18 مشینیں ایجاد کرنے والے انڈین ڈاکٹر جگدیش چترویدی

جگدیش چترویدی ایک عام ڈاکٹر نہیں ہے وہ ہیلتھ کيئر کا کاروبار بھی کرتے ہیں۔

انڈیا کے جنوبی شہر بنگلور میں رہنے والے ڈاکٹر چترویدی نے سنہ 2010 سے اب تک 18 طبی آلات کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انھوں نے ان 18 طبی آلات میں شریک موجد کا کردار نبھایا ہے۔ یہ مشینیں انڈیا میں شعبۂ صحت کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے ارادے سے تیار کی گئی ہیں۔

جگدیش نئی نسل کے پیشہ ور لوگوں کی اس جماعت سے آتے ہیں جو کام کاج میں آنے والی مشکلات کو نہ صرف حل کرنے بلکہ اس سے پیسہ کمانے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔

سنہ 2008 میں جب ان کی تعلیم مکمل ہونے کو تھی اور ان کی طبی ٹریننگ جاری تھی اس وقت ہی جگدیش کو پہلی بار ایسا ہی ایک خیال آیا تھا۔

آج وہ ای این ٹی (آنکھ، ناک اور گلے کے ڈاکٹر) ہیں۔ جگدیش نے گاؤں میں میسر بنیادی سہولتوں کے درمیان ہی اپنے ہنر کو پروان چڑھایا۔

ایک کاروباری بننا مشکل تھا

اپنی کتاب 'انوینٹنگ میڈیکل ڈیوائسز- اے پرسپیکٹو فرام انڈیا' میں ڈاکٹر جگدیش نے لکھا: 'ہم مریضوں کی جانچ کے لیے طویل شیشے اور ہیڈ لیمپ کا استعمال کر رہے تھے جبکہ میرے ہسپتال میں فلیٹ سکرین والا ٹی وی اور کہیں جدید ٹیکنالوجی موجود تھی۔'

اس پریشانی کی وجہ سے ان کے ذہن میں ایک ایسے ای این ٹی اینڈوسکوپ کا خیال آیا جس میں ڈیجیٹل کیمرہ بھی لگا ہو۔

لیکن انھوں نے محسوس کیا کہ ڈاکٹر بننے کے مقابلے میں ایک کاروباری بننا زیادہ مشکل ہے۔

ڈاکٹر جگدیش چترویدی بتاتے ہیں؛ 'ڈاکٹر ہونا الگ بات ہے لیکن مجھے کسی مشین کو تیار کرنے کی ٹریننگ نہیں تھی۔ میں نے واقعی جدوجہد کی اور ایک ڈیزائن فرم کو اس کا لائسنس دے دیا۔

تاہم انھیں ہسپتال کے ای این ٹی ڈیپارٹمنٹ کے دیگر سینیئر ڈاکٹروں کی جانب سے بھرپور تعاون ملا۔ یہ اس لیے بھی اہم تھا کیونکہ سرمایہ کاروں کے ساتھ ملاقات کے سلسلے میں وہ ہسپتال کی تربیت نہیں کر پا رہے تھے۔

ڈاکٹر جگدیش کی غیر موجودگی میں دوسرے ڈاکٹروں کو ان کے کام کی ذمہ داری اٹھانی پڑی۔ ان کے ساتھی ڈاکٹر اس پر ناراضگی ظاہر کرتے جو کہ فطری عمل تھا۔

آلات

ڈاکٹر چترویدی کہتے ہیں کہ جب آپ نظام کا حصہ ہوتے ہیں تو ٹیکنالوجی کے لیے جگہ بنانا آسان ہو جاتا ہے

بائیو ڈیزائن

جب ڈاکٹر چترویدی کے ای این ٹی اینڈوسكوپ پر کام چل رہا تھا اسی دوران انھوں نے امریکہ کے اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں بائیوڈیزا‏ئن کی تعلیم کے لیے درخواست دی۔ اس کے لیے انڈیا کی جانب سے انھیں وظیفہ ملا تھا۔

بعد میں ڈیجیٹل کیمرے والا ان کا ای این ٹی اینڈوسکوپ سنہ 2015 میں لانچ کیا گیا۔ امریکہ سے انڈیا واپس آنے پر چترویدی نے ایک ایسی کمپنی قائم کی جس کا مقصد مارکیٹ میں زیادہ طبی آلات لانا تھا۔ وہ ایک ایسی مشین بنانا چاہتے تھے جو ’سائنس‘ کے انفیکشن میں مدد کرے۔

ان کے منصوبے میں ناک سے کچھ نکالنے والا آلہ بھی تیار کرنا تھا۔ ان سب کے ساتھ وہ سٹینڈ اپ کامیڈی کا اپنا شوق پورا کرنے کا بھی وقت نکال لیتے تھے۔

گذشتہ سال انھوں نے ایک پلیٹ فارم لانچ کیا جسے خاص طور پر ایجادات کی صنعت (نئی مشینیں، نئی ٹیکنالوجی سازی کی صنعت) میں کام کرنے والے انڈین ڈاکٹروں سے رابطہ قائم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

ڈاکٹر چترویدی کہتے ہیں کہ جب آپ نظام کا حصہ ہوتے ہیں تو ٹیکنالوجی کے لیے جگہ بنانا آسان ہو جاتا ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ ان کا ڈاکٹری چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ انھوں نے کہا: 'میں نے جو چیزیں بنائی ہیں آپ انھیں کارپوریٹ کی عینک سے نہیں دیکھ سکتے۔ انھیں ایک ڈاکٹر کی نظر سے ڈاکٹروں کے لیے ہی تیار کیا گیا ہے۔'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *