عمران خان کا کشمیر پر قوم سے خطاب: انڈیا، پاکستان کے درمیان ’ایٹمی جنگ کوئی نہیں جیتے گا‘

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انھیں خطرہ ہے کہ انڈیا کی حکومت جس طرح کے اقدامات کر رہی ہے، اس سے برِصغیر میں ایٹمی جنگ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

پیر کے روز انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی صورتحال پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جس طرح مجھے مودی کی حکومت کے عزائم نظر آ رہے ہیں، جس طرح کے نظریے پر یہ جا رہے ہیں، اگر مسئلہ جنگ کی طرف چلا گیا، تو یاد رکھیں کہ دونوں ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور ایٹمی جنگ کوئی نہیں جیتے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ایسی کسی جنگ کی صورت میں ’صرف یہاں تباہی نہیں مچے گی بلکہ پوری دنیا میں اس کے اثرات جائیں گے۔ اس کی ذمہ داری عالمی برادری اور عالمی طاقتوں پر ہے۔'

عمران خان نے نریندر مودی کی جانب سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کو ’تاریخی غلطی‘ قرار دیا اور کہا کہ اب کشمیریوں کے لیے آزاد ہونے کا موقع آ چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان بروقت اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں کامیاب ہوا۔ اقوامِ متحدہ کی سطح پر مسئلے پر بات چیت سے بین الاقوامی برادری نے اس بات کو تسلیم کیا کہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہم نے اس مسئلے پر بین الاقوامی میڈیا کو بار بار بریف کیا جنھوں نے اس مسئلے کو دنیا کے سامنے بھرپور انداز میں پیش کیا۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرے

گذشتہ تین ہفتوں سے وادی کشمیر میں کرفیو اور سخت پابندیاں جاری ہیں

انھوں نے کہا کہ کبھی بھی مغربی میڈیا میں انڈیا پر وہ تنقید نہیں ہوئی جو کہ آج ہو رہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں پر بے تحاشہ ظلم ہو رہا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ کشمیری اس وقت بہت مشکل میں ہیں اور انھیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستانی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیرِ اعظم نے اپنی حکومت سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی تقریر جس میں انھوں نے انڈیا کے ساتھ امن کی بات کی تھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کی کوشش تھی کہ ملک میں امن پیدا کریں تاکہ غربت ختم ہو اور لوگوں کے لیے روزگار پیدا ہو۔

’انڈیا میں بھی یہی مسائل ہیں اس لیے ہم نے کوشش کی کہ ہم سب کے ساتھ مل کر کام کریں۔ ہم نے کوشش کی کہ کشمیر کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کریں مگر ہم جب بھی اس کی بات کرتے وہ کوئی نئی بات شروع کر دیتے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس کے بعد پلوامہ ہوگیا تو آپ سب کے سامنے ہے کہ ہم نے قوم کو آگاہ کیا کہ وہاں ہونے والے ظلم کی وجہ سے ایک نوجوان نے خود کش حملہ کیا۔ مگر انڈیا نے اندرونی جائزہ لینے کے بجائے سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا۔‘

’پھر ہم نے سوچا کہ انڈیا میں الیکشن ہو جائے تو معاملات بہتری کی طرف جائیں گے مگر اس کے بعد انھوں نے کوشش کی کہ پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں بلیک لسٹ کروا کر دیوالیہ کروایا جائے۔‘

عمران خان نے کہا کہ انڈیا نے پانچ اگست کو اپنے زیرِ انتظام کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے یہ پیغام دیا کہ انڈیا صرف ہندوؤں کا ہے اور باقی سب یہاں دوسرے درجے کے شہری ہیں۔

عمران خان

انھوں نے کہا کہ آر ایس ایس بی جے پی کی پیشرو جماعت ہے اور پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ بی جے پی کا نظریہ آر ایس ایس کا ہے جس کا یہ ماننا تھا کہ برطانیہ کے راج کے بعد انڈیا میں ہندو راج ہونا چاہیے اور مسلمانوں سے بدلہ لینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہی آر ایس ایس تھی جس نے انڈیا میں آزادی کے بعد مہاتما گاندھی کو قتل کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا نظریہ اس کے برعکس ہے۔ ’اگر پاکستان میں کوئی اقلیتوں کے خلاف ظلم کرتا ہے تو وہ پاکستان کے نظریے کے خلاف ہے مگر انڈیا میں ایسا کرنا آر ایس ایس کے نظریے کے عین مطابق ہے۔‘

عمران خان نے کہا کہ کانگریس سے تعلق رکھنے والے انڈیا کے پہلے وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو کی موت کے بعد انڈیا میں آر ایس ایس مضبوط ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج انڈیا میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں لوگوں کے قتل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ اگر کوئی مسلمان ممالک اس وقت کشمیر کے بجائے تجارتی یا دیگر معاملات کی وجہ سے انڈیا کے ساتھ ہیں تو اس پر پاکستان کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں کشمیر کے مسئلے پر دیگر مسلمان ممالک بھی پاکستان کے مؤقف کا ساتھ دیں گے۔

انھوں نے پاکستانی قوم سے اپیل کی کہ وہ ہر ہفتے میں ایک دن حکومت کے اعلان کردہ دن پر آدھے گھنٹے کے لیے کشمیر سے اظہارِ یکجہتی کریں، اور اس کا آغاز اس جمعے سے کیا جائے۔

اس سے قبل خیبر پختونخوا کے علاقے صوابی میں واقع غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ کشمیر کے لوگوں سے اور اپنی قوم سے وعدہ کرتے ہیں کہ جب تک کشمیر آزاد نہیں ہو جاتا، وہ پوری دنیا میں کشمیر کا کیس لڑیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ قائدِ اعظم جو کہ ہندو مسلم اتحاد کے سفیر تھے، وہ سمجھ گئے تھے کہ اگر پاکستان نہ بنا تو انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ وہی ہوگا جو آج وہاں یا پھر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہو رہا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ وہ اب انڈیا سے بات چیت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے کیونکہ اس کا اب کوئی فائدہ نہیں ہے۔

انھوں نے اس موقع پر خود کو ’سفیرِ کشمیر‘ کا خطاب دینے پر طلبا کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ملک کی معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کا پہلا سال معاشی استحکام لانے میں صرف ہو گیا‘ مگر انھوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ آنے والے سالوں میں حالات بہتر ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان صرف سیاحت سے ہی رواں کھاتوں کا خسارہ پورا کر سکتا ہے مگر اس کے لیے سب سے زیادہ زور اپنے ادارے مضبوط کرنے اور تعلیم پر دینا ہوگا۔

اس سے قبل انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے فرانس میں جی سیون ممالک کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد کہا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے تمام مسائل باہمی ہیں اور ان کے حل کے لیے انھیں کسی تیسرے ملک کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

ان مزید کہنا تھا کہ 'مجھے یقین ہے کہ بھارت اور پاکستان جو 1947 سے پہلے ایک ہی تھے، مل جل کر ان ایشوز پر بات چیت کر سکتے ہیں اور ان مسائل کو حل بھی کر سکتے ہیں۔'

انڈیا کی جانب سے اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے گذشتہ تین ہفتوں سے وادی کشمیر میں کرفیو اور سخت پابندیاں جاری ہیں جبکہ انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس بھی بدستور معطل ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *