اِب کے مار!

'اِب کے مارا تو چھوڑوں گا نہیں'۔

ہم غصے میں پاگل ہیں۔ انڈیا نے بھی تو اس بارحد ہی کر دی کشمیر کو ہڑپ کر لیا۔ ہم نے بھی جواباً یوم آزادی پر انڈین مٹھائی قبول نہ کر کے وہ تھپڑ مارا ہے کہ انڈیا صدیوں یاد رکھے گا۔

سب سے زیادہ غصے میں سابق کشمیری مجاہد شیخ رشید ہیں جنہوں نے ردعمل کے طور پر سمجھوتہ ٹرین بند کر دی ہے۔ یہ وہ کاری وار ہے جو بھارت سہہ نہیں سکے گا اور چند ہی دن میں وزیراعظم مودی سر جھکائے قبلہ شیخ صاحب کے حضور پیش ہوں گے کہ انھیں ماضی کے اقدامات کی معافی دے دی جائے اور سمجھوتہ ٹرین کھول کر ان کی عزت بحال کی جائے وگرنہ ان کے لیے حکومت چلانا مشکل ہو جائے گا۔

ذاتی طور پر میں خود بڑا غصیلا ہوں، میں نے خود بھی مودی کو پیغام بھیج دیا ہے کہ اِب کے مارا تو ذاتی طور پر لڑوں گا۔ بھارتی ہمارے غصے کو جانتے ہیں۔ ماضی میں تو ہم سے ڈرتے بھی تھے مگر ہم نے اِب کے مار کہہ کے ان کا ’جھاکا' کھول دیا ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک زمانے میں لکھنؤ کے اردو بولنے والوں کا ’اِب کے مار‘ کہہ کر مذاق اڑایا جاتا تھا۔ مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ بزدل ہیں، لڑاکے نہیں ہیں۔ انھیں تھپڑ بھی پڑ جائے تو ردعمل صرف یہ کہہ دیتے ہیں کہ اِب کے مار۔

کچھ ایسا ہی حال اس بار ہمارا کشمیر ہڑپ ہو جانے پر ہے۔ نہ ہماری کوئی حکمت عملی نظر آ رہی ہے اور نہ کچھ سوجھ رہا ہے کہ انڈیا کو جواب کیا دیں؟ بس ہمارا گزارا اسی پر ہے کہ ’اِب کے مار‘۔

سچ تو یہ ہے کہ کشمیریوں نے اپنی بے مثال جدوجہد سے دنیا پر یہ ثابت کر دیا تھا کہ ان کا اور انڈیا کا اکٹھے گزارا نہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ دنیا میں اس وقت کوئی بھی عالمی ادارہ یا لیڈر ایسا نہیں جو بین الاقوامی معاملات کا درد رکھتا ہو۔ ہر ایک کو اپنے مفادات کی پڑی ہے۔ ٹرمپ ہو یا پوتن کوئی بھی اپنے ملکی مفادات کے تنگ دائرے سے باہر نکلنے کو تیار نہیں۔

شاہ محمود قریشی

شاہ محمود قریشی کہہ رہے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے عوام احمقوں کی جنت میں نہ رہیں

ایک زمانہ ایسا تھا جب آزادی اور خودمختاری کی تحریکوں کو دنیا بھر سے اخلاقی حمایت ملا کرتی تھی۔ آئرلینڈ اور فلسطین کی آزادی کو دنیا بھر میں عوامی حمایت حاصل تھی۔ ان دونوں تحریکوں کی خاص بات یہ تھی کہ تحریک کی قیادت سیاسی ہاتھوں میں تھی جبکہ مزاحمتی تنظیمیں پس پردہ رہ کر کام کرتی تھیں۔

کشمیر میں سیاست اور مزاحمت کاری میں وہ ہم آہنگی کم رہی ہے اور قیادت مزاحمت کاروں کے ہاتھ میں رہی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس طرح کشمیر میں انڈیا غیر مقبول ہو چکا ہے حریت کانفرنس فقید المثال انتخابی کامیابی حاصل کرتی، دہلی جا کر مظاہرے کرتی مگر اس مقبول عام سیاسی راستے پر کام نہیں کیا گیا۔

دوسری طرف پاکستان کی کشمیر پر خارجہ پالیسی مکھی پر مکھی مارنے کے مترادف رہی ہے۔ کیا کسی نے سوچا تھا کہ اگر وزیراعظم مودی نے کشمیر کو ہڑپ کرنے کا فیصلہ کیا تو ہمارا جواب کیا ہو گا۔ اب وزیر اعظم اپوزیشن سے پوچھ رہے ہیں کہ آپ بتائیں ہم کشمیر پر کیا کریں۔ کیا باقی فیصلے اپوزیشن سے پوچھ کر کر رہے ہیں جو یہ فیصلہ ان کی مرضی سے کریں گے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی خارجہ پالیسی کے بادشاہ بنے ہوئے تھے۔ اب حال یہ ہے کہ انھیں بلاول اور اقبال ظفر جھگڑا کی ضرورت پڑ گئی ہے اور ان کا وفد بنا کر نماز عید پڑھنے مظفرآباد گئے۔ کہاں گئی وہ بڑی بڑی باتیں، وہ بڑے بڑے دعوے۔

کہاں تو آپ ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کے بیان پر بھنگڑے ڈال رہے تھے اور کہاں اب یہ دست سوال دراز کر رہے ہیں کہ ہمیں بتائیں کیا کریں۔ کیا واقعی حکومت کشمیر کی صورتحال پر آؤٹ آف آئیڈیاز ہو چکی ہے اور 'اِب کے مار' کہہ کر اپنی خفت مٹانے کی کوشش میں ہے۔

گذشتہ 72 سالوں سے مسئلہ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا پہلا نکتہ رہا ہے۔ قائد اعظم نے اسے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، قائد ملت لیاقت علی نے کشمیر ہی کے مسئلے پر بھارت کو مکا دکھایا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کشمیر کاز کے چیمپیئن تھے، بینظیر بھٹو نے تحریک آزادی کشمیر کا بھرپور ساتھ دیا۔

کشمیر کی صورتحال پر احتجاج

وزیراعظم عمران سے کچھ بھی نہیں بن پڑتا تو بھٹو اور بینظیر جیسی جذباتی تقریریں ہی کر دیتے۔ جنرل مشرف نے کارگل کے ذریعے کشمیر کی آزادی کی ناکام کوشش کی مگر کوشش تو کی۔ ایوب خان کے زمانے میں بھی منصوبہ بندی ہوئی۔ آپریشن جبرالٹر بھی ناکام ہو اتھا مگر کچھ ہوا تو تھا۔

اب تو شاہ محمود قریشی کہہ رہے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے عوام احمقوں کی جنت میں نہ رہیں یعنی 'اِب کے مار'۔ کہاں گیا وہ شاہ محمود قریشی جو امریکی ’جاسوس'ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں حب الوطنی کے نام پر پیپلز پارٹی کی حکومت سے مستعفی ہو گیا تھا۔ کیا انڈیا کے ساتھ کشمیر کے معاملے پر کوئی ایسا بہادرانہ موقف نہیں لیا جا سکتا۔ امریکہ سے اس قدر دشمنی اور بھارت سے اس قدر معذرت خواہی۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک دوسرا سقوط ڈھاکہ ہو چکا ہے۔ خدا نہ کرے ایسا ہو مگر کیا کہیں صاف لگ رہا ہے کہ کشمیر میں فلسطینی ماڈل کے مطابق کام ہو رہا ہے اور ہم عرب دنیا کی طرح 'اِب کے مار' والی مزاحمت کر رہے ہیں۔

قومی قیادت کا امتحان آزمائش کے وقت ہی ہوتا ہے۔ کرپشن اور کشمیر میں سے ہماری پہلی ترجیح کون سی ہے، سب کو علم ہے۔ بس ہم کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے اس کے بعد کشمیر کی باری آئے گی۔

اس وقت تک جو بھی وہاں ہو رہا ہے ہوتا رہے، ہم اِب کے مار کہہ کر انڈیا کے دانت کھٹے کرتے رہیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *