مہوش حیات: ’قومیت سے ہٹ کر پرامن مستقبل کے لیے کام کرنا چاہیے‘

پاکستان کی معروف اداکارہ اور فلمسٹار مہوش حیات کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں اداکار یا اداکارہ ہونا کافی نہیں بلکہ شائقین سے ملنے والی عزت اور طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے معاشرے، ملک یا دنیا کے مسائل کے حل میں بہتری لانی چاہیے۔

بی بی سی کی نامہ نگار ثمرا فاطمہ سے لندن میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صرف لوگوں کو تفریح فراہم کرنا کافی نہیں۔

’یہ بہت ضروری ہے کہ جو مسائل اہم ہیں، ان کو اجاگر کریں، چاہے وہ سیاسی ہو یا سماجی ہو ان پر بات ہونی چاہیے۔‘

کیا فنکار دو ممالک کو قریب لاسکتے ہیں؟ اس کے جواب میں مہوش کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتی ہیں دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے اور اگر سب متحد ہو کر ایک قوت بن کر ایک ہی سمت میں کام کریں تو دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جو امن کو اصل چہرہ دینے کی راہ میں حائل ہو۔

وہ کہتی ہیں ’فنکار کو قومیت سے ہٹ کر پرامن مستقبل کے لیے کام کرنا چاہیے۔‘

پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی زندگی پر بننے والی فلم میں مہوش حیات مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں اس بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت پیچیدہ اور مشکل کردار ہے۔

وہ کہتی ہیں ’بے نظیر بھٹو میرے لیے ہیرو ہیں اور مجھے ان سے محبت ہے۔‘

مہوش حیات

مہوش حیات، ثمرہ فاطمہ کو انٹرویو دیتے ہوئے

اس فلم کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے مہوش نے بتایا کہ اس فلم کی کہانی اتنی متاثر کن ہے کہ ہماری موجودہ نسل اور آئندہ نسل کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کی خدمات، جدوجہد کو دیکھے، ان کی زندگی کے بارے میں جانیں۔

’وہ ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں تھیں۔ یہ کتنی بڑی بات ہے، اس کے لیے ان کی جو محنت ہے، جو جدوجہد ہے اور کیا کیا ان کے ساتھ جو زندگی میں ہوا میرے خیال میں دنیا کو یہ سب دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کتابوں میں تو بہت کچھ لکھا جاتا ہے لیکن فلم ان سب کو جاننے کا آسان ذریعہ ہے۔

بے نظیر بھٹو کے کردار کو بہتر انداز میں نبھانے پر مہوش حیات کا کہنا تھا کہ وہ بے نظیر کی زندگی کے بارے میں چند کتابوں کا مطالعہ کر رہی ہیں۔

’میں جتنا ان کے بارے میں پڑھ رہی ہوں اتنا ہی ان سے متاثر ہو رہی ہوں، فخر بھی ہوتا ہے اور دکھ بھی کہ ہم نے ایک لیڈر کو گنوا دیا۔‘

مہوش حیات اداکاری کے ساتھ ساتھ ملک میں فلاحی و سماجی کاموں میں بھی مصروفِ عمل دکھائی دیتی ہیں۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہ ایک بین الاقوامی فلاحی تنظیم کے ساتھ مل کر تعلیم پر کام کر رہی ہیں اور پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں تقریباً 900 لڑکے اور لڑکیوں کے لیے پانچ سکول بنا رہی ہیں جس میں پانچ سے لے کر 16 برس کی عمر کے بچے تعلیم حاصل کر سکیں گے۔

’یہ ایک ایسا کام ہے جس کے بارے میں ہمیشہ میں نے محسوس کیا اور اس متعلق کام کرنا چاہا۔ میرے لیے اس سے بڑی کوئی بات نہیں ہو سکتی کہ تھوڑی سے کوشش سے میں غریب بچوں کا مستقبل سنوار سکوں۔‘

مہوش حیات

صرف بااختیار اور مضبوط خواتین کے کردار نبھانے کے سوال پر مہوش حیات کا کہنا تھا کہ ناظرین سمجھتے ہیں کہ وہ ان کرداروں کے ساتھ انصاف کریں گی لیکن گذشتہ کچھ عرصے میں ایسے بھی کردار آئے جن میں لڑکی بہت کمزور ہے، لہذا وہ ایسے کردار نہیں کر سکتیں تھیں۔

’مجھے پتا ہے کہ بہت سی لڑکیاں مجھ سے متاثر ہیں، میں ان کرداروں سے انھیں خودمختار بناتی ہوں۔ اگر میں ہی ایک کمزور لڑکی کے کردار کی عکاسی کروں گی تو وہ یہ دیکھیں گی کہ لڑکی کو تو مظلوم ہی ہونا ہے۔‘

معاشرے میں خواتین کی خودمختاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے مہوش کا کہنا تھا کہ ہمارے ٹی وی ڈراموں میں بہت ظلم دکھایا جاتا ہے، ہمیں ٹی وی پر چلنے والے ڈراموں کا مواد تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

وہ کہتی ہیں ’بااختیار خاتون کی عکاسی کا ایک ہی پیمانہ نہیں ہے، اس کے کئی طریقہ کار ہیں، ایک مضبوط خاتون سیاستدان، ایک ڈاکٹر ،سپورٹس وویمن بھی ہو سکتی ہے، ایسی کئی حقیقی زندگی کے ساتھ جڑی کہانیاں ہیں جن کا کسی کو نہیں پتا۔ شاید میں اگلے دس سال تک یہ کہانیاں بتاتی رہوں۔‘

فلم، ٹی وی کے ساتھ ساتھ بدلتے میڈیم جیسا کہ نیٹ فلکس، ایمازون پرائم یا ویب سیریز پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں ویب سیریز کا کوئی پلیٹ فارم ہی نہیں ہے۔ اب پاکستان میں بھی اس حوالے سے کام ہو رہا ہے اور کچھ لوگ اس بارے میں ایسے پلیٹ فارمز متعارف کروانے والے ہیں۔

فلم

وہ کہتی ہیں’ ویب سیریز میں اظہار آزادی زیادہ ہوتی ہے۔ آپ حقیقت کو اس کے اصل معنوں میں زیادہ بہتر انداز میں دکھا سکتے ہیں جو کہ پیمرا اور سنسر بورڈ کے ضابطہ کار کی وجہ سے ہم دکھا نہیں پاتے۔‘

حال ہی میں ہالی وڈ اور بالی وڈ میں پاکستان کو سٹیریو ٹائپ کرنے پر مستقبل میں اچھی آفرز گنوانے کے خدشے کے سوال پر ان کا کہنا تھا 'اگر میرے سچ بولنے سے وہ مجھے کاسٹ نہیں کریں گے تو بہتر ہے کہ میں سچ بولوں اور انھیں مجھے کاسٹ نہ کرنے دوں۔

مہوش کہتی ہیں کہ یہ بات انھوں نے اب نہیں کی بلکہ برسوں سے ان کا یہی موقف ہے۔ صرف اس وقت جو موجودہ بحران کی صورتحال ہے اس کی وجہ سے اس بات کو بہت اچھالا گیا ہے۔

’ہالی وڈ یا بالی وڈ میں ہمیں جس طرح سے دکھایا جاتا ہے حقیقت میں یہ ہم نہیں ہیں۔جتنے لوگ بھی ایسی فلمیں بنا رہے ہیں وہ ایک مرتبہ ہمارے ملک آکر دیکھیں کہ ہم کتنے پرامن لوگ ہیں، ہم کتنے مہمان نواز لوگ ہیں، دنیا بھر میں ہماری مہمان نوازی مشہور ہے۔ یہ ہماری غلط عکاسی ہے۔ اس لیے ان چیزیں کو اب ختم ہونا چاہیے۔‘

بالی وڈ میں کام کرنے کے بارے میں رائے دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بالی وڈ کی ضرورت نہیں ہے، بالی وڈ کو ہماری ضرورت نہیں ہے۔ وہ بہت بڑی انڈسٹری ہے ان کے پاس بہت سے اداکار ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں ’ہمیں اپنی انڈسٹری کو بنانا چاہیے جیسا کہ میں نے گذشتہ چھ برسوں میں کیا ہے۔ پاکستانی فلم انڈسٹری کی دوبارہ بحالی میں میں نے کلیدی کردار ادا کیا اور ریاست نے مجھے سراہتے ہوئے تمغہ امتیاز دیا۔‘

مہوش حیات

اپنے فنی کیرئیر میں ڈرامہ اور فلم پربات کرتے ہوئے مہوش حیات کا کہنا تھا کہ وہ آج جو کچھ بھی ہیں اس کی بنیاد ڈرامہ ہی ہے۔

’فلم کو محدود تعداد میں لوگ سینما جا کر دیکھتے ہیں جبکہ ٹی وی ہر گھر میں ہے۔ ڈرامے کے ناظرین کی تعداد بہت بڑی اور اس کا فیڈ بیک بھی شاندار ہے۔‘

کس ساتھی اداکار کے ساتھ وہ دوبارہ کام کرنا چاہیں گی، اس سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمایوں سعید، فہد مصطفی سمیت دیگر اداکاروں کے ساتھ کام کرنا چاہیں گی لیکن کچھ وقفے کے ساتھ کیونکہ اگر آپ بار بار ان کے ساتھ آئیں گے تو لوگ بور ہو جائیں گے۔

’تھوڑا انتظار کروانا چاہیے، تھوڑا ترسائے، تھوڑا تڑپائیں اور پھر ایک دم کسی نئی کہانی کے ساتھ آئیں تو وہ زیادہ اچھا ہوتا ہے۔‘

پاکستانی فلم انڈسٹری میں کس طرح کی فلمیں بننی چاہیں، اس کے جواب میں وہ کہتی ہیں کہ ابھی تو ہم فلم انڈسٹری کی بحالی کے ابتدائی مراحل میں ہیں لیکن ان کے خیال میں پاکستان پر فلمیں بننی چاہیے، یہ ایک کمی ہے جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا ہمارا کونٹیٹ (مواد) بہت مضبوط ہے، ہم بس تھوڑا تجربات کرنے سے ڈرتے ہیں۔

’ہم ابھی وہی کر رہے ہیں جو ہمارے ناظرین کو چاہیے لیکن اگر تفریح کے ساتھ ساتھ کوئی سبق آموز پیغام مل جائے تو بہتر ہو گا۔ ابھی ہمیں ایک طویل سفر طے کرنا ہے لیکن میرے خیال میں ہم درست سمت میں بڑھ رہے ہیں۔‘

لوڈ ویڈنگ

پاکستان کی معروف اداکارہ اور فلمسٹار مہوش حیات کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں اداکار یا اداکارہ ہونا کافی نہیں بلکہ شائقین سے ملنے والی عزت اور طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے معاشرے، ملک یا دنیا کے مسائل کے حل میں بہتری لانی چاہیے۔ بی بی سی کی نامہ نگار ثمرا فاطمہ سے لندن میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صرف لوگوں کو تفریح فراہم کرنا کافی نہیں۔ ’یہ بہت ضروری ہے کہ جو مسائل اہم ہیں، ان کو اجاگر کریں، چاہے وہ سیاسی ہو یا سماجی ہو ان پر بات ہونی چاہیے۔‘ کیا فنکار دو ممالک کو قریب لاسکتے ہیں؟ اس کے جواب میں مہوش کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتی ہیں دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے اور اگر سب متحد ہو کر ایک قوت بن کر ایک ہی سمت میں کام کریں تو دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جو امن کو اصل چہرہ دینے کی راہ میں حائل ہو۔ وہ کہتی ہیں ’فنکار کو قومیت سے ہٹ کر پرامن مستقبل کے لیے کام کرنا چاہیے۔‘ یہ بھی پڑھیے 'تھوڑی پاگل ہوں، تھوڑی ملنگ' کلچر کلیش ، مردانگی اور پاکستانی سنیما کی نئی ہِٹ مہوش کا پرینکا کو جواب: قوم پرستی اہم ہے یا پُرامن مستقبل پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی زندگی پر بننے والی فلم میں مہوش حیات مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں اس بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت پیچیدہ اور مشکل کردار ہے۔ وہ کہتی ہیں ’بے نظیر بھٹو میرے لیے ہیرو ہیں اور مجھے ان سے محبت ہے۔‘ Image caption مہوش حیات، ثمرہ فاطمہ کو انٹرویو دیتے ہوئے اس فلم کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے مہوش نے بتایا کہ اس فلم کی کہانی اتنی متاثر کن ہے کہ ہماری موجودہ نسل اور آئندہ نسل کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کی خدمات، جدوجہد کو دیکھے، ان کی زندگی کے بارے میں جانیں۔ ’وہ ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں تھیں۔ یہ کتنی بڑی بات ہے، اس کے لیے ان کی جو محنت ہے، جو جدوجہد ہے اور کیا کیا ان کے ساتھ جو زندگی میں ہوا میرے خیال میں دنیا کو یہ سب دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کتابوں میں تو بہت کچھ لکھا جاتا ہے لیکن فلم ان سب کو جاننے کا آسان ذریعہ ہے۔ بے نظیر بھٹو کے کردار کو بہتر انداز میں نبھانے پر مہوش حیات کا کہنا تھا کہ وہ بے نظیر کی زندگی کے بارے میں چند کتابوں کا مطالعہ کر رہی ہیں۔ ’میں جتنا ان کے بارے میں پڑھ رہی ہوں اتنا ہی ان سے متاثر ہو رہی ہوں، فخر بھی ہوتا ہے اور دکھ بھی کہ ہم نے ایک لیڈر کو گنوا دیا۔‘ مہوش حیات اداکاری کے ساتھ ساتھ ملک میں فلاحی و سماجی کاموں میں بھی مصروفِ عمل دکھائی دیتی ہیں۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہ ایک بین الاقوامی فلاحی تنظیم کے ساتھ مل کر تعلیم پر کام کر رہی ہیں اور پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں تقریباً 900 لڑکے اور لڑکیوں کے لیے پانچ سکول بنا رہی ہیں جس میں پانچ سے لے کر 16 برس کی عمر کے بچے تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ ’یہ ایک ایسا کام ہے جس کے بارے میں ہمیشہ میں نے محسوس کیا اور اس متعلق کام کرنا چاہا۔ میرے لیے اس سے بڑی کوئی بات نہیں ہو سکتی کہ تھوڑی سے کوشش سے میں غریب بچوں کا مستقبل سنوار سکوں۔‘ تصویر کے کاپی رائٹ@MEHWISHHAYATOFFICIAL/INSTAGRAM صرف بااختیار اور مضبوط خواتین کے کردار نبھانے کے سوال پر مہوش حیات کا کہنا تھا کہ ناظرین سمجھتے ہیں کہ وہ ان کرداروں کے ساتھ انصاف کریں گی لیکن گذشتہ کچھ عرصے میں ایسے بھی کردار آئے جن میں لڑکی بہت کمزور ہے، لہذا وہ ایسے کردار نہیں کر سکتیں تھیں۔ ’مجھے پتا ہے کہ بہت سی لڑکیاں مجھ سے متاثر ہیں، میں ان کرداروں سے انھیں خودمختار بناتی ہوں۔ اگر میں ہی ایک کمزور لڑکی کے کردار کی عکاسی کروں گی تو وہ یہ دیکھیں گی کہ لڑکی کو تو مظلوم ہی ہونا ہے۔‘ معاشرے میں خواتین کی خودمختاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے مہوش کا کہنا تھا کہ ہمارے ٹی وی ڈراموں میں بہت ظلم دکھایا جاتا ہے، ہمیں ٹی وی پر چلنے والے ڈراموں کا مواد تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتی ہیں ’بااختیار خاتون کی عکاسی کا ایک ہی پیمانہ نہیں ہے، اس کے کئی طریقہ کار ہیں، ایک مضبوط خاتون سیاستدان، ایک ڈاکٹر ،سپورٹس وویمن بھی ہو سکتی ہے، ایسی کئی حقیقی زندگی کے ساتھ جڑی کہانیاں ہیں جن کا کسی کو نہیں پتا۔ شاید میں اگلے دس سال تک یہ کہانیاں بتاتی رہوں۔‘ فلم، ٹی وی کے ساتھ ساتھ بدلتے میڈیم جیسا کہ نیٹ فلکس، ایمازون پرائم یا ویب سیریز پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں ویب سیریز کا کوئی پلیٹ فارم ہی نہیں ہے۔ اب پاکستان میں بھی اس حوالے سے کام ہو رہا ہے اور کچھ لوگ اس بارے میں ایسے پلیٹ فارمز متعارف کروانے والے ہیں۔ تصویر کے کاپی رائٹPUNJABNAHIJAUNGI وہ کہتی ہیں’ ویب سیریز میں اظہار آزادی زیادہ ہوتی ہے۔ آپ حقیقت کو اس کے اصل معنوں میں زیادہ بہتر انداز میں دکھا سکتے ہیں جو کہ پیمرا اور سنسر بورڈ کے ضابطہ کار کی وجہ سے ہم دکھا نہیں پاتے۔‘ حال ہی میں ہالی وڈ اور بالی وڈ میں پاکستان کو سٹیریو ٹائپ کرنے پر مستقبل میں اچھی آفرز گنوانے کے خدشے کے سوال پر ان کا کہنا تھا 'اگر میرے سچ بولنے سے وہ مجھے کاسٹ نہیں کریں گے تو بہتر ہے کہ میں سچ بولوں اور انھیں مجھے کاسٹ نہ کرنے دوں۔ مہوش کہتی ہیں کہ یہ بات انھوں نے اب نہیں کی بلکہ برسوں سے ان کا یہی موقف ہے۔ صرف اس وقت جو موجودہ بحران کی صورتحال ہے اس کی وجہ سے اس بات کو بہت اچھالا گیا ہے۔ ’ہالی وڈ یا بالی وڈ میں ہمیں جس طرح سے دکھایا جاتا ہے حقیقت میں یہ ہم نہیں ہیں۔جتنے لوگ بھی ایسی فلمیں بنا رہے ہیں وہ ایک مرتبہ ہمارے ملک آکر دیکھیں کہ ہم کتنے پرامن لوگ ہیں، ہم کتنے مہمان نواز لوگ ہیں، دنیا بھر میں ہماری مہمان نوازی مشہور ہے۔ یہ ہماری غلط عکاسی ہے۔ اس لیے ان چیزیں کو اب ختم ہونا چاہیے۔‘ بالی وڈ میں کام کرنے کے بارے میں رائے دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بالی وڈ کی ضرورت نہیں ہے، بالی وڈ کو ہماری ضرورت نہیں ہے۔ وہ بہت بڑی انڈسٹری ہے ان کے پاس بہت سے اداکار ہیں۔‘ وہ کہتی ہیں ’ہمیں اپنی انڈسٹری کو بنانا چاہیے جیسا کہ میں نے گذشتہ چھ برسوں میں کیا ہے۔ پاکستانی فلم انڈسٹری کی دوبارہ بحالی میں میں نے کلیدی کردار ادا کیا اور ریاست نے مجھے سراہتے ہوئے تمغہ امتیاز دیا۔‘ تصویر کے کاپی رائٹMEHWAISHHAYATOFFICIAL/INSTAGRAM اپنے فنی کیرئیر میں ڈرامہ اور فلم پربات کرتے ہوئے مہوش حیات کا کہنا تھا کہ وہ آج جو کچھ بھی ہیں اس کی بنیاد ڈرامہ ہی ہے۔ ’فلم کو محدود تعداد میں لوگ سینما جا کر دیکھتے ہیں جبکہ ٹی وی ہر گھر میں ہے۔ ڈرامے کے ناظرین کی تعداد بہت بڑی اور اس کا فیڈ بیک بھی شاندار ہے۔‘ کس ساتھی اداکار کے ساتھ وہ دوبارہ کام کرنا چاہیں گی، اس سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمایوں سعید، فہد مصطفی سمیت دیگر اداکاروں کے ساتھ کام کرنا چاہیں گی لیکن کچھ وقفے کے ساتھ کیونکہ اگر آپ بار بار ان کے ساتھ آئیں گے تو لوگ بور ہو جائیں گے۔ ’تھوڑا انتظار کروانا چاہیے، تھوڑا ترسائے، تھوڑا تڑپائیں اور پھر ایک دم کسی نئی کہانی کے ساتھ آئیں تو وہ زیادہ اچھا ہوتا ہے۔‘ پاکستانی فلم انڈسٹری میں کس طرح کی فلمیں بننی چاہیں، اس کے جواب میں وہ کہتی ہیں کہ ابھی تو ہم فلم انڈسٹری کی بحالی کے ابتدائی مراحل میں ہیں لیکن ان کے خیال میں پاکستان پر فلمیں بننی چاہیے، یہ ایک کمی ہے جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا ہمارا کونٹیٹ (مواد) بہت مضبوط ہے، ہم بس تھوڑا تجربات کرنے سے ڈرتے ہیں۔ ’ہم ابھی وہی کر رہے ہیں جو ہمارے ناظرین کو چاہیے لیکن اگر تفریح کے ساتھ ساتھ کوئی سبق آموز پیغام مل جائے تو بہتر ہو گا۔ ابھی ہمیں ایک طویل سفر طے کرنا ہے لیکن میرے خیال میں ہم درست سمت میں بڑھ رہے ہیں۔‘ تصویر کے کاپی رائٹLOADWEDDING اپنے ماضی کے فنی کیرئیر میں اگر انھیں کچھ بدلنے کا موقع ملے تو وہ کیا بدلنا چاہیں گی؟ اس کے جواب میں وہ کہتی ہیں کہ ایسا کچھ نہیں جسے وہ بدلنا چاہیں نا ہی انھیں کسی چیز کا پچھتاوا ہے۔ مہوش حیات ماضی میں پاکستانی انڈسٹری میں ساتھی خاتون اداکاراؤں کی حمایت کرتی بھی دکھائی دیں اس بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ایسا سمجھا جاتا ہے کہ خاتون فنکارائیں آپس میں دوست نہیں ہو سکتیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے سوشل میڈیا پر کتنے فالورز ہیں، آپ کی سوچ اور ذہن کو بڑا ہونا چاہیے۔ 'آپ کی سوچ میں اتنی جگہ ہونی چاہیے کہ میری بلی اور میرا تمغہ امتیاز دونوں فٹ آ سکیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ہماری انڈسٹری بہت چھوٹی ہے، سو دو سو لوگ ہیں جن کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے تو اگر ہمیں ترقی کرنی ہے تو آپس میں اتحاد قائم رکھنا ہوگا۔

اپنے ماضی کے فنی کیرئیر میں اگر انھیں کچھ بدلنے کا موقع ملے تو وہ کیا بدلنا چاہیں گی؟ اس کے جواب میں وہ کہتی ہیں کہ ایسا کچھ نہیں جسے وہ بدلنا چاہیں نا ہی انھیں کسی چیز کا پچھتاوا ہے۔

مہوش حیات ماضی میں پاکستانی انڈسٹری میں ساتھی خاتون اداکاراؤں کی حمایت کرتی بھی دکھائی دیں اس بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ایسا سمجھا جاتا ہے کہ خاتون فنکارائیں آپس میں دوست نہیں ہو سکتیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے سوشل میڈیا پر کتنے فالورز ہیں، آپ کی سوچ اور ذہن کو بڑا ہونا چاہیے۔

'آپ کی سوچ میں اتنی جگہ ہونی چاہیے کہ میری بلی اور میرا تمغہ امتیاز دونوں فٹ آ سکیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہماری انڈسٹری بہت چھوٹی ہے، سو دو سو لوگ ہیں جن کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے تو اگر ہمیں ترقی کرنی ہے تو آپس میں اتحاد قائم رکھنا ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *