بحریہ ٹاؤن کا 'تصفیہ فنڈ' خزانے میں جمع کروانے کیلئے حکومت کی درخواست

اسلام آباد: سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی سپر ہائی وے پر قائم نجی ہاوسنگ منصوبے سے متعلق ہونے والے تصفیہ کے تحت بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ کے قابل ادا 460 ارب روپے پر وفاقی حکومت نے نظریں جما لیں۔

رپورٹ کے مطابق عدالت عظمیٰ میں اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ 'بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرقائی گئی رقم کو وفاقی حکومت کے خزانے میں منتقل کروایا جانا چاہیے'۔

خیال رہے کہ 21 مارچ کو سپریم کورٹ کے جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس میں کراچی کے منصوبے کے لیے 460 ارب روپے کی پیشکش قبول کرتے ہوئے نیب کو ریفرنس دائر کرنے سے روک دیا تھا۔

یہ زمین ہاؤسنگ اسکیم متعارف کرانے کے لیے مختص کی گئی تھی لیکن ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) نے یہ زمین بحریہ ٹاؤن کو دے دی تھی۔

سیٹلمنٹ کے تحت 16 ہزار 896 ایکڑ پر مشتمل منصوبے کا راولپنڈی کے تخت پڑی کے 5 ہزار 472 کینال سے، مری کے جنگلات اور شاملات کے 4 ہزار 542 کینال سے کوئی تعلق نہیں۔

اٹارنی جنرل کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا کہ عدالت عظمیٰ نے بحریہ ٹاؤن کو تصفیے کی ادائیگی کے لیے یکم ستمبر 2019 سے 31 اگست 2026 تک کا وقت دیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ بحریہ ٹاؤن نے پہلے ہی 25 ارب ادا کردیے ہیں اور 2.5 ارب کی پہلی قسط کے بعد بقیہ ادائیگی 36 ماہ میں مقررہ صورت میں کی جائے گی جس میں یکم ستمبر 2023 سے 4 فیصد سالانہ مارک اپ بھی شامل ہوگا۔

وفاقی حکومت کی درخواست میں آئین کے آرٹیکل 78 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ 'سپریم کورٹ میں رقم جمع کرادی گئی ہے یا جمع کرائی جانی ہے، مذکورہ رقم کو وفاق کے عوامی خزانے میں جمع کرایا جانا چاہیے'۔

درخواست میں وضاحت دی گئی کہ 'آرٹیکل 78(2)(بی) کے تحت سپریم کورٹ میں موصول یا جمع کرائی گئی کوئی بھی رقم وفاق کے خزانے میں جمع کرائی جانی چاہیے'۔

آرٹیکل 78(1) کے مطابق وفاقی حکومت کو موصول تمام رقم، وفاق کی جانب سے دیے گئے تمام قرض اور قرض کی ادائیگی کے بدلے لی گئی رقوم مجموعی فنڈ کی شکل اختیار کریں گے جو وفاقی کنسولڈیٹڈ فنڈ کہلائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *