جسٹس عیسیٰ کیس: الزام اور قانونی ابہام

ہماری دیرینہ خواہش تھی کہ ہم عدلیہ کا بھی احتساب ہوتا دیکھیں تاکہ شہریوں کو انصاف فراہم کرنے والے افراد دیانت داری کا اعلیٰ ترین معیار یقینی بنائیں۔ یہ خواہش پوری ہوئی؛ عدلیہ کا احتساب ہونے لگا، لیکن خوش فہمی جلد ہی دم توڑ گئی۔ احتساب کا عمل کچھ گروہوں کی تمیز کرتا دکھائی دیا؛ ا س سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کا تاثر گہرا ہونے لگا۔کوئی بھی یقینی طور پر نہیں جانتا کہ یہ عمل کن اصولوں پر کاربند ہے۔ ایک عمومی احساس البتہ جاگزیں ہے: جو غلط بندے کر پکڑے گا، گھرجائے گا۔
جج حضرات عوامی عہدیدار ہوتے ہیں۔ ریاست نہ صرف اُنہیں اتھارٹی دیتی ہے (چنانچہ وہ من مانی نہیں کرسکتے)، بلکہ اُن سے تقاضا بھی کرتی ہے کہ وہ ہر صورت شفافیت یقینی بنائیں گے۔ یہی چیز اُنہیں ممتاز حیثیت دیتی، اور زمین پر عدل قائم کرنے کی الہامی ذمہ داری سونپتی ہے۔ انصاف کی فراہمی میں ذاتی پسند ناپسند، انا، تعصب، ناراضگی، ذاتی تشہیر اور خوف آڑھے نہیں آنے چاہییں۔ ممکن ہے کہ بشری تقاضے رکھنے والے انسانوں سے اس معیار کی توقع کرنا زیاتی ہو، لیکن اس اعلیٰ و ارفع منصب کا تقاضا یہی ہے۔
سپریم جوڈیشل کونسل کا طرزِعمل واضح ہونا چاہیے۔ سب سے اہم چیز عدالتی آزادی ہے۔ احتسا ب کا بے لاگ اور منصفانہ عمل نظام ِ انصاف کی آزادی اور راست بازی کو چار چاند لگادیتا ہے۔ لیکن یہاں زمینی حقائق اس مثالی صورت ِحال کے برعکس ہیں۔ یہاں من مانی کی فضا اتنی گہری ہے کہ قانون کا یقینی پن چھپ جاتا ہے۔ اگر جج حضرات کو بھی انصاف ہوتا نظر نہیں آتا تو پھر عام سائلین کو عدالت سے کیا ملے گا؟ اور آخر میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا جج حضرات اصو ل کے اُس پیمانے سے ماورا ہیں جس پر دوسروں کو تول کردیکھتے ہیں؟ کیا وہ زور نہیں دیتے کہ عوامی نمائندوں کو ذمہ داری اور شفافیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے؟ کیا اسی مظاہرے کی توقع جج حضرات سے نہیں کی جاتی؟
وکلا ہونے کے ناتے ہم عدالتی فیصلوں سے اکثر اختلاف کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپیل میں جانے کا حق استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم کچھ جج حضرات کا عدالتی رویہ دیگر کی نسبت پسند کرتے ہیں۔ کچھ جج باوضع اور تحمل مزاج ہوتے ہیں، اور وہ بہت صبر سے دلائل سنتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس، کچھ تنک مزاج ہوتے ہیں۔ لیکن رویے سے بھی اہم چیزصاحب ِ کردار ہونا ہے: کیا جج بیرونی دباؤکو قبول کرتا ہے؟ یا کیا وہ اپنے ضمیر اور قانون کی فہم (چاہے وہ بعض اوقات اُس سے غلطی ہی کیوں نہ سرزد ہوجائے) سے کام لیتا ہے؟
ممکن ہے کہ کچھ وکلا جسٹس عیسیٰ کے رویے یا فیصلوں سے اختلاف رکھتے ہوں، لیکن بہت سے اُن کی راست بازی کی گواہی دیں گے۔ چنانچہ جب اُنہیں کیچڑ میں گھسیٹا جاتاہے تو ہم صرف اُن کے لیے نہیں، دیگر بہت سوں کے لیے پریشان ہوجاتے ہیں۔ ججوں کو ڈرا کر یا مراعات دے کر بات منوانا ہماری تاریخ کا کوئی نادر واقعہ نہیں۔ اگر جسٹس عیسیٰ کا ماضی بھی ”ایجاد“ کیا جاسکتا ہے تو پھر یہ ٹکسالی عملی بہت سوں کے لیے نوشتہ ئ دیوار ہونا چاہیے۔
اس کے مقابلے پر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اگر جسٹس عیسیٰ کا دامن صاف ہے تو وہ اس معاملے سے باعزت باہر آجائیں گے۔ آخر اُن کے دیگر برادر ہی اُن کے کیس کی سماعت کررہے ہیں۔ لیکن اس دلیل کے ساتھ ہماری تاریخ میں دھانس اور دھمکی کا آپشن بھی جڑا ہوا ہے۔ اہم فیصلے بہت کم ریاست کی مرضی کے خلاف ہوتے ہیں۔ جب چیف جسٹس افتخار چوہدری کو اُن کے گھر میں نظر بند کردیا گیاتو اُن کے خلاف فیصلہ دینے والے اُن کے جج بھائی ہی تھے۔
جب سپریم جوڈیشل کونسل کے انتہائی سینئر ججوں کو تین نومبر 2007 ء کے بعد عہدوں سے ہٹا کر گھروں میں نظر بند کردیا گیا تو اُن کے ساتھی جج بہت خوشی سے اپنے چیمبروں میں کام کرتے رہے۔ اُن کے انداز سے تاثر ملتا تھا جیسے اُن کے نزدیک یہ کوئی خاص بات نہیں۔ قانون کے شعبے سے تعلق رکھنے والی برادری کے خوف کی وجہ یہی افسوس ناک تاریخ ہے، جو خود کو تواتر سے دہراتی رہتی ہے۔
چیف جسٹس چوہدری کے دور میں جوڈیشل ٹرائل کے پہلو بہ پہلو میڈیا ٹرائل کا سلسلہ بھی چل نکلا۔ اس سے عوامی بیانیہ تشکیل پاتا اور سسٹم کا نشانہ بننے والے افراد کی کردار کشی ہوتی۔ چیفس جسٹس آف پاکستان، تصدق جیلانی، ناصر الملک اور انور ظہیر جمالی کے ادوار میں میڈیا ٹرائل اور ذاتی تشہیر کی آنچ مدہم ہوگئی، لیکن چیف جسٹس آف پاکستان، ثاقب نثار کے دور میں اس کی چکاچوند پھر لوٹ آئی۔
میڈیا ٹرائل کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ”معاملہ عدالت میں زیر ِ سماعت ہے“ کے اصول کی سختی ہر کسی پر یکساں نہیں۔ اس پر سپریم کورٹ کی مرضی چلتی ہے۔ اکثراوقات جب فاضل عدالت سے کسی معاملے پر مداخلت کی درخواست کی جاتی ہے تو یہ نظر انداز کردیتی ہے۔ لیکن جب یہ خود ضرورت محسوس کرے تو یہ کہتے ہوئے کسی کو زبان نہیں کھولنے دیتی کہ ”مقدمہ زیر ِ سماعت ہے“۔
جسٹس عیسیٰ سے تفتیش کی جارہی ہے کہ اُنھوں نے اپنی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں اُس جائیداد کا ذکر نہیں کیا تھا جو برطانیہ میں اُن کی بیوی اور بالغ بچوں کے نام ہے۔ جسٹس عیسیٰ کا دعویٰ ہے کہ وہ اُن کے زیرِ کفالت نہیں، چنانچہ وہ اُن کے نام اثاثوں کو اپنی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں ظاہر کرنے کے پابند نہیں۔ خیال یہ تھا چونکہ وہ سپریم کورٹ کے ایک حاضر سروس جج ہیں اور جس دوران اُن پر دائر ریفرنس زیر ِ التوا ہے، میڈیا میں اُن کا منفی تاثر جارہا ہے، اس لیے سپریم کورٹ مداخلت کرے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔
اس تمام معاملے میں ایک تحیر آمیز چیز جسٹس عیسیٰ کے خلاف دائر کیا گیا دوسراریفرنس ہے۔ اس کی بنیاد مبینہ مس کنڈکٹ ہے کہ اُنھوں نے صدر ِ پاکستان کو خطوط لکھے جو عوام کے علم میں آگئے۔ ان خطوط کی وجہ سے عوامی تنازع کھڑا ہوا، اوروزیر ِاعظم کو شرمندگی کاسامنا کرنا پڑا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے مس کنڈکٹ کے الزامات کو اتنا سنگین پایا کہ اُس نے جج صاحب کو فوراً ہی دوسرا شو کاز نوٹس بھیج دیا کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کریں۔ اس ریفرنس کا جائزہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب کوئی سسٹم کے خلاف چلنا چاہے تو کیا ہوتا ہے۔
مذکورہ خطوط کا مرکزی تصور بہت سادہ تھا۔ جج صاحب کسی بھی شہری کی طرح منصفانہ ٹرائل، انسانی وقار اور پرائیویسی کا حق رکھتے ہیں۔ جب پہلا خفیہ ریفرنس افشا کرکے میڈیا تک پہنچا دیا گیا تو میڈیا نے فوراً ہی جج صاحب کو قصوروار ٹھہرادیا۔ جسٹس عیسیٰ نے صدر صاحب سے ریفرنس کی ایک نقل مہیا کرنے کا کہا تا کہ وہ اپنا دفاع کرسکیں۔ چونکہ صدر ِمملکت نے یہ ریفرنس وزیر ِاعظم کے مشورے پر بھجوایا تھا، اس لیے اُنھوں نے کہا کہ کیا وزیر ِاعظم نے اپنی بیوی اور بچوں کے اثاثے بتادیے ہیں۔ جس قانون کی پیروی نہ کرنے اُنہیں تادیب کا مستحق ٹھہرایا جارہا ہے، کیا اُس پر خود وزیر ِاعظم نے عمل کیا ہے؟
سپریم جوڈیشل کونسل نے اب حیرت انگیز پھرتی دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ جج صاحب نے کسی مس کنڈکٹ کا ارتکاب نہیں کیا، کیونکہ صدر ِ مملکت کوذاتی حیثیت میں خط لکھنے میں کوئی حرج نہیں، اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اُنھوں نے وہ خطوط میڈیا کے سامنے ظاہر کیے تھے۔ لیکن اس ٹیکنیکل بنیاد پر ریفرنس کو نمٹاتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل نے جج صاحب پر سنگ باری کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کہ اُنھوں نے متن کو جانتے ہوئے بھی صدر ِ مملکت سے ریفرنس کی نقل فراہم کرنے کے لیے کہا، اوروزیر ِاعظم کو غیرضروری طور پر نشانہ بنانے کی کوشش کی، اور چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ نجی طور پر کی جانے والی گفتگو ظاہر کی۔
اس آرڈر نے ایک تاریخ رقم کردی ہے: یہ فائل کیا جانے والا پہلا ریفرنس ہے جو ابھی طے کیا جانا باقی ہے(بہت سے وکلا، بشمول سینئرایڈوکیٹ عابد حسن منٹو نے سینکڑوں جوڈیشل ریفرنس دائر کیے لیکن کبھی کوئی کامیابی نہیں ملی)۔ یہاں سپریم جوڈیشل کونسل آرٹیکل 10-A کے تحت حاصل حقوق کی بھی پروا نہیں کررہی کہ منصفانہ ٹرائل کا تقاضا ہے کہ جج صاحب کو ریفرنس کی نقل فراہم کی جائے تاکہ وہ الزام کی نوعیت جان کر اپنا دفاع کرسکیں۔ اس کی بجائے اس نے جج صاحب کی دیانت پر سوال اٹھا دیاکہ اُنھوں نے ریفرنس کی کاپی کیوں طلب کی جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان اُنہیں نجی ملاقات میں یہ دکھا چکے تھے۔
آرڈر کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے ریفرنس کی نقل جسٹس عیسیٰ کو فراہم کرنے سے انکار کیا تھا، کیونکہ ایسا کرنا سپریم جوڈیشل کونسل کا اختیار تھا۔ لیکن یہ آرڈر یہاں خاموش ہے کہ پھر چیف جسٹس آف پاکستان نے کس حیثیت میں متعلقہ شخص (جسٹس عیسیٰ) کو یہ خفیہ ریفرنس پڑھنے کے لیے دے دیا؟ شفافیت کا مطالبہ کرنے والی سپریم جوڈیشل کونسل اپنی بے سمت صوابدید کواستحقاق قرار دے کر استعمال کررہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے کسی طے شدہ طریق ِ کار پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں، یہ اپنے طریق ِ کار کا خود تعین کرنے کا حق رکھتی ہے۔
دوسری طرف سپریم جوڈیشل کونسل نے شفافیت کے نام پرجسٹس عیسیٰ کے خلاف میٹریل فوراً ہی عوام کے سامنے پیش کردیا۔ لیکن اُن کی خود کو بچانے کی کوششوں کو اپنے خلاف کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیا۔ ہم نے ایک جج کو باہر نکال دیا، چند ایک کومستعفی ہونے پر مجبور کیا، اور اب ایک اور پر دروازے بند کرنے جارہے ہیں۔ اس کے باوجود مس کنڈکٹ کی کوئی قانونی تشریح نہیں کی گئی ہے۔ کیا مس کنڈکٹ کی حدود مستقبل میں جج بننے والے کسی نوجوان کی ابتدائی جوانی سے ہی شروع ہوجاتی ہے، یا اس کا تعلق اس کی بطور جج عدالتی کارکردگی سے ہے؟ جن حقائق کی بنیاد پر سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس عیسیٰ کو ریفرنس نمبر 2 میں بے قصور پایا ہے، انہی حقائق کی بنیاد پر یہ جج صاحب کو قصور وار بھی ٹھہرا سکتی ہے۔ یہ ہے ہمارے قانونی نظام کا یقینی پن !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *