بھٹو ‘ شملہ جانے سے پہلے...

جاوید ہاشمی کے لیے حفیظ اللہ نیازی کے عشائیے کی ایک اہم بات‘ اس میں تحریکِ انصاف کی ''نمائندگی ‘‘بھی تھی۔ عمران احمد خان نیازی اور حفیظ اللہ خان نیازی کے تعلقات ومعاملات نشیب وفراز کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے‘ اس مقام پر جاپہنچے ‘جہاں احمد فرازؔ کے الفاظ میں تجدیدِ وفا اور نئے عہدوپیماں کا کوئی امکان باقی نہیں رہا ‘لیکن تحریکِ انصاف کی قیادت میں بعض دوستوں کے ساتھ حفیظ اللہ کے ذاتی (اورسماجی)تعلقات میں کوئی فرق نہیں آیا۔ عہدِجوانی کی نظریاتی ہم آہنگی بھی اس کا ایک اہم سبب ہے؛چنانچہ اس عشائیے میں میاں محمود الرشید بھی تھے۔ 1970ء کی دہائی کے اوائل میں ‘لاہور میں اسلامی جمعیت طلبہ سے ہماری وابستگی کے ماہ وسال میں وہ ہمارے ناظم بھی رہے۔ تب حفیظ اللہ نیازی قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سٹوڈنٹس یونین کے صدر ہوتے تھے۔ جاوید ہاشمی اپنا دورِ طالب علمی مکمل کرچکے تھے لیکن اس کے بعد بھی برسوں تک طلبہ سیاست میں انہی کا ڈنکا بجتا رہا۔ محمود الرشید 1985ء کے (غیر جماعتی) الیکشن میں جماعتِ اسلامی کی حمایت کے ساتھ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ گزشتہ اسمبلی میںوہ قائد ِحزبِ اختلاف تھے(کہ پی ٹی آئی اپنے تین درجن ارکان کے ساتھ ایوان میں دوسری بڑی جماعت تھی) اور اب جناب عثمان بزدار کی حکومت میں ہائوسنگ اور پلاننگ کے وزیر ہیں۔ 
عشائیے میں‘ کشمیر کے علاوہ اس ایک برس میں پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی بھی زیر بحث رہی۔ جناب سجاد میر نے حکومت کی اقتصادی کارکردگی کو موضوع بنایا۔ ان کا کہنا تھا: نوازشریف کو2013ء میں دہشت گردی کے ساتھ نیم مردہ معیشت ورثے میں ملی ‘ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آ ئی ایم ایف سے معاملہ کیا اور تین سال کی مدت میں اس سے نجات حاصل کرلی۔ اس دوران دھرنے بھی ہوئے‘ لیکن معیشت ٹیک آف کی پوزیشن میں آگئی ۔ گیارہ بارہ ہزار میگا واٹ کی اضافی پیدا وار کے ساتھ‘ توانائی کا مسئلہ حل ہوگیا۔ انفراسٹرکچر تعمیر ہوا۔ ضربِ عضب نے دہشت گردی کی کمرتوڑ دی‘ سٹاک ایکسچینج 55ہزار پوائنٹ تک پہنچ گئی‘گروتھ ریٹ5.8کوچھونے لگا۔افراطِ زر قابو میں رہا۔ عالمی ادارے پاکستان کو Growing Economyقرار دینے لگے تھے کہ پانامہ آگیا‘ ڈان لیکس آ گئیں اورٹیک آف کرتی معیشت پھر زمین بوس ہوگئی۔
میاں محمود الرشید کو اعتراف تھا کہ عام آدمی مہنگائی سے تنگ ہے‘ یوٹیلیٹی بلز بھی پریشانی کا سبب ہیں ۔ بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوا۔ اس اعتراف کے ساتھ ان کا کہنا تھا کہ یہ عارضی مرحلہ ہے۔معاشی شعبے میں دوررس تبدیلیوں ‘ سٹرکچرل چینجز کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔ ڈیڑھ ‘ دوسال کی بات ہے ‘جس کے بعد ان کے مثبت اثرات اس عام آدمی تک بھی پہنچنے لگیں گے‘ جو آج تکلیف میں ہے۔ 
اور پھر ''میرِمحفل‘‘جاوید ہاشمی گویا ہوئے : کشمیر پر عالمی تائید وحمایت کے حوالے سے کامیابی یاناکامی اپنی جگہ‘ لیکن پہلے ہم اپنے گھر کو توٹھیک کرلیں۔ کیا یہاں قومی یک جہتی کی وہ فضا موجود ہے جس کا تقاضا کشمیر اور کشمیری کررہے ہیں اور جو مودی کے مکروہ عزائم کے سدباب کا لازمی تقاضا ہے؟ ان کا کہناتھا:اپوزیشن تو گالیاں کھا کر بھی بدمزہ نہیں ہورہی‘ اس کی قیادت کا بیشتر حصہ جیلوں میں ہے۔ اس میں خواتین وحضرات کی بھی کوئی تخصیص نہیں ‘اس کے باوجود اس نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے متفقہ قرار داد کی منظوری میں قابلِ قدر کردار ادا کیا۔
جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ قومی یک جہتی کی فضا پیدا کرنے کی اصل ذمہ داری حکومت پر ہے۔ستمبر1965ء کی جنگ شروع ہوتے ہی ایوب خاں نے اپوزیشن لیڈر شپ سے جس طرح خود رابطہ کیا اور ایوانِ صدر میں جس طرح اس کی پذیرا ئی کی ‘ وہ تو پرانے پاکستان کی بات تھی۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد''نئے پاکستان‘‘ میں ‘بھٹو جیسے خود پرست اور آمرانہ مزاج کے حامل سیاستدان کا رویہ کیا تھا؟ سقوطِ مشرقی پاکستان کے علاوہ‘ ادھر مغربی محاذ پر بھی ہمارا پانچ ہزار مربع میل علاقہ دشمن کے قبضے میں تھا‘ 93ہزار جنگی قیدی بھارت میں تھے۔اس کمزور پوزیشن کے ساتھ بھٹو صاحب کو وزیر اعظم اندرا گاندھی سے مذاکرات کے لیے جاناتھا۔ انہیں احساس تھا کہ پوری قوم کی سیاسی تائید ہی انہیں وہ توانائی مہیا کرسکتی ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کے سامنے ہمت اور خود اعتمادی کے ساتھ بیٹھ سکیں۔
بھٹو صاحب نے اس کے لیے قوم کے تمام طبقات کا اعتماد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔اُن دنوں دنیا کے دیگر آزاد ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی قومی معاملات میں سٹوڈنٹس یونینز کا کردار بہت اہم ہوتا تھا۔ اس حوالے سے بڑے شہروں کے تعلیمی اداروں کی خاص اہمیت تھی اور لاہور اور یہاں کی پنجاب یونیورسٹی کی اہمیت دوچند ۔1970ء کے عام انتخابات میں پنجاب میں پیپلز پارٹی نے بڑے بڑے سیاسی بُرج الٹ دیئے تھے‘ لیکن پنجاب یونیورسٹی اور دیگر بڑے تعلیمی اداروں کی اپنی دنیا تھی‘ یہاں بھٹو صاحب اور ان کی پیپلز پارٹی کو ہزیمت کا سامنا تھا۔ اسلامی جمعیت طلبہ بھٹو مخالف جذبات کی سولو چیمپئن تھی۔ بھٹو صاحب پنجاب یونیورسٹی کا قلعہ بہر قیمت فتح کرنا چاہتے تھے۔ یحییٰ خان کے مار شل لاء کا تسلسل جاری تھا اور بھٹو صاحب سول چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کا سومنات فتح کرنے کا ٹاسک گورنر غلام مصطفی کھر کے سپرد کیا اور اس روز خود بھی گورنرہائوس آکر بیٹھ گئے۔
27جنوری1972ء جنوبی ایشیا کی عظیم اور قدیم جامعہ میں الیکشن کا دن تھا۔اولڈ کیمپس کے سینیٹ ہال میں رات کو گنتی شروع ہوئی تو جاوید ہاشمی کی زیر قیادت جمعیت کا پینل فتح مند نظر آرہاتھا۔ تب یونیورسٹی لا ء کالج کی بالکنی سے فائرنگ شروع ہوگئی۔ ایک گولی جیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر ڈاکٹر عمر کے سر میں لگی۔ لا ء کالج کی بالکونی میں برکات احمد نامی طالب علم اپنے ہی ساتھیوں کی گولی کا نشانہ بن گیا۔ وہ اسلامیہ کالج سول لائنز سے آیا تھا اگلے روز جاوید ہاشمی‘ حفیظ خان(آؤٹ گوئنگ پریذیڈنٹ)اور رانا نذر الرحمن کے خلاف302کے تحت مقدمہ درج ہوگیا۔لیکن وہ پولیس کے ہاتھ نہ آئے اور لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ 
جاوید ہاشمی نے سمن آباد لاہور کی دو یتیم طالبات(بہنوں) کے اغوا پر احتجاج کی روداد بھی سنائی‘ جب ان کی قیادت میں سینکڑوں طلبہ نے گورنر ہائوس پر دھاوا بول دیاتھا‘وہ اس کے دروازے توڑ کر اندر گھس گئے‘ جہاں بھٹو صاحب‘ برطانوی وزیر خارجہ لارڈ ہیوم کے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے صوبائی وزیر حاجی ممتاز کاہلوں کو بطور یرغمال ہاشمی کے سپرد کردیا‘ شام کو ریڈیو پر طالبات کی بازیابی کی خبر آگئی۔ ہاشمی کا کہناتھا‘ کشیدگی کی یہ فضا تھی‘ جب بھٹو صاحب نے شملہ جانے سے پہلے سٹوڈنٹس لیڈر شپ کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا۔ ہاشمی کو ملاقات سے گریز تھا؛ چنانچہ وہ چپکے سے اپنے گائوں (مخدوم رشید)چلے گئے۔ تب بھٹو صاحب نے مولانا مودودیؒ کے ذریعے ہاشمی کو پیغام پہنچایا۔ڈپٹی کمشنر ملتان نے جہاز میں سیٹ ریزروکرادی۔ دیگر منتخب سٹوڈنٹس لیڈر بھی پنڈی میں جمع تھے‘ معلوم ہوا کہ بھٹو صاحب نے پیپلز پارٹی کے سٹوڈنٹ ونگ کو بھی دعوت دی ہے۔ ہاشمی (اور ان کے رفقا) کو شکست خوردگان کے ساتھ بیٹھناگوارا نہ تھا؛ چنانچہ انہوں نے پریس کانفرنس بلائی اوربھٹو صاحب سے ملاقات سے انکار کردیا۔ بھٹو صاحب مری میںتھے‘ انہوں نے تمام شرائط منظور کرنے کا پیغام بھجوایا۔انہوں نے وفد میں جمعیت کے ناظم اعلیٰ تسنیم عالم منظر کی شمولیت کی شرط بھی قبول کرلی تھی۔
ہاشمی صاحب نے یہاں ایک دلچسپ بات بھی بتائی جس پریس کانفرنس میںبھٹوصاحب سے ملاقات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا‘ اس میں شیخ رشید بھی تھے‘ لیکن اگلے روز کے اخبار میں بھٹو صاحب سے ان کی ملاقات کی تصویر موجود تھی۔وہ چپکے سے ملاقات کرآئے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *