بس ہوچکی نماز مصلیٰ اٹھایئے

Intizarابھی پچھلے دنوں ہم نے اکیڈمی آف لیٹرز کی لاہور شاخ طرف سے ایک تقریب کے انعقاد کا ذکر کیا تھا۔ منٹو سال کے سلسلہ میں سیمیناروں تقریبوں کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ ہنوز جاری ہے۔ اسی تسلسل میں ایک یہ تقریب بھی منعقد ہوئی تھی۔ اب جو ہم نے اس تقریب کا حوالہ دیا ہے اس کی ایک وجہ ہے۔ یاروں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ اکیڈمی آف لیٹرز کی طرف سے آخری تقریب تھی۔ یار پوچھیں گے کہ وجہ۔ کہیں اکیڈمی بند تو نہیں ہو رہی۔ اس سلسلہ میں ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ فی الحال ہمیں تو اتنا ہی پتہ چلا ہے کہ اوپر سے یہ حکم نامہ آ گیا ہے کہ اکیڈمی آیندہ کوئی سیمینار، کوئی تقریب منعقد نہ کرے۔

ہمیں کیسے پتہ چلا، اصل میں ہم نے الطاف قریشی سے، جو اکیڈمی آف لیٹرز کی لاہور شاخ کے انچارج ہیں، یہ کہا تھا کہ اے اکیڈمی آف لیٹرز کے لاہوری کرتا دھرتا، تیری غیرت کو کیا ہوا۔ منٹو سال کے ذیل میں ہندوستان پاکستان کے مختلف شہروں میں کیسے کیسے سیمینار منعقد ہوئے، کیسی کیسی بحثیں ہوئیں۔ خود لاہور شہر میں آرٹ کونسل میں لمز میں اور کتنے اداروں میں پر رونق تقریبات منعقد ہوئیں۔ اکیڈمی آف لیٹرز ملک کا نمایندہ سرکاری ادارہ ہے۔ اس نے بس اسی حد تک اہتمام کیا کہ تم نے جو ایک مجموعہ منٹو صاحب کے حساب میں مرتب کیا ہے۔ اس کی مختصر سی افتتاحی تقریب منعقد کر ڈالی۔

اس عزیز نے جواب دیا کہ ہم نے اپنی طرف سے کسی قدر بڑے پیمانے پر تقریب کے انعقاد کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس کے لیے ہمیں تھوڑے فنڈ کی ضرورت تھی۔ رقم بھی ہم نے زیادہ نہیں مانگی تھی مگر وہ رقم تو ہمیں مہیا ہوئی نہیں۔ اوپر سے یہ حکمنامہ آ گیا کہ اکیڈمی تاحکم ثانی کوئی سیمینار، کوئی کانفرنس، کوئی تقریب منعقد نہ کرے۔

ہم یہ سن کر ہکا بکا رہ گئے۔ ہم نے کہا کہ عزیز اگر تمہاری اکیڈمی یہ کام نہیں کرے گی تو پھر کیا کرے گی۔ بولے کہ یہی میں سوچ رہا ہوں کہ پھر اکیڈمی لاہور شہر میں کونسا فریضہ انجام دے گی۔

اس سے ہمارا دھیان ایک اور ادارے کی طرف گیا۔ نیشنل بک فائونڈیشن اسلام آباد۔ یہاں مظہرالاسلام ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے اور بڑے جوش و خروش سے فائونڈیشن کو ایک متحرک ادارہ بنانے پر تلے نظر آ رہے تھے۔ انھوں نے کتاب کے فروغ کو فائونڈیشن کا مشن قرار دیا تھا۔ اس ذیل میں کتنے منصوبے بنائے تھے اور کتنی قیمتی کتابوں کے خوبصورت اڈیشن چھاپ چکے تھے اور کتاب کی نشر و اشاعت کے نئے نئے طریقے سوچ رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ جب ادارہ اس انداز سے سرگرم ہو گا تو اسے ایسے پروگراموں کے لیے فنڈ بھی مطلوب ہوں گے۔ جانے وہاں کیا واقعہ گزرا کہ اس عزیز نے استعفیٰ داغ دیا اور جلدی ہی سبکدوش ہو گیا۔ اب ادھر سے کسی پروگرام کے سلسلہ میں کوئی خبر نہیں آ رہی۔ کل تک کتنا سرگرم تھا۔ اب راوی اس ادارے کے نام سناٹا لکھتا ہے۔

ابھی پچھلے دنوں ہم نے کشور ناہید کے ایک کالم میں پڑھا تھا کہ اس ملک میں جو مٹھی بھر علمی ادبی ادارے سرکاری اہتمام میں قائم ہوئے تھے۔ وہاں سربراہوں کی جو کرسیاں ہیں وہ کتنے عرصے سے خالی پڑی ہیں۔ انھیں پر کرنے کے کوئی اثر آثار نہیں ہیں۔ مقتدرہ قومی زبان میں چیئرمین کی کرسی خالی پڑی ہے اور وہاں اردو لغت بورڈ، اس ادارے کا بھی اب کوئی سردھڑ نہیں ہے۔ کن کن اداروں کے نام گنائے جائیں۔ جب ادارے کا کوئی سربراہ نہیں ہو گا تو کام کیسے چلے گا۔ سو فی الحال یہ ادارے معطل ہیں اور جو نئی حکومت آئی ہے اسے ان اداروں سے کوئی ایسی دلچسپی بھی شاید نہیں ہے۔ ارے یہ علمی ادبی ادارے ہی تو ہیں۔ ان کی سیاسی افادیت کیا ہے۔ اگر ان اداروں کے سربراہ مقرر کیے جائیں تو پھر یہ ادارے متحرک ہوں گے۔ پھر یہ اپنے منصوبوں کے لیے فنڈ طلب کریں گے۔ ایسے اداروں کو نواز کر مسلم لیگ نون کی حکومت کو کتنی رکعت کا ثواب ملے گا۔

اصل میں پاکستان کے شروع کے ادوار میں جب ذرا قومی جوش تھا، کچھ قومی آرزوئیں تھیں۔ اس قسم کی آرزوئیں کہ پاکستان کو بھی مہذب قوموں کی برادری میں باعزت مقام حاصل ہو۔ علمی، ثقافتی ادبی ادارے قائم کیے جائیں، ایسے افراد کو جو علمی ادبی ثقافتی اعتبار سے مقام و مرتبہ رکھتے ہیں ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جائے۔

مگر پھر ہوا یہ کہ ایسی آرزوئیں ایسے خواب اہل اقتدار کو بے معنی نظر آنے لگے۔ تو ہم نے ایسے کتنے اداروں کو جو ہماری آنکھوں کے سامنے پروان چڑھے تھے رفتہ رفتہ زوال کرتے دیکھا۔ کئی ایک بند بھی ہو گئے۔

اداروں کو بند کرنے کا بڑا آسان نسخہ یہ ہے کہ ایسے حالات پیدا کر دیے جائیں کہ وہ عضو معطل بن کر رہ جائیں۔ پھر کہا جا سکتا ہے کہ یہ ادارے یا یہ ادارہ کیا کام کر رہا ہے۔ کیوں نہ اسے بند کر دیا جائے۔ ایسا پہلے ہو چکا ہے۔ آیندہ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔

اکیڈمی آف لیٹرز بجلی تو فراہم نہیں کرتی کہ اس کے بند ہونے سے لوگ تڑپ کر باہر نکل آئیں اور سڑکوں پر ٹائر جلائیں۔ وہ تو ذہنی غذا فراہم کرتی ہے۔ اصولاً اسے یہ غذا فراہم کرنی چاہیے۔ نہیں کر رہی تو اس کا ذمے دار بھی حکومت ہی کو سمجھا جائے گا۔ اب اگر لاہور ایسے شہر میں جو پاکستان میں علم و ادب کا مرکز سمجھا جاتا ہے اکیڈمی کا دفتر قائم ہو اور اس کے کارکنان کوئی ادبی علمی سرگرمی جاری نہ رکھ سکیں تو وہ کیا کریں گے۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے۔ پھر اس ادارے کا اس شہر میں مصرف کیا ہے۔

سو صاحب آثار کچھ اچھے نہیں ہیں۔ علمی ادبی ثقافتی ادارے مشکل میں ہیں۔ ارباب بست و کشاد کی نظروں میں ان کی کوئی افادیت نہیں ہے۔ ہم ان کی بقا کے لیے بس دعائے خیر ہی کر سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *