فصل گل ہے اے شہیدو تم کہاں ہو؟

کچھ سورج ایسے بھی طلوع ہوتے ہیں جو روشنی نہیں اندھیرا لاتے ہیں. ١٩ اگست ٢٠٠٨ ایسا ہی تاریک دن تھا. صبح کا سورج دعاؤں کے ساتھ طلوع ہوا. ١٥ شعبان کا روشن دن تھا. رات کو کی گئی عبادات اور دعاؤں کے بعد ہر شخص تھکاوٹ کے باوجود اپنے اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہو چکا تھا. میں بھی اپنے بچوں کے ہمراہ اپنی تدریسی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے اسکول پہنچ چکی تھی. مجھے ابھی بھی یاد ہے میں آٹھویں جماعت میں معاشرتی علوم کی کلاس لے رہی تھی جب میرے پرس میں میرا موبائل خاموش ہوتے ہوۓ بھی کسی کا پیغام آنے کا عندیہ دے رہا تھا. خاموشی میں بھی فون کی وہ آہٹ مجھے مجبور کر رہی تھی کہ میں اس پیغام کو وصول کروں. آخر کانوں کے پردوں سے میرے شوہر کی آواز ٹکرائی، "میں اور ناسک (میرا بھائی)، ڈیرہ جا رہے ہیں باسط (میرے تایا کا نواسہ) نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے شہید ہو گیا ہے." ایک معصوم بیٹی کا باپ، وہ  بیٹی جس نے بابا کی شہادت سے کچھ دن پہلے اپنی سالگرہ منائی تھی. ایک جوان بیوہ جس کے ہاتھوں کی مہندی کا رنگ بھی نہ گیا تھا اور ایک معصوم جان جو اپنی دنیا میں آئی بھی نہ تھی. یا اللہ یہ کیسے ظالم تھے جو سستی سی گولی سے قیمتی جان لے گئے.
سٹاف روم میں آ کر ڈیرہ فون کیا تو لگا کہ قیامت آگئی ہے. کانوں میں سسکیوں کی آوازیں آنے لگیں. آنکھیں پتھرانے لگیں-ہاتھوں سے فون چھوٹنے لگا. دوسری طرف سے آواز آئی، ہم لٹ گئے. باسط کی لاش لینے جانے والوں پر خود کش حملہ ہوگیا. ڈیرہ کے ہسپتال کی ایمرجنسی چاہ سید منور شاہ کے جوانوں کی مقتل گاہ بن گئی. لاش لانے والے خود ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئے.
بتانے والے نے جب یہ کہا کہ میرا بھائی بھی گیا ہوا تھا اور کوئی رابطہ نہیں ہو رہا تو میری سانسیں رک گئیں. وہ ١٥ شعبان تھی. یہی میرے بھائی کی اسلامی تاریخ پیدائش بھی ہے. امی کہتی تھیں اسی لیے نانا نے اسکے نام کے ساتھ مہدی لگایا ہے کہ وہ 15 شعبان کو پیدا ہوا. میرے پاس اس نام کے سہارے کے سوا کچھ نہ تھا. میں نے ١٤ کا توسل دیتے ہوۓ اپنے رب سے اس کی زندگی مانگی. شام کی مسافر بہن کو پکارا. قم میں مدفون بہن سے التجا کی کہ میرے بھائی میری زندگی کا آسرا ہیں. مجھے میرا بھائی لوٹا دیجیے.
کچھ ہی دیر کے بعد ہم ڈیرہ کی طرف روانہ ہو گئے. فون بجنا شروع ہوا. ہر آواز پر ایک جنازہ امام بارگاہ لاۓ جانے کی خبر ملتی. سب سے پہلا نام شہید مودت علی کا تھا اور آخری نام میرے پھپھو زاد صاغر کا. بھائی کا پتہ چلا کہ زخمی ہے لیکن محفوظ ہے. شکر تو بے شک کیا لیکن دل تھا کہ مطمئن ہونے کا نام نہ لیتا تھا. سفر طویل ہوتا جارہا تھا.
رات سیاہ پردہ ڈال چکی تھی. چاہ سید منور شاہ کی زمین پر پہنچتے ہی لگا گویا کوئی کربلا یہاں بھی برپا ہوئی ہے. وہ امام بارگاہ جہاں ابھی نیمہ شعبان کی روشنیاں لگی تھیں. جہاں ایک رات پہلے ہونے والی عبادات کی خوشبو محسوس ہو رہی تھی اب جنازہ گاہ میں تبدیل ہو چکا تھا. جوان لاشے اور بوڑھے باپ. لگتا تھا حسین کے چاہنے والوں نے پھر کربلا سجائی ہے. کسی کے سہرے کے پھول روندے گئے تھے اور کسی کے خواب. انکل بنگش کی وہ فریاد جو ان کے اکلوتے بیٹے کی میت کے سرہانے سے بلند ہو رہی تھی. 12 سال کے چھوٹے سے  شہید کے ساتھ اس کی ماں آخری بار راز و نیاز کر رہی تھی. اس کے بال سلاتے ہوۓ گویا کہہ رہی تھی کہ ام فروہ کو قاسم کا پرسہ دے دینا. ایک باپ ایسا بھی تھا جس نے بیٹے کی لاش کو اس کی کنگھی سے ہچانا تھا.
لاشے اٹھنے لگے. رات کی تاریکی اور زیادہ گہری ہونے لگی. اٹھانے والے کندھے کم اور اٹھنے والے مسافر زیادہ.
آج اس واقعے کو گیارہ برس ہوگئے ہیں. جانے والے بہت سے شہداء کے بچے جوانی کی منزل کو پہنچ چکے ہیں. کچھ گھروں میں پھول جانے والوں کے بعد کھلے. ان کی آنکھیں تلاش کرتی ہیں وہ ہاتھ جو ان کے سر پر نہیں ہیں.
یہ ١٩ اگست اس واقعے کے بعد کئی بار آئی. ڈیرہ اسماعیل خان کے محبان اہل بیت کے لیے کئی دن اور کئی راتیں ایسی آئیں.
19 اگست  2019 نئے پاکستان کی ایک اور صبح میں ڈیرہ کی عوام، ہزارہ ٹاؤن کے مظلوم اور دیگر اہل تشیع یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا ہمارا بھی کوئی نیا پاکستان ہوگا؟ بھارت سے آنے والے نوجت سنگھ سدھو کو تو آرمی چیف نے گرو نانک کے 550 ویں یوم ولادت پر سرحد کھولنے کی خوشخبری سنائی ہے کیا کوئی خوشخبری ہمارے لیے بھی ہے کہ ہمارے ہی جیسے کلمہ گو ہمیں کافر نہیں کہیں گے. ہمارے جلوس اور عزاخانے محفوظ رہیں گے. ہمارے نہتے جوان گولیوں کا نشانہ نہیں بنیں گے.
کیا اس نئے پاکستان میں ہمارے لیے بھی کوئی پناہ گاہ ہوگی یا پھر ہماری لاشیں گرا کر ان پر فخر سے کھڑے ہو کر کوئی کالعدم تنظیم اپنی فتح کے شادیانے بجاۓ گی.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *