رعنا لیاقت علی: کماؤں کی 'برہمن' لڑکی جو پاکستان کی خاتونِ اول بنی

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جمشید مارکر کہتے تھے کہ رعنا لیاقت علی جب کسی کمرے میں داخل ہوتی تھیں تو وہ کمرہ خود ہی روشن ہو اٹھتا تھا۔

ایک مرتبہ برج کھیلتے ہوئے لیاقت علی نے اپنے رہنما محمد علی جناح سے کہا کہ آپ اپنی تنہائی دور کرنے کے لیے دوسری شادی کیوں نہیں کر لیتے؟ جناح نے تپاک سے کہا 'مجھے دوسری رعنا لا دو، میں فوراً شادی کر لوں گا‘۔

رعنا لیاقت علی کی پیدائش 13 فروری 1905 میں شمالی ہند کے علاقے الموڑہ میں ہوئی تھی اور انکا نام آئرین روتھ پنت تھا۔

وہ کماؤں کے ایک برہمن خاندان سے تعلق رکھتی تھیں لیکن بعد میں انھوں نے عیسائی مذہب قبول کر لیا تھا۔

فائل فوٹو

فاطمہ جناح، محمد علی جناح، رعنا لیاقت اور لیاقت علی خان

رعنا لیاقت علی کی سوانحِ عمری 'دی بیگم' کی شریک مصنفہ دیپا اگروال بتاتی ہیں کہ وہ ایک آزاد خیال خاتون تھیں اور ان میں زبردست اعتماد تھا۔

86 سال کی اپنی زندگی میں انھوں نے 43 سال انڈیا میں جبکہ اتنا ہی عرصہ پاکستان میں گذارا۔ انھوں نے نہ صرف اپنی انکھوں کے سامنے تاریخ رقم ہوتے دیکھی بلکہ اس کا حصہ بھی بنیں۔

جناح سے لے کر جنرل ضیا الحق تک سبھی کے سامنے وہ اپنی بات کہنے سے کبھی نہیں ہچکچائیں۔ ایم اے کی اپنی کلاس میں وہ اکیلی لڑکی تھیں اور لڑکے انھیں تنگ کرنے کے لیے ان کی سائیکل کی ہوا نکال دیتے تھے۔

فائل فوٹو

بیگم رعنا بہت تعلیم یافتہ اور ذہین خاتون تھیں

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر پشپیش پنت کا ننیھال بھی اسی جگہ تھا جہاں آیرین روتھ پنت کا خاندان رہا کرتا تھا۔ پروفیسر پشپیش پنت بتاتے ہیں کہ میں تقریباً 60 سال پہلے آٹھ یا دس برس کی عمر میں اپنی ننھیال والے مکان میں رہا کرتا تھا۔

’لوگ ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کیا کرتے تھے کہ ان کی بہن پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان سے بیاہی گئی تھیں اور ان لوگوں نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 'رعنا کے دادا ایک اعلی ذات کے برہمن تھے اور وہاں کے مشہور وید یا حکیم تھے اور جب انھوں نے عیسائی مذہب قبول کیا تو پورے علاقے میں ہلچل مچ گئی تھی کیونکہ اکثر نیچی ذات کہے جانے والے لوگ ہی مذہب تبدیل کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد جب رعنا نے ایک مسلمان سے شادی کر لی تو لوگ اور باتیں کرنے لگے۔‘

فائل فوٹو

بیگم رعنا کو مادرِ پاکستان کہا جاتا تھا

اس دور میں الموڑے کے دقیانوسی معاشرے میں ماڈرن کہی جانے والی پنت بہنیں نہ صرف پورے شہر میں موضوعِ بحث ہوا کرتی تھیں بلکہ کچھ لوگ انھیں رشک کی نگاہ سے بھی دیکھتے تھے۔

مشہور ناول نگار کی بیٹی ایرا پانڈے لکھتی ہیں 'میرے نانا کے برابر والا گھر ڈینیل پنت کا تھا جن کا خاندان مسیحی مذہب قبول کر چکا تھا لیکن ایک زمانے میں وہ ہماری ماں کے رشتے دار ہوا کرتے تھے۔‘

ہمارے نانا نے ان کی دنیا کو ہماری دنیا سے الگ کرنے کے لیے ہمارے گھروں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی تھی اور ہمیں سخت ہدایت تھی کہ ہم دوسری جانب دیکھنے کی کوشش بھی نہ کریں۔‘

میری ماں شوانی نے لکھا تھا کہ 'ان کے گھر کے باورچی خانے میں پکنے والے ذائقے دار گوشت کی پاگل کر دینے والی مہک ہماری بے رونق برہمن رسوئی میں پہنچ کر ہماری دال اور آلو کی سبزی اور چاول کو شرمندہ کر دیتی تھی۔‘

فائل فوٹو

لیاقت علی خان اور بچوں کے ساتھ بیگم رعنا

'برلن وال' کے اس پار کے بچوں میں ہینری پنت میرے خاص دوست تھے اور ان کی بہنیں اولگا اور موریل جب اپنی جارجیٹ کی ساڑھی میں الموڑہ کے بازار میں چہل قدمی کرتی تھی تو ہم لوگ رشک سے مر ہی جاتے تھے۔

آئرین پنت یعنی رعنا کی تعلیم لکھنؤ کے لال باغ سکول اور پھر وہیں کے مشہور آئی ٹی کالج میں ہوئی۔

متعدد اہم مصنف جیسے قراۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، اور عطیہ حسین اسی کالج سے تعلیم حاصل کر کے نکلی ہیں۔

آئرین کی بچپن کی دوست مائلز اپنی کتاب 'اے ڈائنومو اِن سِلک' میں لکھتی ہیں 'وہ جہاں بھی ہوتی تھیں ان کے ارد گرد زندہ دلی ہوتی تھی۔ کالج میں لڑکے بلیک بورڈ پر انکی تصویر بنایا کرتے تھے لیکن ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔‘

فوٹو

رعنا لیاقت علی کی سوانح عمری 'دی بیگم'

مسلم لیگ کے رہنما لیاقت علی سے ان کی ملاقات بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔

دیپا اگروال بتاتی ہیں ان دنوں ریاست بہار میں سیلاب آیا ہوا تھا اور لکھنؤ یونیورسٹی کے طالب علموں نے فیصلہ کیا وہ ایک پروگرام کر کے وہاں کے لیے فنڈ جمع کریں گے۔

آئرین پنت جو لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم اے کر رہی تھیں شو کے ٹکٹ فروحت کرنے پارلیمنٹ پہنچیں اور وہاں انھوں نے پہلا دروازہ کھٹکھٹایا وہ لیاقت علی خان نے کھولا۔

لیاقت ٹکٹ خریدنے میں جھجھک رہے تھے اور بڑی مشکل سے انھوں نے ایک ٹکٹ خریدا۔

دیپا اگروال بتاتی ہیں آئرین نے کہا کہ کم از کم دو ٹکٹ تو خریدیں اور شو دیکھنے کے لیے کسی کو اپنے ساتھ لے کر آئیں۔جواب میں لیاقت علی نے کہا کہ میں کسی کو نہیں جانتا جس کو اپنے ساتھ لاؤں اس پر آئرین بولیں میں آپ کے لیے ایک ساتھی کا انتظام کرتی ہوں اور اگر کوئی نہیں ملا تو میں ہی آپ کے ساتھ بیٹھ کر شو دیکھ لوں گی اور لیاقت ان کی یہ درخواست رد نہیں کر پائے۔

فائل فوٹو

رعنا لیاقت، اندرا گاندھی کے ساتھ

لیاقت علی اپنے دوست مصطفی رضا کے ساتھ شو دیکھنے پہنچے لیکن کافی تاحیر کے ساتھ۔

بعد میں آئرین اندرپرستھ کالج میں لیکچرار ہو گئیں۔ جب انھیں خبر ملی کہ لیاقت علی کو لیجیسلیٹیو اسمبلی کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے تو انھوں نے انھیں خط لکھ کر مبارکباد دی۔

جواب میں لیاقت علی نے لکھا کہ 'جان کر خوشی ہوئی آپ دلی میں ہیں جو میرے شہر کرنال کے بلکل نزدیک ہے اس بار جب میں لکھنؤ جاتے ہوئے دلی سے گزروں گا تو کیا آپ میرے ساتھ چائے پینا پسند کریں گی؟‘

آئرین نے ان کی دعوت قبول کی اور یہیں سے ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا اور 16 اپریل 1933 کو بات شادی تک پہنچ گئی۔

فوٹو

دیپا اگروال بی بی سی سٹوڈیو میں ریحان فضل کے ساتھ

لیاقت علی ان سے دس سال بڑے تھے اور پہلے سے شادی شدہ اور ایک بچے کے باپ بھی۔ لیاقت علی کی شادی ان کی کزن جہاں آرا سے ہو چکی تھی اور ان کے بیٹے کا نام وِلایت علی خان تھا۔

بہر حال ان کی شادی ہوئی اور جامع مسجد کے امام نے ان کا نکاح پڑھوایا اور آئرین نے اسلام قبول کیا اور ان کا نام گل رعنا رکھا گیا۔

اس میں کوئی شک نہیں اس وقت لیاقت علی سیاسی افق کے ایک ابھرتے ہوئے ستارے تھے اور محمد علی جناح کے بہت نزدیک بھی۔

دیپا اگروال بتاتی ہیں کہ لیاقت علی کو فوٹو گرافی کا شوق تھا انھوں نے موسیقی سیکھی تھی، پیانو اور طبلہ بجاتے تھے اور گاتے بھی اچھا تھے۔ ان کی پارٹیوں میں نہ صرف غزلوں کا دور چلتا تھا بلکہ انگریزی گانے بھی سننے کو ملتے تھے۔

دونوں میاں بیوی برج کھیلنے کے شوقین تھے۔ پانچ فٹ لمبی رعنا کو نہ تو زیور کا شوق تھا اور نہ ہی کپڑوں کا انھیں ایک پرفیوم پسند تھا 'جوائے'۔ جبکہ لیاقت علی کو امرود بہت پسند تھے اور وہ کہا کرتے تھے کہ اس سے خون صاف ہوتا ہے۔

فائل فوٹو

لیاقت علی خان اپنے دفتر میں

جانے سے پہلے جہاں جناح نے اورنگزیب روڈ والا بنگلہ رام کرشن ڈالمیہ کو فروخت کیا تھا وہیں لیاقت علی نے اپنا بنگلہ پاکستان کو عطیہ کر دیا تھا۔

اسے آج بھی پاکستان ہاؤس کہا جاتا ہے اور وہاں آج بھی انڈیا میں تعینات پاکستان کے سفیر رہتے ہیں۔

دیپ اگروال بتاتی ہیں کہ لیاقت علی نے اپنے گھر کی ایک ایک چیز پاکستان کو دیدی تھی اور وہ صرف ذاتی استعمال کی کچھ چیزیں لے کر پاکستان گئے تھے۔

اس سامان میں ایک سوٹ کیس سیگریٹ لائٹروں سے بھرا تھا اور وجہ یہ تھی کہ انھیں سیگریٹ لائٹر جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔

اگست 1947 میں لیاقت علی، ان کی بیگم رعنا لیاقت علی اور دو بیٹوں اشرف اور اکبر نے دلی کے ویلنگٹن ہوائی اڈے سے کراچی کے لیے پرواز کیا۔

لیاقت علی کا قتل

فوٹو

تہمینہ عزیز ایوب ’دی بیگم‘ کی مشترکہ مصنف

لیاقت علی پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم بنے اور رعنا پہلی حاتونِ اول۔ لیاقت نے انھیں اپنی کابینہ میں اقلیتوں اور خواتین کی بہبود سے متعلق وزارت دی۔

ابھی چار سال ہی گذرے تھے کہ راولپنڈی میں ایک جلسے میں خطاب کے دوران لیاقت علی کو قتل کر دیا گیا۔ ان کی موت کے بعد بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ رعنا اب واپس انڈیا چلی جائیں گی لیکن انھوں نے پاکستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔

کتاب 'دی بیگم‘ کی مشترک مصنفہ تہمینہ عزیز ایوب بتاتی ہیں کہ ابتدا میں وہ بہت پریشان تھیں اور گھبرائیں بھی کہ اب میں کیا کروں گی کیونکہ لیاقت ان کے لیے کوئی پیسہ یا جائیداد چھوڑ کر نہیں گئے تھے۔

ان کے اکاؤنٹ میں محض 300 روپے تھے اور ان کا بڑا مسئلہ بچوں کی پرورش اور ان کی تعلیم تھی۔ کچھ لوگوں نے ان کی مدد بھی کی۔

پاکستان کی سفیر بنا دی گئیں

فائل فوٹو

لیاقت علی حان کے جنازے پر بیگم رعنا

حکومتِ پاکستان نے انھیں ماہانہ دو ہزار روپے کا وظیفہ دینا شروع کر دیا۔ تین سال بعد انھیں ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر بھیج دیا گیا جس سے انھیں کچھ آسرا ہوا۔

رعنا نے 1949 میں ہی آل پاکستان وومن ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھ دی تھی اور بیرون ملک ہوتے ہوئے بھی وہ اس تنظیم سے وابستہ رہیں۔ ہالینڈ کے بعد انھیں اٹلی میں پاکستان کا سفیر بنا دیا گیا۔

تہمینہ ایوب بتاتی ہیں کہ وہ بہت تعلیم یافتہ تھیں اور مختلف موضوعات پر ان کی اچھی گرفت تھی۔ رعنا لیاقت علی نے سفارت کاری کے اپنے فرائض بخوبی سرانجام دیے۔ ہالینڈ نے انھیں اپنے سب سے بڑے اعزاز 'اورینج ایوارڈ' سے بھی نوازا۔

اس وقت ہالینڈ کی رانی سے ان کی اچھی دوستی ہوئی اور رانی نے انھیں ایک عالیشان گھر کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ تم انتہائی سستے دام میں اسے اپنی ایمبیسی کے لیے خرید لو۔

یہ گھر شہر کے درمیان میںاور شاہی محل سے صرف ایک کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ وہ بلڈنگ آج بھی پاکستان کے پاس ہے جہاں ہالینڈ میں پاکستان کا سفارتی عملہ رہتا ہے۔

فوٹو

لیاقت علی خآن کے بیٹے اکبر لیاقت علی خآن

بیگم رعنا سوئزر لینڈ کی سفیر بھی بنیں اور انڈیا کے سابق خارجہ سیکریٹری جگت مہتہ کے فلیٹ میں ٹھہریں جو اس وقت سوئزر لینڈ میں انڈیا کے جونیئر سفیر ہوا کرتے تھے۔

بعد میں جگت مہتہ نے اپنی کتاب 'نیگو شی ایٹِنگ فار انڈیا، ریزالوِنگ پرابلمز تھرو ڈپلومیسی' میں لکھا کہ 'وہ ہمارے چھوٹے سے فلیٹ میں اپنے دو بچوں کے ساتھ رہیں حالانکہ وہاں برطانوی سفیر نے جو پاکستان کے سفیر کی ذمہ داری بھی سنبھالتے تھے انھیں اپنے گھر رہنے کی دعوت دی تھی۔

انھوں نے لکھا کہ 'آتے ہی وہ بغیر تکلف کے میرے باورچی خانے میں گئیں اور تو اور ایک مرتبہ انھوں نے میرے دو چھوٹے بچوں کو نہلایا بھی تھا۔ ڈپلومیسی کی تاریخ میں انڈیا اور پاکستان کے سفیروں کے درمیان اس طرح کی دوستی کی شاید ہی کوئی مثال ملتی ہو۔

رعنا کا ایوب سے ٹکراؤ

ڈپلومیسی کے شعبے میں کافی کامیاب ہونے کے باوجود بھی پاکستان کے صدر ایوب خان کے ساتھ ان کے تعلقات کبھی بہتر نہیں ہوئے اور ایوب خان نے انھیں تنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

تہمینہ عزیز لکھتی ہیں کہ ایوب خان چاہتے تھے کہ وہ فاطمہ جناح کے خلاف انتخابی مہم میں حصہ لیں لیکن رعنا نے صاف انکار کر دیا ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی سفیر ہیں۔

جنرل ضیا سے ٹکراؤ

بیگم رعنا لیاقت علی کو ان کی خدمات کے لیے پاکستان کے سب سے بڑے شہری اعزاز نشانِ امتیاز سے نوازا گیا انھیں مادرِ پاکستان کا خطاب بھی مِلا۔

تہمینہ بتاتی ہیں کہ 'جب جنرل ضیا الحق نے بھٹو کو پھانسی پر لٹکایا تو انھوں نے فوجی حکومت کے خلاف احتجاج کی قیادت کی اور جنرل ضیا الحق کے اسلامی قوانین کی پرزور مخالفت کی۔‘

30 جون 1990 کو رعنا لیاقت علی نے آخری سانس لی۔

سنہ 1947 کے بعد پاکستان کو اپنا گھر بنانے والی رعنا لیاقت علی تین بار انڈیا آئیں لیکن ایک بار بھی الموڑہ واپس نہیں گئیں لیکن الموڑہ کو بھلا بھی نہیں پائیں۔ دیپا اگروال کہتی ہیں کہ وہ الموڑہ کے روایتی کھانے پسند کرتی تھیں اور ایک بار اپنے بھائی نارمن کو ان کی سالگرہ پر خط میں لکھا تھا ’آئی مِس الموڑہ'۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *