آرٹیکل 370 اور کشمیر پر ٹویٹس کے بعد عاطف اسلم، ہما قریشی کی سوشل میڈیا پر ٹرولنگ

انڈین فلم انڈسٹری میں سیاست کا رنگ کتنی تیزی سے چڑھ رہا ہے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ عام انتخابات ہوں یا پھر کوئی بھی بڑا یا چھوٹا سیاسی فیصلہ شوبز میں اس کی گونج صاف سنائی دیتی ہے۔

حال ہی میں انڈین حکومت نے آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ اس شق کے تحت انڈیا کے زیر انتظام ریاست جموں و کشمیر کو نیم خود مختار حیثیت اور خصوصی اختیارات حاصل تھے۔

اب جن لوگوں نے اس فیصلے کے حق میں رائے دی سوشل میڈیا پر ان کو تھپکی دی گئی اور جنھوں نے زرا ہٹ کے بات کی تو انھیں بری طرح ٹرول کیا گیا۔

ان میں سب سے پہلا نمبر پاکستانی گلوکار عاطف اسلم کا تھا جنھوں نے حج پر جانے سے پہلے اپنے فینز کے لیے ایک ٹویٹ پوسٹ کی اور ساتھ ہی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے لوگوں کے ساتھ اظہار ہمدردی بھی کیا جس پر عاطف کی خوب ٹرولنگ کی گئی۔

عاطف اسلم

عاطف تو چلو پاکستانی ہیں، سوچیں ایسے خیالات کا اظہار کرنے والے انڈین افراد کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا

عاطف کا تعلق تو چلو پاکستان سے ہے لیکن سوچیے ان لوگوں کے ساتھ کیا ہوا ہوگا جو انڈین ہیں اور بلا ہچکچاہٹ اپنی رائے ظاہر کر رہے ہیں، ان میں اداکارہ ہما قریشی اور انکے بھائی ثاقِب سلیم شامل ہیں۔

ہما قریشی نے اپنی ٹویٹ میں صرف اتنی درخواست کی کہ ایسے حساس وقت میں محتاط انداز میں کمنٹس کریں۔ انھوں نے لکھا ’آپ کو وادی میں کشمیری مسلمانوں یا کشمیری پنڈتوں کی زندگی یا خون خرابے کا کوئی اندازہ نہیں اس لیے برائے مہربانی غیر ذمہ دار باتیں نہ کریں اور خود کو ان لوگوں کی جگہ رکھ کر دیکھیں۔‘

ہما کی اس ٹویٹ کے بعد انھیں تو ٹرول کیا ہی گیا ساتھ ہی ان کے بھائی ثاقب سلیم کو پاکستان جانے کا مشورہ بھی دے دیا گیا۔

ہما قریشی

ہما قریشی نے اپنی ٹویٹ میں صرف اتنی درخواست کی کہ ایسے حساس وقت میں محتاط انداز میں کمنٹس کریں

جواب میں ثاقب نے لکھا ’مجھے اپنے وطن سے محبت ہے اور اگر کہیں کچھ غلط ہو رہا ہے تو میں سوال کرونگا۔ اگر آپکو اس سے کوئی مسئلہ ہے تو یہ آپکی پریشانی ہے۔ آپ مجھے پاکستان بھیجنے کی کوشش نہ کریں میں جہاں ہوں ٹھیک ہوں۔‘

دوسری جانب انوپم کھیر جیسے فنکاروں نے ایسے موقع پر مودی حکومت کی تعریفوں کے پل باندھے اور اسے تاریخی کامیابی قرار دیا۔

ایک طرف اس بل کے خاتمے کے حق اور مخالفت میں بحث جاری ہے تو دوسری جانب فلسمازوں کو اس موضوع کو کیش کرانے کا موقع مل گیا اور ایک ساتھ کئی فلسماز آرٹیکل 370 کے ٹائٹل کو رجسٹر کروانے کی دوڑ میں لگ گئے ہیں۔

پرینیتی چوپڑہ

جب پرینیتی چوپڑہ کی فلمیں فلاپ ہوتی جا رہی تھیں تو وہ نہ لوگوں سے ملتی تھیں اور نہ اپنے گھر والوں سے بات کرتی تھیں

ڈپریشن پر توجہ دینے کی ضرورت

دپیکا پادوکون کے بعد اب اداکارہ پرینیتی چوپڑہ نے بھی ایک چیٹ شو میں بتایا ہے کہ ایک زمانے میں وہ ڈپریشن کا شکار تھیں اور دن بھر روتی رہتی تھیں۔

پرینیتی کہتی ہیں کہ ایک تو ان کی فلمیں فلاپ ہوتی جا رہی تھیں اور دوسرے کسی نے انکا دل توڑا جس کے بعد انھوں نے سب سے تعلق ختم کر لیا تھا، نہ وہ لوگوں سے ملتی تھیں اور نہ اپنے گھر والوں سے بات کرتی تھیں۔ پرینیتی کہتی ہیں کہ وہ کسی زومبی کی طرح ہو گئی تھیں۔

اس سے پہلے دپیکا نے ڈپریشن سے متعلق اپنے تجربے لوگوں کے ساتھ شیئر کیے تھے جس کے بعد سے ڈپریشن جیسا سنگین مسئلہ موضوع بحث بنا اور لوگوں میں بیداری پیدا ہونی شروع ہوئی کہ یہ ایک ذہنی بیماری ہے جس پر فوری توجہ ضروری ہوتی ہے۔

توجہ سے یاد آیا کہ پاکستانی اداکارائیں ماورا حسین اور عروا حسین نے ڈپریشن کا زبردست علاج تجویز کیا ہے۔ ان دونوں بہنوں کا کہنا ہے کہ ہم جو کچھ کھاتے ہیں اس کا اثر ہماری ذہنی کیفیت پر ہوتا ہے۔ لگتا ہے کہ یہ دونوں بہنیں کہنا چاہ رہی تھیں کہ دل کا نہیں بلکہ دماغ کا راستہ پیٹ سے ہو کر جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *