پر فلسطین اور دوسرے مرحلے پر کشمیریوں کو ''غزا کی پٹی‘‘ میں دھکیلنے کا منصوبہ نا صرف زیر غور ہے‘ بلکہ اس پر عمل درآمد کے لیے پوری منصوبہ بندی بھی ہو چکی ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ کئی روز قبل اپنے اس ارادے کے بارے میں امریکہ کو آگاہ بھی کر چکے تھے اور Go ahead کا سگنل بھی لے چکے تھے۔ اطلاع ہے کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو اس منصوبے کے بارے میں پیشگی اطلاع بھی کر دی تھی اور امریکی رضا مندی بھی حاصل کر لی تھی۔ یہ کسی طور ممکن نہیں کہ امریکہ‘ بھارت کو اس سلسلے میں واضح طور پر منع کرتا اور مودی سرکار اس سے سرتابی کرتی۔ بھارت اور امریکہ میں آج کل جو گاڑھی چھن رہی ہے‘ اس کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ دونوں ممالک اس سازش میں برابر کے شریک ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ امریکہ جس وقت بھارت کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35اے کے خاتمے کی منظوری دے رہا تھا‘ اسی وقت پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ثالثی کی پیشکش کی گولی بھی دے رہا تھا۔ دوسرے لفظوں میں وہ بیک وقت بھارت کو آشیرباد اور پاکستان کو غچہ دے رہا تھا۔
ایک دوست سے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان امریکی ثالثی کی پیشکش کی بات ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ اوّل تو بھارت کسی صورت میں یہ ثالثی قبول نہیں کرے گا کہ اس ثالثی کو قبول کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی تنازعہ ہے اور بھارت اسے متنازعہ علاقہ یا متنازعہ مسئلہ تسلیم کرتا ہے۔ یہ بھارت کے دیرینہ مؤقف سے انکار ہوگا کہ بھارت کشمیر کو اپنا اندرونی مسئلہ سمجھتا ہے اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ امریکی پیشکش قبول کرنے سے یہ دونوں مؤقف ختم ہو جاتے۔ کم از کم نریندر مودی تو تسلیم نہیں کریں گے کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی متنازعہ مسئلہ ہے اور اس پر گفتگو اور خاص طور پر امریکی ثالثی میں کی جائے۔ اور ہاں! اگر یہ کسی طور ممکن ہو جائے اور بھارت واقعتاً اس امریکی ثالثی پر آمادہ ہو جائے تو پھر آپ یہ یقین رکھیں کہ مودی سرکار آپ سے مقبوضہ جموں و کشمیر پر نہیں بلکہ ادھر والے کشمیر پر بات کرے گی کہ اس کے نزدیک وہ درست ہے‘ حالانکہ تاریخی حقائق کچھ اور ہیں۔ بھارت‘ جس دن عالمی ثالثی میں کشمیر کے مسئلے پر گفتگو کے لیے تیار ہوا‘ وہ وادیٔ کشمیر کی بجائے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے بارے میں سوال اٹھائے گا اور اس پر اپنا دعویٰ اور حقِ ملکیت جتائے گا۔
کل سے ہر ملنے والا صرف ایک ہی سوال کر رہا ہے کہ پاکستان کیا کرے گا؟ کیا کرنا چاہیے اور کیا کر سکتے ہیں؟ گزشتہ سے پیوستہ روز کا اسمبلی کا اجلاس دیکھنے کے بعد تو میرا جواب ہے کہ پہلا کام تو یہ کرنا ہو گا کہ قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ حکومت اور اپوزیشن کو سینیٹ جیسے واقعات کو وقتی طور پر ایک طرف رکھ کر مشترکہ سوچ اختیار کرنا ہو گی۔ ایک بات طے ہے کہ یہ مسئلہ محض قراردادوں سے‘ مذمتوں سے‘ دعائوں سے اور سڑکوں پر جلوسوں سے نہ تو حل ہو گا اور نہ ہی اس کا کوئی نتیجہ نکلے گا؛ حتیٰ کہ یہ مسئلہ او آئی سی کے بس سے بھی باہر ہے کہ دھنیا مارکہ یہ تنظیم کس طاقت اور اہمیت کی حامل ہے؟ یہ اپنوں کو بھی علم ہے اور غیروں کو بھی پتا ہے۔ اس مسئلے پر کوئی عرب ملک کھل کر آپ کا ساتھ نہیں دے گا کہ وہ تو فلسطین کے مسئلے پر بھی خود کچھ کرنے کی بجائے آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔ وہ نہ اسرائیل کے بارے میں کوئی سخت بات کہتے ہیں کہ امریکہ بہادر ناراض نہ ہو جائے۔ نہ ہی وہ بھارت کو ناخوش کر سکتے ہیں۔ چین علاقہ پارٹنر ہے۔ سو‘ اس کو جغرافیائی مسائل کے باعث اس مسئلے سے دلچسپی بھی ہے اور کنسرن بھی۔ لے دے کر ایک ترکی ہے‘ لیکن بھارت اس کی پروا کیوں کرے گا؟ فوجی حل بھی شاید ممکن نہیں ہے۔ باقی اللہ پوچھے جنرل پرویز مشرف سے‘ جس نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی علاقے میں لگائی جانے والی باڑ پر اس دوران آنکھیں بند کئے رکھیں۔ یٰسین ملک کے بارے میں جو افواہ ہے‘ خدا کرے کہ وہ افواہ ہی ہو۔ لے دے کر ایک ضعیف العمر ناقابلِ یقین حد تک بہادر اور پیکرِ استقلال سید علی گیلانی ہیں‘ جو آہ و پکار بھی کر رہے ہیں اور مزاحمت بھی‘ لیکن کب تک؟ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو سہولت فراہم کرنے کی غرض سے عمران خان کے دورۂ امریکہ سے قبل حافظ سعید کو بھی گرفتار کروا دیا تھا‘ تاکہ ''سنجیاں ہو جان گلیاں‘ تے وچ مرزا یار پھرے‘‘۔
لیکن انسانی تدبیروں سے اوپر بھی فیصلہ کرنے والی ایک طاقت ہے‘ جو طاقت اور تکبر کو سرنگوں کرتی ہے اور کمزور و ناتواں کو حوصلہ اور سرفرازی عطا کرتی ہے‘ لیکن صرف اور صرف مذمت کاری‘ احتجاج‘ قرارداد‘ ٹیلی فون‘ اجلاس‘ جلوس اور دعا سے کچھ نہیں بنے گا۔ اس سے آگے جانا ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *