کیا عدالتی کمیشن سے صلاح الدین کو انصاف مل سکتا ہے؟

صلاح الدین کی پولیس حراست میں ہلاکت: کیا عدالتی کمیشن کے قیام سے انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں گے؟

صلاح الدین کے گھر والوں کو ابتدا میں محض شک تھا کہ ان کی موت تشدد کا نتیجہ ہے۔ وہ پولیس کی تحویل میں ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان میں اس نوعیت کی اموات کے بارے عام تاثر یہی پایا جاتا ہے۔

صلاح الدین کے لواحقین کا یہ شک اس وقت یقین میں بدلا جب ان کی لاش کو گجرانوالہ میں ان کے آبائی علاقے لایا گیا اور تدفین سے قبل اسے غسل دینے کا وقت آیا۔ ان کے والد اور بڑے بھائی ظہیرالدین نے اس وقت پہلی بار صلاح الدین کے بدن پر تشدد کے نشانات دیکھے۔

ظہیرالدین نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ایک بازو پر بغل کے نیچے اس طرح سے ماس اکھڑا ہوا تھا کہ جیسے استری کے ساتھ جلایا گیا ہے یا کرنٹ لگایا گیا ہے۔ جلد اتری ہوئی تھی اس کی۔'

ظہیرالدین نے اسی وقت تشدد زدہ جسم کی تصاویر اور ویڈیوز بنائیں جو بعد ازاں سوشل میڈیا پر نظر آئیں تو دیکھنے والے ہزاروں افراد نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

'دوسری طرف کندھے کے اوپر، کوہنی اور ہاتھ پر بھی کٹ لگے ہوئے تھے اور انھیں بعد میں سیا ہوا تھا۔ کمر پر بھی نشان تھے اور اس کے علاوہ جسم کی نازک جگہ پر تشدد کے نشانات تھے۔ وہ اس قدر سوجی ہوئی تھی کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔'

صلاح الدین

صلاح الدین

ظہیرالدین کے مطابق صلاح الدین کے چہرے کا آدھا حصہ سیاہ ہو چکا تھا اور اس پر سوزش تھی۔ یہ سب دیکھنے کے بعد ان کے خاندان والوں کا مؤقف ہے کہ انھیں یقین ہے صلاح الدین کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔

تاہم نظام اس کو تاحال تسلیم نہیں کر رہا۔ رحیم یار خان پولیس کا اصرار ہے انھوں نے صلاح الدین پر تشدد نہیں کیا۔

صلاح الدین کے وکیل اسامہ خاور کے مطابق ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں 'یہ تو تسلیم کیا گیا ہے ان کے جسم پر سیاہ نشانات تھے تاہم موت کی وجہ کے حوالے سے حتمی رائے نہیں دی گئی۔'

کہا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے نمونے فرانزک ایجسنی لاہور بھجوائے گئے ہیں جہاں سے نتائج آنے میں دو ماہ کا وقت بھی لگ سکتا ہے۔

اسامہ خاور کو خدشہ ہے کہ 'پولیس اپنے ساتھیوں کو بچانے کی خاطر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے نظامِ قانون کے ہر پہلو میں دھاندلی کر رہی ہے۔‘ ان کا مطالبہ تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کا جج اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرے۔

'پولیس پر سے ہمارا یقین بالکل اٹھ گیا ہے'

فائل فوٹو

حکومتِ پنجاب نے لاہور ہائی کورٹ کو صلاح الدین کی موت کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کے لیے خط لکھ دیا ہے۔

پاکستان میں پولیس کے زیرِ حراست کسی ملزم کے ہلاک ہونے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ نہ ہی ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ ایسے معاملے کی عدالتی تحقیقات ہوں۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا عدالتی کمیشن کا قیام انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے؟

صلاح الدین کے خاندان کا کہنا ہے ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ ظہیرالدین کے مطابق 'پولیس پر سے تو ہمارا یقین مکمل طور پر اٹھ گیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ عدالتی تحقیقات ہوں۔'

ان کے وکیل اسامہ خاور کا کہنا تھا کہ 'رحیم یار خان پولیس نے ہمیں دھوکہ دیا۔ ہمیں یقین دلایا گیا کہ صلاح الدین پر کوئی تشدد نہیں ہوا۔ لواحقین سے بالکل رابطہ نہیں کیا گیا اور بغیر اطلاع خود ہی پوسٹ مارٹم کروا دیا گیا، ہم ان پر اعتماد نہیں کر سکتے۔'

عدالتی کمیشن کیا کرے گا؟

ماہرِ قانون اور وکیل سلمان اکرم راجہ کے مطابق عدالتی کمیشن موثر ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس یقیناً اپنے ساتھیوں کو بچانے کی کوشش کرے گی۔

'پولیس نے خود سے پوسٹ مارٹم بھی کروا لیا اور اس کی ابتدائی رپورٹ میں بھی کچھ نہیں آیا اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سب اچھے کی رپورٹ ہے۔'

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہو بھی تو 'جن لوگوں نے تدفین کی ان کی گواہیاں ریکارڈ کر کے اور بظاہر موقع کی تصاویر یا ویڈیوز ہیں، ان تمام چیزوں کو دیکھ کر عدالتی کمیشن کچھ نہ کچھ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے۔'

صلاح الدین کے وکیل اسامہ خاور کا بھی یہی مؤقف ہے۔ 'ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اس کی تحقیقات ایک غیر جانبدار عدالتی کمیشن کرتا ہے تو دھاندلی کا خدشہ کم ہو جاتا ہے۔' صلاح الدین کے لواحقین کو شنوائی کے لیے ہر بار رحیم یار خان بھی نہیں جانا پڑے گا۔

'وہاں پر تمام تر سرکاری مشینری کو پولیس کو بچانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور کیا جائے گا۔'

ہائیکورٹ

عدالتی کمیشن کا کام کہاں تک ہو گا؟

ماہرِ قانون سلمان اکرم راجہ کے مطابق عدالتی کمیشن از خود عدالت نہیں ہے۔ وہ انکوائری رپورٹ دے گا یعنی اس بات کا تعین کرے گا کہ کیا صلاح الدین کی موت پولیس تشدد سے ہوئی یا نہیں۔

اس رپورٹ کی روشنی میں دو قسم کی کارروائیاں ہوں گی۔ پہلی انتظامی نوعیت کی ہو گی یعنی اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ کسی پولیس افسر کو معطل کرنا ہے یا عہدے سے ہٹانا ہے۔ یا اس کے خلاف کوئی محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے اور سزا دی جائے۔

دوسری کارروائی فوجداری نوعیت کی ہو گی۔ 'اس میں معاملہ ٹرائل کورٹ میں جائے گا اور پھر عدالتی فیصلہ گواہیوں اور شواہد کی بنیاد پر ہی ہو گا۔'

پنجاب حکومت انتظامی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے پہلے ہی رحیم یار خان کے ضلعی پولیس افسر کو عہدے سے ہٹا چکی ہے۔ فوجداری کارروائی کے موقع پر معاملہ ایک مرتبہ پھر پولیس کے پاس ہی آ جائے گا۔

کیا اس وقت پولیس اپنے ساتھیوں کو نہیں بچا سکتی؟

لاہور میں انسانی حقوق کی وکیل ربیعہ باجوہ کے مطابق 'شواہد اکٹھے کرنے سے لے کر گواہیوں اور بیانات عدالت کے سامنے لانے تک سب کچھ پولیس اور ریاست کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ان کے مشاہدے میں آیا ہے کہ ایسی نوعیت کے مقدمات میں 'اگر اس بات کا واضح تعین ہو بھی جائے کہ پولیس (موت کی) ذمہ دار تھی تو پھر یہ پولیس آرڈر کے تحت کارروائی کرتے ہیں۔'

'جب عدالت زیادہ برہمی کا اظہار کرتی ہے تو یہ عدالت کو بتا دیتے ہیں کہ ٹھیک ہے ہم نے اس کے خلاف کارروائی کر دی ہے، اسے معطل کر دیا ہے۔ لیکن پھر جب عدالت سے کیس ختم ہوتا ہے تو یہ اپیل سن کر اسے دوبارہ بحال کر دیتے ہیں۔'

'جب پولیس ملوث ہوتی ہے اس طرح کے یا کسی بھی واقع میں، تو ریاست کی تمام تر مشینری اس کا پوری طرح دفاع کرتی ہے اور اسے تحفظ دیتی ہے۔'

(فائل فوٹو)

'پولیس والے جج، جیوری، مختار سب بنے ہیں'

صلاح الدین کے وکیل اسامہ خاور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کمیشن کی تحقیقات کے بعد فوجداری کارروائی میں پولیس کو بچانے کے حوالے سے خدشات موجود ہیں اور 'یہ نظامِ قانون کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔'

'یہاں ریاست کو چاہیے کہ وہ ذمہ داری لے۔ اصولی طور پر تو استغاثہ کو پولیس اور ریاست سے آزاد ایک خود مختار ادارہ ہونا چاہیے۔ یہاں تو پولیس والے جج، جیوری، مختار سب ہی بنے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'صلاح الدین کا مقدمہ اس بوسیدہ نظام کی علامت ہے جس میں یہی ہوتا آیا ہے کہ واقع پر عوامی غم و غصے کے ختم ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے اور پھر معاملہ رفع دفع کر دیا جاتا ہے۔'

'پولیس دباؤ کا استعمال کرے گی'

پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا تھا کہ انھیں خدشہ ہے کہ پولیس اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے دباؤ کا استعمال کرے گی۔

'عدالتی تحقیقات کے نتائج کا دارومدار اس بات پر بھی ہو گا کہ جس جج کو یہ ذمہ داری سونپی جاتی ہے وہ ڈٹ جائیں اور حقائق کو سامنے لے آئیں۔'

ڈاکٹر مہدی حسن کے مطابق 'ہماری پولیس ابھی تک سنہ 1861 کے قانون کے تحت کام کر رہی ہے جو نو آبادیاتی آقاؤں نے بنایا تھا لوگوں کو ڈرانے کے لیے۔ آزاد ملکوں میں پولیس لوگوں کی مدد اور تعاون کے لیے ہوتی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ اس عدالتی انکوائری کا کوئی مثبت نتیجہ نکل آئے۔ 'تا کہ آئندہ اس قسم کے واقعات نہ ہوں۔'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *