حسن عباس رضا بنام احمد فراز!

مجھے علی اصغر عباس اور حسن عباس رضا اس لئے بھی اچھے لگتے ہیں کہ وہ مجھے ’’بھائی جان‘‘ کہہ کر مخاطب ہوتے ہیں مگر اب حسن عباس رضا کے زیادہ اچھا لگنے کی ایک تیسری وجہ بھی ’’ظہور‘‘ میں آگئی ہے۔ پہلی وجہ میں نے آپ کو بتادی اور دوسری وجہ ان کی عمدہ شاعری اور اب حسن عباس کے حوالے سے ایک تیسری وجہ بھی سامنے آگئی ہے۔ مجھے حسن نے گزشتہ ہفتے اپنی ایک ’’نوزائیدہ‘‘ کتاب ’’میرے مہربان، میرے چارہ گر‘‘ پڑھنے کے لئے دی۔ پڑھنے کا خصوصی ذکر اس لئے کیا ہے کہ اس نے اس پر کچھ لکھنے کے لئے نہیں کہا تھا۔ میں ایسی فرمائش پر چڑ جاتا ہوں اور ایسی کتابوں پر کبھی نہیں لکھتا، ویسے بھی میرے کالم کا مزاج کتابوں پر تبصرے والا ہے ہی نہیں، نیز لکھنے کی فرمائش میں یہ خرابی بھی مضمر ہوتی ہے کہ تعریف بھی لکھیں، اگر ایسا نہ کیا جائے تو مصنف دل ہی دل میں کہتا ہے کہ اے چول آدمی تجھے سچ لکھنے کو کس نے کہا تھا۔

بہرحال حسن عباس رضا کی کتاب میں نے فارغ اوقات میں پڑھنا شروع کی تو اس کے کچھ حصے مجھے غیر معیاری محسوس ہوئے، میں نے اسے فون کر کے کہا کہ یار یہ تم نے کیا حرکت کی؟ کہ فلاں واقعے کی تفصیل میری اس کتاب میں موجود فلاں شخص کے خاکے میں ملاحظہ کریں، میں نے اسے کہا کہ یہ ایسے ہی ہے کہ آپ کسی ہوٹل فون کرتے ہیں، آگے سے ٹیپ ملتی ہے ریزوریشن کے لئے فلاں نمبر پر کال کریں اور فلاں مقصد کے لئے فلاں نمبر پر رابطہ کریں۔ میری اس بات پر حسن دل کھول کر ہنسا، حرام ہے اس نے رتی بھر بھی مائنڈ کیا ہو، چنانچہ میں نے سوچا کہ حسن نے اپنی تعریف میں کالم لکھانے کے لئے کتاب نہیں دی تھی بلکہ مجھے سینئر ادیب کے طور پر یہ کتاب بطور تحفہ پیش کی تھی۔

بس اس کے بعد پھر میں نے یہ کتاب جس میں فیض، ندیم، فراز، گلزار، پروین شاکر، کشور ناہید، امرتا پریتم اور احمد دائود کے خاکوں کے علاوہ اپنی اسیری کی داستان بھی شامل ہے، ناقدانہ انداز میں پڑھنا شروع کی اور حسن عباس رضا کی خوش قسمتی کہ میں نے سب سے پہلے احمد فراز کا خاکہ پڑھا، کیا بھرپور خاکہ ہے اور یہ خاکہ حسن ہی لکھ سکتا تھا کہ فراز کا جتنا قرب اور محبت حسن کو حاصل ہوا وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔ اس خاکے میں شاعر فراز، رند فراز، زندہ دل فراز، حریت پسند فراز، منہ پہ کھری بات کہنے والا فراز اور محبتوں میں پی ایچ ڈی کرنے والا فراز اپنی تمام جہتوں کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ میں یہ خاکہ پڑھتا گیا اور مجھے فراز سے اندرون ملک اور بیرون ملک کی سب ملاقاتیں یاد آنے لگیں اور میں نے محسوس کیا کہ حسن نے جو لکھا، سچ لکھا، مجھے اس خاکے میں بیرون ملک مقیم ایک خاتون کے خط سے اندازہ ہوا کہ فراز اور اس خاتون دونوں کی محبت کا ایک معیار ہے، کیا خوبصورت نثر لکھی ہے اس خاتون نے اپنی اور فراز کی محبت کو ایک ایسی سرخوشی کے عالم میں بیان کیا ہے کہ فراز کا اس سے تعلق اس کے دوسرے معاشقوں سے جدا نظر آتا ہے۔ فراز نے مجھ سے بھی اپنی اس محبت کا ذکر کیا تھا اور نام بتائے بغیر صرف اتنا کہا تھا کہ وہ ڈاکٹر ہے۔ حسن نے اس خاتون کا نام شہر اور ملک مخفی رکھا ہے اور اسے ایسا ہی کرنا چاہئے تھا۔ اب وہ میری اصلاح کرتے ہوئے صرف اتنا بتائے کہ وہ ڈاکٹر ہی تھی نا یا کوئی اور قتالہ تھی۔

فراز، حسن سے بےپناہ محبت کرتا تھا۔ اس کی ایک وجہ حسن کا فراز سے عشق کی حد تک محبت اور دوسری وجہ حریت پسندی کا وہ عملی مظاہرہ تھا جو حسن عباس نے جنرل ضیاء الحق کے دور استبداد میں کیا، چنانچہ فراز نے ایک دن اپنی ساری ملکیتی دستاویز، خطوط اور تصاویر حسن کے سپرد کردیں۔ ہمارا بھتیجا شبلی فراز جب لندن سے اپنی تعلیم مکمل کرکے واپس پاکستان آیا تو حسن نے ملکیتی دستاویزات تو اس کے سپرد کردیں مگر ’’خفیہ‘‘ خطوط اور تصویروں پر قبضہ غاصبانہ کرلیا اور میرے نزدیک یہ اسے کرنا ہی چاہئے تھا کہ یہ چیزیں بیٹے سے خفیہ ہی رکھنے والی تھیں۔ فراز کے خاکے میں وہ پھلجڑیاں بھی شامل ہیں جو وہ محفل یاراں میں چھوڑتا تھا اور جان محفل کی صورت اختیار کرتا تھا۔ ان میں سے جو ناقابل اشاعت تھیں حسن نے وہ الگ باندھ کے رکھ لیا، جو مال اچھا تھا۔ ویسے باقی ’’مال‘‘ بھی ایسا ہے جو فراز یا منیر نیازی کے ہاں ملتا ہے، حسن نے ایک جگہ یہ واقعہ بیان کیا کہ ایک بار فراز، منیر اور احمد راہی کہیں کھڑے باتیں کررہے تھے کہ ایک فقیر نے احمد راہی سے کہا کہ اللہ کے نام پر کچھ دو۔ اس پر فراز نے فقیر کے کاندھوں پر ہاتھ رکھا اور پوچھا ’’تمہیں پتا ہے تم آج تک فقیر کے فقیر ہی کیوں ہو؟‘‘ اس نے کہا’’ نہیں جناب، مجھے کیا پتا!‘‘ فراز نے کہا ’’اس لئے کہ تمہیں آج تک پتا نہیں چلا کہ کس سے مانگتے ہیں اور کسے دینا ہوتا ہے!‘‘

میرے خیال میں آج اتنا ہی کافی ہے اگر موڈ بنا تو باقی خاکوں پر بھی لکھنے کی کوشش کروں گا، تاہم کاش حسن نے منیر نیازی، جون ایلیا اور محمد منشا یاد کا خاکہ بھی لکھا ہوتا۔ حماد غزنوی نے جون ایلیا کا خاکہ لکھا ہے، میں حسن کو اس کی کاپی بھیجوں گا۔ کیا کمال کا خاکہ ہے اور گزارش کروں گا کہ اگر اس کی کچھ ملاقاتیں درج بالا شخصیتوں سے رہی ہیں تو ان پر بھی کچھ لکھے کیونکہ اس نے ثابت کردیا ہے کہ وہ اچھی شاعری ہی نہیں اچھی نثر بھی لکھ سکتا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *