موٹاپا تمباکو نوشی سے زیادہ کینسر کا باعث

ایک فلاحی تنظیم کے مطابق برطانیہ میں تمباکو نوشی کے برعکس موٹاپا کینسر کی چار عمومی اقسام کے کیسز میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

کینسر ریسرچ یو کے نامی تنظیم کے مطابق آنتوں، گردوں، بیضہ دانی اور جگر کے کینسر اب تمباکو نوشی کے بجائے موٹاپے سے ہونے کا زیادہ امکان موجود ہے۔

اس تنظیم کا کہنا ہے کہ لاکھوں افراد اپنے وزن کی وجہ سے کینسر کے خطرے کا شکار ہیں اور یہ کہ موٹاپے کے شکار افراد تمباکو نوش افراد کے مقابلے میں تعداد میں دو گنا زیادہ ہیں۔

اس دوران کینسر ریسرچ یو کے کی موٹاپے سے کینسر کے خطرے کی نشاندہی کرتی نئی بل بورڈ مہم پر یہ کہہ کر تنقید کی جا رہی ہے کہ یہ موٹاپے کے شکار افراد کی تضحیک کر رہی ہے۔

موٹاپا

کینسر ریسرچ یو کے کی موٹاپے سے کینسر کے خطرے کی نشاندہی کرتی نئی بل بورڈ مہم پر تنقید کی جا رہی ہے کہ یہ موٹاپے کے شکار افراد کی تضحیک کر رہی ہے۔

اس تنظیم پر ماضی میں بھی موٹاپے کے شکار افراد کی تضحیک کا الزام لگتا رہا ہے۔

فروری میں کامیڈین اور سماجی کارکن سوفی ہیگن نے ٹوئٹر پر اس مہم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک ٹوئٹر صارف [email protected] کا کہنا تھا کہ موٹاپے کو سگریٹ کے ڈبے کے اسٹائل کے ساتھ پیش کرنا ایک نئی گراوٹ ہے۔

مگر کینسر ریسرچ یو کے کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کو ان کے زیادہ وزن کے لیے قصوروار نہیں ٹھہرا رہی۔ اور یہ کہ اس کی جانب سے تمباکو نوشی اور موٹاپے سے کینسر کے خطرے کا براہِ راست موازنہ بھی نہیں کیا جا رہا۔

تنظیم کے مطابق تمباکو نوشی اب بھی مجموعی طور پر برطانیہ میں قابلِ انسداد کینسر کی سب سے بڑی وجہ ہے جبکہ موٹاپا دوسرے نمبر پر آتا ہے۔

موٹاپا

ٹوئٹر صارف [email protected] کا کہنا تھا کہ موٹاپے کو سگریٹ کے ڈبے کے اسٹائل کے ساتھ پیش کرنا ایک نئی گراوٹ ہے۔

مگر ایسے وقت میں جب تمباکو نوشی کی شرح میں کمی آ رہی ہے تو وہیں موٹاپے میں اضافہ ہو رہا ہے جس پر ماہرینِ صحت کا اتفاق ہے کہ یہ تشویشناک ہے۔

برطانیہ میں ایک تہائی بالغ افراد موٹاپے کا شکار ہیں۔

برطانیہ میں تقریباً:

  • موٹاپے کے شکار ایک کروڑ 34 لاکھ بالغ افراد ایسے ہیں جو تمباکو نوشی نہیں کرتے
  • 63 لاکھ تمباکو نوش بالغ افراد ایسے ہیں جو موٹے نہیں
  • 15 لاکھ بالغ افراد ایسے ہیں جو موٹاپے کے شکار بھی ہیں اور تمباکو نوشی بھی کرتے ہیں

یوں تو موٹاپے اور کینسر کے درمیان تعلق واضح طور تسلیم شدہ ہے مگر یہ کس حیاتیاتی مکینزم کے تحت ہوتا ہے یہ مکمل طور پر سمجھا نہیں جا سکا ہے۔

چربی کے خلیے اضافی ہارمونز اور نشونما کے عوامل پیدا کرتے ہیں جو جسم کے خلیوں کو مزید تقسیم کی ہدایت کرتے ہیں جس سے کینسر کے خلیے بننے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جسمانی سرگرمی بھی ممکنہ طور پر اس میں کردار ادا کرتی ہے۔

زیادہ وزن یا موٹاپے کا مطلب یہ نہیں کہ شکار فرد کو یقینی طور پر کینسر ہوگا مگر ان کے متاثر ہونے کا خطرہ ضرور بڑھ جاتا ہے۔ اور جتنا زیادہ وزن بڑھتا ہے اور موٹاپا ہوئے جتنا عرصہ گزرتا ہے، خطرہ اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔

کینسر ریسرچ یو کے کا کہنا ہے کہ 13 مختلف کینسر موٹاپے سے تعلق رکھتے ہیں جن میں مندرجہ ذیل اقسام شامل ہیں:

  • چھاتی (خواتین میں ماہواری بند ہونے کے بعد)
  • آنت
  • پتہ
  • غذا کی نالی
  • جگر
  • گردہ
  • بالائی معدہ
  • گال بلیڈر
  • رحمِ مادر
  • بیضہ دانی
  • تھائی رائیڈ
  • خون کا کینسر
  • دماغ کا کینسر

موٹاپا

برطانیہ میں ایک تہائی بالغ افراد موٹاپے کا شکار ہیں۔

یوں تو موٹاپے اور کینسر کے درمیان تعلق صرف بالغ افراد میں پایا گیا ہے مگر ایک صحتمند وزن بچوں کے لیے بھی ضروری ہے۔

تنظیم کے مطابق برطانیہ میں ہر سال زائد وزن کی وجہ سے

  • تمباکو نوشی کے برعکس موٹاپے کی وجہ سے آنتوں کے کینسر کے 1900 زیادہ کیس ہوتے ہیں
  • گردوں کے کینسر کے 1400 زیادہ کیس
  • بیضہ دانی کے کینسر کے 460 زیادہ کیس
  • جگر کے کینسر کے 180 زیادہ کیس

کینسر ریسرچ یو کے میں کینسر کی روک تھام کی ماہر پروفیسر لِنڈا بالڈ کہتی ہیں کہ حکومت کو برطانیہ کے موٹاپے کے مسئلے سے نمٹنے کی لیے مزید اقدامات کرنے چاہیئں۔

برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت مضرِ صحت کھانوں اور مشروبات کے اشتہارات روکنے میں سست روی کی شکار رہی ہے۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ 'جہاں ہم تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے طبی مسائل سے بخوبی واقف ہیں، وہیں کینسر کی بڑی وجہ موٹاپے سے نمٹنے کے لیے کم ہی کوشش کی گئی ہے۔'

نیشنل ہیلتھ سروس انگلینڈ کے چیف ایگزیکٹیو سائمن اسٹیونز نے کہا کہ: 'این ایچ ایس موٹاپے کے خلاف جنگ اکیلے نہیں جیت سکتی۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'اگر ہم امریکہ کی نقصان دہ اور مہنگی مثال اپنانے سے بچنا چاہتے ہیں تو خاندانوں، خوراک کے کاروبار کرنے والوں اور حکومت، سبھی کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *