امریکی عدالت نے ایرانی تیل بردار جہاز تحویل میں لینے کے وارنٹ جاری کردیے

جبرالٹر کی عدالت کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکر کو چھوڑنے کے فیصلے کے ایک روز بعد ہی امریکا کے محکمہ انصاف نے ایرانی آئل ٹینکر کو تحویل میں لینے کے لیے وارنٹ جاری کر دیئے۔

واضح رہے کہ 4 جولائی کو جبرالٹر پولیس اور برطانوی اسپیشل فورسز نے 21 لاکھ بیرل ایرانی تیل لے جانے والے جہاز 'گریس ون' کو قبضے میں لے لیا تھا، جو مشتبہ طور پر شام کو تیل فراہم کرنے والا تھا۔

امریکا کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکر کو قبضے میں رکھنے کی آخری قانونی کوشش بھی جبرالٹر کی عدالت نے مسترد کردی تھی۔

برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کی رپورٹ کے مطابق امریکی وفاقی عدالت کی جانب سے جمعے کے روز آئل ٹینکر قبضے میں لینے کے وارنٹ جاری کیے گئے۔

وارنٹ میں آئل ٹینکر اور اس میں موجود تیل کے ساتھ ساتھ ایک امریکی بینک کے اکاؤنٹ میں موجود 9 لاکھ 95 ہزار ڈالر بھی ضبط کرنے کا حکم دیا گیا جو ایرانی کمپنی پیراڈائز گلوبل ٹریڈنگ سے تعلق رکھتے تھے۔

امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ مذکورہ جہاز اور ایرانی کمپنی 'انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاور ایکٹ' کی خلاف ورزی، بینک فراڈ، منی لانڈرنگ اور دہشت گردانہ روابط میں ملوث تھی۔

وفاقی پراسیکیوٹر جیسز لو کا کہنا تھا کہ ’فرنٹ کمپنیوں کے ایک نیٹ ورک نے اس قسم کی شپمنٹ کے لیے لاکھوں ڈالرز لانڈر کیے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس میں ملوث عناصر کا تعلق ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے ہے جسے امریکا ایک بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم مانتا ہے‘۔

خیال رہے کہ جبرالٹر کی سپریم کورٹ نے امریکی کوششوں کے باوجود ایران کے تیل بردار جہاز کو چھوڑنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

جبرالٹر کے وزیر اعلیٰ فیبین پیکارڈو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران نے یقین دہانی کروائی کہ 'گریس ون، یورپی یونین کی پابندیوں والے ممالک کے لیے نہیں جائے گا، لہٰذا اب اس کی کوئی معقول وجہ نہیں بنتی کہ جہاز کو قبضے میں رکھا جائے'۔

ایرانی جہاز کو مبینہ طور پر جنگ زدہ ملک شام میں خام تیل لے جانے کے شبہ میں قبضے میں لیا گیا تھا کیونکہ یہ عمل یورپی یونین اور امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی تھی۔

تاہم اس پر جوابی ردعمل دیتے ہوئے ایران نے 19 جولائی کو آبنائے ہرمز میں برطانوی جہاز 'اسٹینا امپیرو' کو قبضے میں لے لیا تھا۔

تہران نے اپنے جہاز کے قبضے کو 'پائریسی' قرار دیا تھا اور مسلسل گریس ون کو چھوڑنے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔

ساتھ ہی اس بات پر زور دیا جارہا تھا کہ یہ تیل بردار جہاز بین الاقوامی پانیوں میں تھا اور یہ شام کی جانب نہیں جارہا تھا، جبکہ حکام کا ماننا تھا کہ برطانیہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اشارے پر جہاز کو قبضے میں لیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *