اے ٹی ایم سے چوری کے ملزم کی دورانِ حراست ہلاکت پر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں اے ٹی ایم سے رقم چرانے کے الزام میں پکڑے جانے والے شخص کی پولیس کی حراست میں ہلاکت پر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

صلاح الدین نامی اس شخص کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں اسے اے ٹی ایم توڑتے اور اس عمل کے دوران سی سی ٹی وی کیمرے کو دیکھ کر شکلیں بناتے دیکھا جا سکتا تھا۔

پولیس کے صلاح الدین کو رحیم یار خان سے حراست میں لیا تھا اور یکم ستمبر کو یہ بات سامنے آئی کہ وہ دورانِ حراست ہلاک ہو گیا ہے۔

وزیرِاعلیٰ پنجاب کے ترجمان شہباز گل کے مطابق پولیس کی حراست میں دم توڑنے والے شخص صلاح الدین کے والد کی درخواست پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او, اے ایس آئی اور تقتیشی افسر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

یہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت درج کیا گیا ہے جو قتلِ عمد کے بارے میں ہے۔

صلاح الدین کے والد محمد افضل نے ایف آئی آر میں کہا ہے کہ انھیں میڈیا کے ذریعے اپنے بیٹے کی ہلاکت کا علم ہوا اور پولیس نے اس بارے میں ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

انھوں نے کہا ہے کہ ’ہمیں اطلاع دیے بغیر اس کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا‘۔

لواحقین کا دعویٰ ہے کہ صلاح الدین ذہنی مریض تھا جو ہمیشہ ادھر ادھر گھومتا رہتا تھا۔

والد محمد افضل کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کے بازو پر نام اور ایڈریس کندہ کروایا ہوا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کو کیسے یہ نہیں پتا چلا کہ وہ ذہنی معذور سے بات کر رہے ہیں۔

ایف آئی آر

وائرل ویڈیو والا شخص

واضح رہے کہ دو روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک شخص اے ٹی ایم مشین کھول کر کارڈ نکال رہا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ شخص صلاح الدین ہے اور وہ بینک فیصل آباد میں واقع ہے۔

رحیم یار خان پولیس کے ذرائع نے کچھ اور وڈیوز بھی فراہم کی ہیں، جن میں ایک شخص حوالات میں عجیب و غریب حرکتیں کرتا نظر آتا ہے۔ اس حوالے سے پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ شخص بھی صلاح الدین ہے۔

صلاح الدین کے چچا محمد اعجاز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں میڈیا کے ذریعے پتا چلا کہ صلاح الدین کو اے ٹی ایم چرانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق یہ خبر ملنے کے بعد انھوں نے رحیم یار خان پولیس کو فون کرنے شروع کردیے لیکن صلاح الدین کا نام سنتے ہی پولیس والے فون رکھ دیتے تھے۔ ان کے مطابق پولیس نے ان کی بات ہی نہیں سنی۔

صلاح الدین کے چچا نے بتایا کہ اس سے پہلے بھی صلاح الدین کو گرفتار کر کے اڈیالہ جیل میں رکھا گیا تھا جبکہ لاہور میں بھی پولیس انھیں پکڑ چکی ہے۔

صلاح الدین

والد محمد افضل کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کے بازو پر نام اور ایڈریس کندہ کروایا ہوا تھا

محمد اعجاز کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے صلاح الدین کے بازو پر ان کا نام اور پتہ تحریر کیا گیا تھا تاکہ کسی جگہ پر اگر کوئی مسئلہ ہو تو ان سے رابطہ کیا جائے مگر رحیم یار خان پولیس نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پولیس متعلقہ تھانے میں رابطہ کر لیتی تو ساری صورتحال واضح ہو جاتی کہ وہ ذھنی مریض ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک ذہنی معذور اے ٹی ایم کارڈ چرانے میں ملوث ہو‘۔

پولیس کا کیا کہنا ہے؟

پولیس نے تفتیشی افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ اس سے قبل پولیس نے صلاح الدین پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے ایم ٹی اے کارڈ چرائے تھے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ دل کا دورہ ثابت ہوئی ہے جبکہ ملزم کے جسم پر تشدد کے نشان بھی نہیں ملے تاہم میڈیکل بورڈ قائم کردیا گیا ہے تاکہ تفتیش کا کوئی پہلو مخفی نہ رہ سکے۔

رحیم یار خان کے تھانہ سٹی اے ڈویژن کے ایس ایچ او محمود الحسن نے بی بی سی کو بتایا کہ 30 اگست کو شاہی روڈ پر واقع نجی بنک کے مینجر نے شکایت درج کرائی کہ ان کی برانچ کی اے ٹی ایم مشین توڑی گئی ہے۔

ایف آئی آر

اگلے دن شہریوں نے ریلوے سٹیشن پر صلاح الدین کو شور شرابہ کرتے ہوئے پہچان لیا کہ یہ وہی شخص ہے جس کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے اور اسے پولیس کے حوالے کیا گیا۔

ایس ایچ او محمود الحسن کے مطابق گرفتاری کے بعد ملزم حوالات میں بھی عجیب و غریب حرکتیں کرتا تھا۔ کبھی دوسرے قیدیوں پر تھوکتا تھا، شور شرابہ کرتا تھا، یہاں تک کہ اپنے کپڑے اتارنے کی بھی کوشش کرتا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ملزم کی عمر 35 برس کے لگ بھگ تھی اور ابتدائی دو گھنٹے اس نے خود کو گونگا ظاہر کیا لیکن جب تفتیش کے لیے سپیشل ایجوکیشن والوں کی مدد مانگی گئی تو اس نے بولنا شروع کر دیا۔

ملزم نے بتایا کہ وہ گم ہو جاتا ہے اس لیے اس کی کلائی پر نام تحریر کیا گیا ہے۔ محمود الحسن نے تصدیق کی کہ سوشل میڈیا پر ملزم کی وائرل ویڈیو فیصل آباد کے بنک کی ہے جبکہ رحیم یار خان میں بنک کی اے ٹی ایم مشین توڑنے کی ویڈیو شکایت کنندہ بنک منیجر نے پولیس کو فراہم کی۔

تھانہ سٹی کے ایس ایچ او نے بتایا کہ ملزم کو سنیچر کی رات طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹرز نے پچیس منٹ بعد ان کی موت کی تصدیق کر دی۔

رحیم یار خان پولیس کے ترجمان زیشان رندھاوا کے مطابق ملزم کے خلاف اے ٹی ایم چرانے کے الزام میں کم از کم چھ مقدمات ساہیوال، لاہور، شیخوپورہ، فیصل آباد اور اسلام آباد میں درج ہیں۔

رحیم یار خان کے صحافی اویس اسلم نے بتایا کہ پولیس نے جب ملزم سے پوچھا کہ وہ یہ کام کیوں کرتا ہے تو اس نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا جس کا مطلب تھا کہ پیٹ کی خاطر۔

تھانے میں درج شکایت

اسی طرح جب ان سے نام پوچھا گیا تو انھوں نے اپنے بازو پر درج نام کی جانب اشارہ کیا۔ ملزم نے اس طرح یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جیسے وہ کونگا ہو۔

ملزم اے ٹی ایم کارڈ کیسے چراتا تھا؟

رحیم یار خان پولیس شعبہ تفتیش کے ذرائع کے مطابق ملزم سے جب ابتدائی طور پر بات کی گئی تو لگ رہا تھا کہ جیسے وہ انتہائی چالاک اور شاطر یا پھر کوئی نفسیاتی کیس ہے۔

ابتدائی تفتیش میں ملزم نے بتایا کہ وہ صرف اے ٹی ایم کارڈ چراتا تھا۔ یہ اے ٹی ایم کارڈ اس سے گوجرنوالہ کا کوئی شخص دس ہزار روپے میں خریدتا تھا۔ پولیس زرائع کے مطابق ملزم نے شاید ایک بینک سے کچھ رقم بھی چرائی تھی ورنہ وہ رقم کو ہاتھ نہیں لگاتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے انھیں شک تھا کہ ملزم کا تعلق کسی گروہ سے ہے لیکن انھیں مزید تفتیش کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔

تفتیش کاروں کے مطابق ملزم پر ایک مقدمہ ساہیوال میں بھی درج ہے مگر اس نے وہاں کی اے ٹی ایم مشین سے کوئی رقم نہیں چرائی تاہم بعد میں اس کارڈ کے زریعے کم از کم پچاس ہزار روپے نکلوائے گئے تھے۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ملزم نے خود بتایا ہے کہ جب اس نے کسی اے ٹی ایم مشین سے کارڈ چرانا ہوتا تھا تو وہ سب سے پہلے اس مشین میں کارڈ ڈالنے والی جگہ پر کاغذ ڈال دیا کرتا تھا۔ جب کوئی بھی صارف اپنا کارڈ استعمال کرنے کی کوشش کرتا تو اس کا کارڈ پھنس جاتا اور پھر ملزم اس اے ٹی ایم مشین کو کھول یا توڑ کر کارڈ نکال لیتا تھا۔

ملزم کی ایک اور ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ صلاح الدین سے پوچھ گچھ کی وڈیو ہے۔ اس ویڈیو میں سوال کرنے والا پوچھتا ہے کہ تم نے اشاروں کی زبان کس طرح سیکھی ہے تو صلاح الدین سوال کرنے والے سے کہتے ہیں کہ ناراض نہیں ہونا، مجھے ایک بات بتائیں کہ آپ کس طرح لوگوں پر تشدد کرنا سیکھ لیتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *