ناروے مسجد حملہ: ملزم کی عدالت میں پیشی،

ناروے کے دارالحکومت اوسلو کی عدالت میں 21 سالہ شخص کو پیش کیا گیا جس پر دس اگست کو اوسلو شہر کے نزدیک ایک مسجد پر حملہ کرنے اور 'دہشت گردی' کے الزامات عائد ہیں۔

فلپ مانشاؤس نامی شخص کے چہرے اور گردن پر چوٹوں اور خراشوں کے نشانات تھے۔ مسجد پر حملے کے علاوہ اس پر اپنی سوتیلی بہن کو قتل کرنے کا بھی الزام ہے۔

سرکاری وکلا اس کی حراست کی معیاد مزید چار ہفتے بڑھانا چاہ رہے ہیں۔

بند عدالتی کمرے میں داخل ہونے سے قبل فلپ مانشاؤس نے وہاں موجود فوٹوگرافرز کی جانب مسکرا کر دیکھا جس کے بعد وہ عدالت میں داخل ہو گیا اور جج نے کارروائی کا آغاز کر دیا۔

فلپ مانشاؤس پر الزام ہے کہ اس نے ہفتے کے روز اوسلو شہر کے نزدیک علاقے بائروم میں واقع النور اسلامک سینٹر پر فائرنگ کی تھی۔

اوسلو

النور اسلامک سینٹر

اس واقع کے بعد بائروم میں ہی ایک مکان سے ایک 17 سالہ لڑکی کی لاش ملی جو فلپ مانشاؤس کی سوتیلی بہن تھی۔

مسجد میں حملے کے وقت تین لوگ موجود تھے اور جتنی دیر میں پولیس وہاں پہنچی، ان افراد نے حملہ آور پر قابو پا لیا تھا۔

مسجد کے ڈائریکٹر نے کہا کہ حملہ آور عمارت میں ہیلمٹ اور بلٹ پروف جیکٹ پہنا ہوا تھا اور اس کے پاس کئی ہتھیار تھے۔ متعدد گولیاں چلانے کے باوجود مسجد میں موجود کوئی شخص زیادہ زخمی نہیں ہوا۔

خبروں کے مطابق 65 سالہ محمد رفیق پاکستان فضائیہ کے ریٹائرڈ اہلکار ہیں جو کہ حملے کے وقت مسجد میں موجود تھے اور انھوں نے حملہ آور پر قابو پا لیا تھا۔ ان کے اس عمل پر ان کی وہاں بہت تعریف کی جا رہی ہے۔

پیر کو جب ملزم کو اوسلو کی ڈسٹرکٹ عدالت میں پیش کیا گیا تو سرکاری وکلا نے اس کی حراست میں لی گئی مدت میں چار ماہ کے اضافے کی درخواست کے علاوہ اس سے ملاقاتوں اور میڈیا کوریج دونوں پر پابندی کا بھی کہا۔

اوسلو

پاکستان فضائیہ کے ریٹائرڈ اہلکار محمد رفیق جنھوں نے حملہ آور کو قابو میں کر لیا تھا

ملزم کی وکیل انی فرائس نے اپنے موکل کے حوالے سے بتایا کہ وہ خود پر لگائے گئے تمام الزامات مسترد کرتا ہے اور وہ تفتیش کاروں سے بات نہیں کر رہا۔

پولیس نے کہا ہے کہ ان کو شک ہے کہ ملزم انتہائی دائیں بازو اور پناہ گزین مخالف خیالات کا حامی ہے۔ مسجد پر حملے سے قبل انٹرنیٹ فورم 'اینڈ چین' پر اسی نوعیت کا پیغام شائع کیا گیا تھا جس پر شبہ ہے کہ وہ فلپ مانشاؤس کی جانب سے تھا۔

اینڈ چین ویب سائٹ کے منتظمین نے کہا ہے کہ انھوں نے اس پیغام کو حذف کر دیا ہے۔

اُس پیغام میں مارچ میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد میں ہونے والے حملہ آور برینٹن ٹرانٹ کا ذکر تھا جس پر 51 افراد کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔

واضح رہے کہ آٹھ سال قبل ناروے کے ایک نازی خیالات کے حامی شہری نے 77 افراد کو قتل کر دیا تھا۔

مجرم اینڈرس برئیی وک کو اس واقعے پر 21 سال کی جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *