پارلیمان کا ایک برس: کون کتنی بار ایوان میں آیا؟

عمران خان ایک برس میں کتنی بار پارلیمان میں آئے: پاکستانی پارلیمان اور اس کے ارکان کی کارکردگی پانچ چارٹس میں

پاکستان کی 15ویں پارلیمنٹ اور پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کا پہلا برس مکمل ہو گیا ہے۔ کچھ کامیابیاں، کچھ ناکامیاں۔ تقریریں، الزامات در الزامات، انتخابات، پروڈکشن آرڈر، واک آؤٹ اور احتجاج، یہ سبھی مناظر ان ایوانوں میں دیکھے گئے۔

لیکن اگر صحیح معنوں میں پارلیمنٹ کی پرفارمنس کا جائزہ لینا ہے تو پہلے آپ کو اس کے لیے پیمانے کا تعین کرنا پڑے گا کہ ماضی کے مقابلے میں اس بار اسمبلی میں کیا، کیا کام ہوئے۔

قائدِ ایوان کی اسمبلی میں حاضری

پہلا سوال ہے قائدِ ایوان یعنی وزیرِاعظم کی ایوان میں حاضری پر۔ موجودہ وزیر اعظم عمران خان اور گذشتہ حکومت کے پہلے وزیراعظم نواز شریف پر ماضی میں یہ تنقید ہوتی رہی ہے کہ ان کا پارلیمان میں حاضری کا ریکارڈ کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے۔

مگر کیا ان دونوں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں کوئی خاص برتری حاصل ہے؟

اگر اعدادوشمار پر نظر ڈالی جائے تو جہاں عمران خان کی حاضری کی شرح 16.48 فیصد رہی وہیں نواز شریف کی اپنے دورِ حکومت کے پہلے برس میں حاضری کی شرح 7.7 فیصد تھی۔

وزرائے اعظم

سب سے کم حاضری والے اراکین کون؟

جہاں ایک جانب کلاس میں ٹاپ کرنے والے چند طلبہ ہوتے ہیں، وہیں کچھ ایسے بھی طلبہ بھی ہوتے ہیں جن کی شکلیں اساتذہ دیکھنے کو ترس جاتے ہیں مگر ہوتے وہ کلاس کے سٹار ہیں۔

ہماری پارلیمنٹ کے اس سال سب زیادہ غیر حاضر رہنے والے اراکین کی فہرست میں شامل چھ افراد میں سے تین کا تعلق حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف، دو کا پاکستان پیپلز پارٹی جبکہ ایک کا پاکستان مسلم لیگ ن سے ہے اور ان میں سے کم از کم دو چہرے تو آپ اچھی طرح پہچانتے ہوں گے۔

ارکان پارلیمان

پارلیمانی سیشن میں سب سے زیادہ شرکت کرنے والے اراکین

جہاں ایک جانب اگر کچھ اراکین ایوان میں آنا گوارا نہیں کرتے، تو دوسری جانب پاکستانی کی 15ویں قانون ساز اسمبلی کے کچھ اراکین نے تو اجلاس میں شرکت کو واجب سمجھا ہے۔

این اے 202 سے پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی آفتاب شعبان میرانی تو واقعی مبارکباد کے مستحق ہیں کیونکہ انھوں نے پہلے سال ہونے والے کسی بھی اجلاس سے چھٹی نہیں کی۔

ان کے علاوہ کم از کم پانچ ایسے اور بھی اراکین ہیں جنھوں نے پورے سال میں سوائے ایک اجلاس کے ہر سیشن میں شرکت کی۔

سیشنز میں سب سے باقاعدگی سے شرکت کرنے والے ارکان میں تین مرد اور تین خواتین ارکان ہیں۔ ان میں سے تین کا تعلق تحریکِ انصاف، دو کا تعلق پیپلز پارٹی اور ایک کا تعلق جمعیت علمائے اسلام سے ہے۔

ارکانِ پارلیمان

کتنے توجہ دلاؤ نوٹس زیر بحث آئے؟

اسمبلی کی معمولی کی کارروائی تو ایک ایجنڈے کے تحت ہوتی ہے لیکن اگر ملک میں کوئی اہم واقعہ پیش آیا ہو، یا کوئی ضروری معاملہ زیر بحث لانا ہو، تو کسی بھی رکن اسمبلی کے پاس یہ حق ہوتا ہے کہ وہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں اس کے لیے نوٹس جمع کرا سکتا ہے۔

لیکن اگر اراکین اپنا کام کرتے ہوئے ملک میں عوامی نوعیت کے اہم ترین معاملات پر توجہ دلاؤ نوٹس جمع بھی کروائیں تو سپیکر قومی اسمبلی نے کتنے نوٹسز کو اجلاس کے ایجنڈا میں آنے دیا، اس حوالے سے گذشتہ پارلیمنٹ کے پہلے سال کی کارکردگی بھی آپ کے سامنے ہے۔

موجودہ اسمبلی میں 83 توجہ دلاؤ نوٹسز جمع کرائے گئے جس میں سے 47 کو زیر بحث آنے دیا گیا یعنی 56 فیصد تناسب رہا۔

اس کے مقابلے میں 2013 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ نون کی حکومت کے پہلے سال کے اختتام پر یہ تناسب 82 فیصد تھا۔

توجہ دلاؤ نوٹس

کتنے احتجاج، کتنے واک آؤٹ؟

اسمبلی میں اپوزیشن والے اگر ہر چھوٹی چھوٹی بات پر واک آؤٹ کر جائیں گے تو کام کیسے چلے گا۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ ہر حکومت یہی کہتی ہے کہ اپوزیشن اسے کام نہیں کرنے دیتی۔

تو کیا واقعی ایسا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو کوئی بے مثال قسم کی کڑی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا؟

واک آؤٹ

اعداد و شمار دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ پی ٹی آئی کو مسلم لیگ نون کے مقابلے میں تنقید کے تیر جھیلنے پڑے۔ جہاں نون حکومت نے 99 سیشنز میں صرف تین بار احتجاج کا سامنا کیا وہیں موجود حکومت کو 91 سیشنز میں سے 25 میں احتجاج بھگتے۔

واک آؤٹ کے معاملے میں دونوں حکومتوں کو ملا جلا رویہ دیکھنے کو ملا۔ پچھلی قومی اسمبلی کے پہلے سال میں جہاں واک آؤٹ کا تناسب 31 فیصد تھا، اس بار یہ تناسب 26 فیصد دیکھنے میں آیا۔

بشکریہ بی بی سی اُردو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *