عرب مہمانوں کی آمد

سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل بن احمدالجبیر اور، متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید بن سلطان النہیان کی پاکستان آمد Damage Control Exercise تھی یا پاکستانی (اور کشمیری) بھائیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش؟ اس موقع پر ''خون پانی سے گاڑھا ہوتا ہے‘‘ والا محاورہ بھی یاد آیا۔ ملکوں کے باہمی تعلقات میں اونچ نیچ، ہوتی رہتی ہے لیکن بعض تعلقات زمانے کے گرم سرد سے ماورا ہوتے ہیں اور عربوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت بھی یہی رہی ہے۔
حکمرانوں کی ضرورتیں اور مصلحتیں اپنی جگہ لیکن ''مسلم اُمّہ‘‘ کی آرزوئیں اور تمنائیں، ان کے دکھ اور سُکھ، ان کی خوشیاں اور غمیاں سانجھی رہی ہیں۔ ستمبر 1965 میں پاکستان بھارتی جارحیت کا نشانہ بنا، تو تین چار مسلمان حکمرانوں کو چھوڑ کر سارا عالم اسلام پاکستان کی پشت پر آن کھڑا ہوا تھا۔ عرب اور عجم کی بھی کوئی تفریق نہیں تھی۔ پاکستان کی حمایت میں سعودی عرب کے شاہ فیصل اور ایران کے رضا شاہ کے جذبے یکساں تھے۔ ترکوں کو تو اب بھی، پہلی عالمی جنگ اور پھر تحریک خلافت میں، اسلامیانِ ہند کی طرف سے دامے، درمے، قدمے، سخنے تائید و حمایت یاد ہے، جب برصغیر کی مسلمان خواتین نے اپنے زیور تک ترک بھائیوں کے لیے چندے میں دے دیے تھے۔ 2010 کے سیلاب میں طیب اردوان پاکستان کے دورے پر آئے تو برصغیر کی مسلم خواتین کی اُسی روایت کا اعادہ کرتے ہوئے ترک خاتونِِ اول نے اپنا ہار سیلاب زدگان کے لیے امدادی فنڈ میں دے دیا (بعد میں اس ہار کے ساتھ کیا ہوا؟ وہ الگ کہانی ہے)۔ اُدھر مشرقِ بعید کے مسلمانوں کے دل بھی پاکستانی بھائیوں کے ساتھ دھڑک رہے تھے۔ انڈونیشیا کے صدر عبدالرحیم سوئیکارنو نے نعرہ لگایا ''کُن جِنگ انڈیا‘‘ (اور اس کے ساتھ انگریزی میں ترجمہ بھی کر دیا: CRUSH INDIA)۔
1969 میں مراکش کے شہر رباط میں او آئی سی کا تاسیسی اجلاس تھا۔ افتتاحی سیشن میں، مراکش میں بھارتی سفیر بھی (آبزرور کے طور پر) موجود تھا۔ صدر جنرل یحییٰ خان کے علم میں یہ بات آئی تو انہوں نے سعودی عرب کے شاہ فیصل اور میزبان شاہ مراکش کو پیغام بھجوایا کہ وہ کانفرنس کے آئندہ اجلاسوں میں شرکت کی بجائے احتجاجاً پاکستان واپس جا رہے ہیں۔ شاہ فیصل اور شاہ مراکش، یحییٰ خان کی قیام گاہ پر آئے لیکن صدر پاکستان اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ کانفرنس کے باقی اجلاسوں میں شرکت کے لیے بھارت کے نائب صدر فخرالدین علی احمد رباط کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔ انہیں راستے میں اطلاع دے دی گئی کہ کانفرنس میں بھارت کی بطور مبصر شرکت کی دعوت واپس لے لی گئی ہے۔ او آئی سی کی دوسری سربراہ کانفرنس (1974) کی میزبانی کا اعزاز پاکستان کے حصے میں آیا (یہ بھٹو صاحب کی وزارتِ عظمیٰ کا دور تھا)۔ شاہ ایران کے سوا تمام مسلم ممالک کے سربراہان شریک ہوئے (ان میں نوزائیدہ بنگلہ دیش کے شیخ مجیب الرحمن بھی تھے۔ یہی کانفرنس بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا ذریعہ بنی)۔ شاہ ایران، بھٹو صاحب کی طرف سے لیبیا کے کرنل قذافی کی غیر معمولی پذیرائی پر ناخوش تھے۔
افغانستان کے خلاف سوویت جارحیت پر اپریل 1980 میں مسلم وزرائے خارجہ کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ اب ایران میں جناب آیت اللہ خمینی کا انقلابی راج تھا۔ سوویت جارحیت کی مذمت اور سوویت انخلا کے مطالبے پر مبنی قرارداد ایرانی وزیر خارجہ صادق قطب زادہ ہی نے پیش کی تھی۔
1997 میں وزیر اعظم نواز شریف کی (دوسری) حکومت نے پاکستان کی گولڈن جوبلی کے سلسلے میں او آئی سی کے خصوصی سربراہی اجلاس کے انعقاد کا فیصلہ کیا، جس میں سعودی ولی عہد عبداللہ بن عبدالعزیز کے علاوہ ایران کی اعلیٰ قیادت بھی شریک تھی۔ برسوں بعد دونوں ملکوں میں مصافحہ کا یہ پہلا موقع تھا۔
1998 کے ایٹمی دھماکوں میں، پاکستان کو عالمی اقتصادی پابندیوں کا سامنا تھا۔ اس مشکل گھڑی میں سعودی عرب پھر پاکستان کے کام آیا۔ تمام تر عالمی دباؤ کے باوجود اس نے پاکستان کو تیل کی فراہمی کا فیصلہ کیا (فائلوں میں یہ Deffered Payment پر لیکن عملاً ''حسابِ دوستاں در دل‘‘ والا معاملہ تھا)۔ انہی دنوں ولی عہد عبداللہ پاکستان سمیت 8 ملکوں کے عالمی دورے پر نکلے تھے۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو میں ایک سوال عالمی اقتصادی پابندیوں کے باوجود، پاکستان کو سعودی تیل کی فراہمی سے متعلق بھی تھا، جس پر ولی عہد نے صاف الفاظ میں کہا: کوئی یہ نہ سمجھے کہ دنیا پاکستان کا بازو مروڑ رہی ہو اور ہم خاموش تماشائی بنے رہیں گے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت میں نواب زادہ نصراللہ خان پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے سربراہ تھے۔ نواب زادہ صاحب کو جوانی میں بھی بیرونِ ملک سیر سپاٹے کا شوق نہیں رہا تھا‘ لیکن اب پیرانہ سالی میں، عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے دنیا کے تمام اہم دارالحکومتوں میں پہنچے۔ کاسابلانکا میں او آئی سی کے سربراہ اجلاس میں، وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے ساتھ نواب زادہ صاحب بھی موجود تھے۔ سربراہ اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر کانٹیکٹ گروپ کے قیام کا فیصلہ ہوا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو سمیت پاکستانی وفد کیلئے یہ بات خوشگوار حیرت کا باعث تھی کہ کانٹیکٹ گروپ میں شرکت کے لیے خود ولی عہد عبداللہ چلے آئے تھے۔
پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں سعودیوں کی ''دلچسپی‘‘ بھی ایک حقیقت تھی۔ دھماکوں کے بعد وزیر اعظم نواز شریف سعودی عرب گئے تو شاہی محل میں ان کے لیے خصوصی عشائیے میں شاہ فہد کے ساتھ تمام سعودی شاہزادے بھی موجود تھے۔ ولی عہد عبداللہ اپنی والدہ کے اکلوتے بیٹے تھے، اس لحاظ سے شاہ فہد، شہزادہ نائف، شاہزادہ سلطان اور (موجودہ بادشاہ) سلمان بن عبدالعزیز ان کے سوتیلے بھائی (ہاف برادر) تھے۔ ولی عہد نے مہمان وزیر اعظم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا: آج سے آپ میرے ''فل برادر‘‘ ہیں اور پھر ساری عمر اس (منہ بولے) رشتے کو نبھایا۔ مشرف دور میں اٹک قلعے کی کال کوٹھڑی سے نواز شریف کو نکال لے جانے میں بھی یہی رشتہ کارفرما تھا۔ ایک ملاقات میں قاضی حسین احمد (مرحوم) نے سعودی لیڈر سے نواز شریف کی جلا وطنی کا ذکر چھیڑا تو ان کا کہنا تھا: ہمارے دوست، ہمارے بھائی کی گردن تلوار کے نیچے تھی، ہم اِسے نکال لائے۔
شاہ عبداللہ جنوری 2006 میں انڈیا کے دورے پر گئے۔ یہ 1950 کی دہائی کے بعد کسی سعودی سربراہ کا انڈیا کا پہلا دورہ تھا۔ دہلی پہنچ کر اخبار نوسیوں سے گفتگو میں انہوں نے کسی لاگ لپٹ کے بغیر کہا: انڈیا ہمارا دوست اور پاکستان ہمارا بھائی ہے، دوست بدلتے رہتے ہیں بھائی نہیں بدلتے۔
مارچ2015 میں یمن کا بحران پہلا موقع تھا‘ جب سعودیوں کو پاکستان سے شکایت پیدا ہوئی۔ پاکستانی پارلیمنٹ کی قرارداد میں ''Impartial‘‘ کا لفظ ان کے لیے بطور خاص دُکھ کا باعث تھا (یہ لفظ جناب شاہ محمود قریشی اور محترمہ شیریں مزاری کے اصرار پر شامل کیا گیا تھا) پاکستان کی کوششوں سے سعودیوں کی شکایت رفع ہو گئی؛ البتہ امارات والوں کا رد عمل شدید تر تھا۔ اماراتی وزیر خارجہ کے بیان میں سفارتی آداب کا بھی لحاظ نہیں تھا۔ امسال امارات میں، مسلم وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج (اب آنجہانی) کی مہمان خصوصی کے طور پر شرکت، پاکستان کے لیے حیرت اور تاسف کا باعث تھی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بطور احتجاج اس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا (پاکستان کی شرکت ''نچلی سطح‘‘ کی تھی)۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے خلاف مودی کی 5 اگست کی جارحیت کو دہلی میں اماراتی سفیر نے انڈیا کا داخلی معاملہ قرار دیا۔ اس بدلے ہوئے رویے کا وزیر خارجہ قریشی نے گلہ کیا۔ اسی دوران بھارت میں آئل ریفائنری میں سعودی آرامکو کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی خبر بھی آئی۔ مودی کو امارات کا سب سے بڑا اعزاز دینے کا واقعہ بھی انہی دنوں ہوا۔ بحرین میں بھی اس کی پذیرائی کی گئی۔ 
اس عالم میں سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ اور اماراتی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد اور وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں ہوا کا خوشگوار جھونکا ہیں‘ جس سے بھارت کے ساتھ ان کے تجارتی معاملات میں تو شاید کوئی کمی نہ آئے؛ البتہ پاکستانیوں کیلئے اس میں نفسیاتی تسکین کا سامان ضرور ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *