آئس لینڈ کا واکیوگچ گلیشیئر 700 برس کی عمر میں مردہ قرار

آئس لینڈ میں سوگواروں کا ہجوم واکیوگچ کی یاد میں جمع ہوا ہے جسے 700 برس کی عمر میں مردہ قرار دے دیا گیا ہے۔

واکیوگچ کوئی انسان نہیں بلکہ ایک گلیشیئر ہے۔ اس گلیشیئر کو سنہ 2014 میں باضابطہ طور پر مردہ قرار دیا گیا تھا کیونکہ اس کی موٹائی اتنی نہیں رہی تھی جو اس کو متحرک رکھ سکے۔

کسی زمانے میں یہ گلیشیئر تھا جو اب سکڑ کر آتش فشاں کے دھانے پر واقع برف کی ایک چھوٹی سی تہہ میں تبدیل ہو گیا ہے۔

تقریب میں وزیرِ اعظم کیٹرن یاکبسڈوٹیر، وزیرِ ماحولیات گڈمنڈر انڈی گڈبرانڈسن اور سابق آئرش صدر میری روبنسن بھی شامل تھیں۔

یاکبسڈوٹیر کے ابتدائی کلمات کے بعد سوگواروں نے دارالحکومت ریکےوک کے شمال مشرق میں واقع آتش فشاں کی جانب پیدل چلنا شروع کیا اور وہاں ایک یادگاری تختی لگائی جس پر مستقبل کے نام ایک خط درج ہے۔

اس پر لکھا تھا کہ 'یہ آئس لینڈ کا وہ پہلا گلیشیئر ہے جس نے گلیشیئر کی حیثیت کھو دی ہے۔ خدشہ ہے کہ اگلے 200 برسوں میں ہمارے تمام اہم گلیشیئرز کا بھی یہی انجام ہو سکتا ہے۔ یہ یادگار اس بات کو تسلیم کرنا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا کیا جانا چاہیے۔ صرف آپ جانتے ہیں کہ یہ ہم نے کیا ہے۔'

یہ تحریر آئس لینڈ کے مصنف آندری سنائر میگنیسن نے لکھی ہے جس کے اختتام پر تقریب کی تاریخ اور عالمی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح (415 پی پی ایم) بھی درج ہے۔

میگنیسن نے  بات کرتے ہوئے کہا کہ 'آپ ایسی تحریریں لکھتے ہوئے ایک مختلف زاویے سے سوچتے ہیں کیونکہ یہ کاغذ پر نہیں دھات پر لکھی جاتی ہیں اور آج سے 300 برس بعد بھی کوئی اسے پڑھنے آئے گا۔‘

یادگار

مردہ قرار دیے گئے گلیشیئر پر ایک یادگاری تختی لگائی گئی ہے جس پر مستقبل کے نام ایک خط درج ہے

انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک بڑا علامتی لمحہ ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کی ابتدا یا اختتام نہیں ہوتی اور مجھے لگتا ہے کہ اس تختی کے پیچھے یہی فلسفہ ہے کہ ہم لوگوں کو خبردار کر سکیں اور خود کو یہ یاد دلا سکیں کہ یہ تاریخی واقعات رونما ہو رہے ہیں اور ہمیں انھیں معمول کے واقعے کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔ ہمیں اب سنجیدگی سے سوچنا ہے کہ یہ ہو تو گیا ہے لیکن یہ انتہائی اہم ہے۔'

آئس لینڈ کے دفترِ موسمیات میں اوتر سیورشن وہ گلیشیولوجسٹ ہیں جنھوں نے واکیوگچ کو مردہ قرار دیا تھا۔

وہ پچھلے 50 برس سے ملک میں موجود گلیشیئرز کی تصاویر لے رہے ہیں اور سنہ 2003 میں انھیں پتا چلا کہ برف واکیوگچ پر جمع ہونے سے پہلے ہی پگھل جاتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ 'آخر کار میں نے سوچا کہ یہ اتنی کم ہے کہ مجھے خود اوپر جا کر دیکھنا چاہیے اور میں نے یہ سنہ 2014 میں کیا۔ گلیشیئر اپنی جگہ سے ہل نہیں رہا تھا۔ وہ اتنا چوڑا ہی نہیں تھا کہ وہ زندہ رہ سکے۔ ہم اسے مردہ برف کہتے ہیں۔'

گلیشیولوجسٹ نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ جب برف جمع ہونا شروع ہوتی ہے تو اس کا دباؤ اس کے پورے حجم کو ہلنے پر مجبور کرتا ہے۔

یہ فرق ہے ایک زندہ اور مردہ گلیشیئر میں۔ دباؤ کی اس حد تک پہنچنے کے لیے چوڑائی میں یہ برف 40 سے 50 میٹر ہونی چاہیے۔

گیلیشیر

150 سال پہلے آئس لینڈ میں کسی کو ان گلیشیئرز کے خاتمے سے فرق نہیں پڑتا تھا

سنہ 2014 میں آئس لینڈ کے ایک ٹی وی اینکر نے سیورشن کے ہمراہ واکیوگچ کے مردہ ہونے کی رپورٹ نشر کی لیکن سیورشن کے مطابق یہ خاطر خواہ توجہ حاصل نہیں کر سکی۔

سیورشن نے کہا کہ 'مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کیونکہ یہ گلیشیئر گنجان آباد علاقوں سے واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا اور اس کا ایک بڑا حصہ آئس لینڈ کی رنگ روڈ سے بھی نظر آتا ہے۔ اور یہ زیادہ تر بچوں میں اپنے انوکھے نام اور نقشہ پر موجود مقام کے باعث مقبول تھا۔‘

یہاں ماہِرِ بَشَرِيات سیمین ہاؤی اور ڈامینک بوئر کی اینٹری ہوئی۔

دونوں پروفیسروں کا تعلق ٹیکساس کی رائس یونیورسٹی سے ہے۔ انھوں نے اس گلیشیئر کے خاتمے پر 'ناٹ واک' کے نام سے ایک ڈاکیومینٹری بنائی۔

اس ڈاکیومینٹری کی فلم بندی کے دوران ان کے ذہن میں اس حوالے سے ایک یادگار بنانے کا خیال آیا۔

ڈاکٹر ہاؤی نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ہمارے پاس اس گلیشیئر کی ایک انتہائی اہم کہانی تھی جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ پوری دنیا کے گلیشیئرز میں کتنی تباہ کن تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں لیکن پھر بھی یہ کہانی اتنی مشہور نہیں تھی۔ ڈاکیومینٹری بنانے کا ایک مقصد یہ تھا کہ ہم اس مسئلے کے بارے میں لوگوں کو آگاہی فراہم کر سکیں۔ اور یہ تختی اس سلسلے کی ایک کڑی تھی۔‘

ڈاکٹر بوئر کا کہنا تھا کہ 'لوگوں کو محسوس ہوا کہ یہ ایک بڑا نقصان ہے اور اس کی یادگار بننی چاہیے۔ عام طور پر ان یادگار تختیوں کے ذریعے ہم انسانی کارناموں کے ذکر کرتے ہیں۔ اسی طرح گلیشیر کا خاتمہ بھی ایک انسانی کارنامہ ہے حالانکہ یہ ایک مشتبہ کارنامہ ہے۔‘

گلیشیر

گلیشیولوجسٹ کہتے ہیں کہ جب کسی گلیشیئر پر برف جمع ہونا شروع ہوتی ہے تو اس کا دباؤ اس کے پورے حجم کو ہلنے پر مجبور کرتا ہے اور یہی فرق ہے زندہ اور مردہ گلیشیئرز میں

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ دنیا کا پہلا گلیشیئر نہیں ہے جو پگھلا ہے، اس کے علاوہ بھی متعدد چھوٹے گلیشیئرز پگھل چکے ہیں لیکن اب کیونکہ واک کے حجم جتنے گلیشیئر ختم ہو رہے ہیں تو وہ دن دور نہیں جب عظیم اور جانے مانے گلیشیئر بھی خطرے میں پڑ جائیں گے۔‘

گلیشیئرز کی آئس لینڈ اور دیگر ممالک میں بھی بہت ثقافتی اہمیت ہے۔ ملک کے مغرب میں برف سے ڈھکے ہوئے سنائی فیلسیوکٹ نامی آتش فشاں وہ جگہ ہے جہاں سے جیولز ورنے کے سائنس فکشن ناول 'جرنی ٹو دی سینٹر آف دی ارتھ' کے کرداروں نے دنیا میں پذیرائی پائی۔ اب یہ گلیشیر بھی سکڑ رہا ہے۔

میگنیسن نے بتایا کہ 'میری نسل نے اہم پہاڑوں، چٹانوں اور موورز کے نام زبانی یاد کیے تھے۔ ثقافتی طور پر یہ ہمیں ہماری بچپن کی نصابی کتابوں کی یاد دلاتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'جس دنیا کے بارے میں ہم نے پڑھا، اسے زبانی یاد کیا کیونکہ یہ دائمی حقیقت تھی، وہ اب حقیقیت نہیں رہی۔'

سیورشن نے سنہ 2000 میں آئس لینڈ کے گلیشیئر کی ایک فہرست بنائی جس سے اندازہ ہوا کہ جزیرے پر 300 سے زیادہ گلیشیئرز موجود ہیں۔ سنہ 2017 تک مزید 56 گلیشیئرز ختم ہو چکے تھے۔

انھوں نے کہا کہ '150 سال پہلے آئس لینڈ میں کسی کو ان گلیشیئرز کے خاتمے سے فرق نہیں پڑتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ گلیشیئر کاشت کی زمین کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے اور پگھل کر علاقے میں سیلاب کا باعث بنتے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ 'اس کے بعد سے یہ گلیشیئر سکڑنا شروع ہو گئے اور اب انھیں ایک خوبصورت چیز کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو یہ واقعی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'آئس لینڈ کے قدیم گلیشیئرز میں آئس لینڈ کی قوم کی مکمل تاریخ مقید ہے۔ ہمیں اس تاریخ کو وہاں سے نکالنا ہے اس سے پہلے کے یہ بھی اوجھل ہو جائیں۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *