’بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں میڈیا کو خاموش کروارہی ہے‘

نئی دہلی: انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کے تحت میڈیا کو بھی خاموش کروانے کی کوشش کررہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ حقائق نئی دہلی کی جانب سے بھارت کے زیِر تسلط کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور وادی میں 5 لاکھ فوجی اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود لاکھوں مزید فوجیوں کو بھیجنے کے تناظر میں سامنے آئے۔

رپورٹس کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز میں رپورٹرز کی نگرانی، ان سے غیر رسمی تحقیقات کی جارہی ہیں اور بھارتی حکومت اور اس کی سیکیورٹی فورسز مخالف رپورٹس شائع کرنے پر ہراساں کیا جارہا ہے۔

’خاردار تاروں کے پسِ پردہ خبریں‘ کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ کی مایوس کن اور تشویشناک تصویر سے پردہ اٹھایا گیا ہے جو ناقابلِ یقین مشکلات کے خلاف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

رپورٹ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا کہ بڑے کشمیری اخبارات کے اداریوں میں غیر اہم معاملات پر بات کی جارہی ہے مثلاً حیاتین الف (وٹامن اے) کے فوائد اور ‘کیا گرمیوں میں کیفین لینی چاہیے‘۔

ہمالیہ خطے میں میڈیا کو درپیش صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ ’یہ رجحان غیر جمہوری اور نقصان دہ ہے کیوں کہ یہ حکومت کیا آواز کو تقویت دیتا اور ان کی آوازوں کو کمزور کرتا ہے جو سچائی کی طاقت کے لیے اٹھتی ہیں‘۔

نیٹ ورک آف ویمن ان میڈیا اور انڈیا اینڈ دا فری اسپیچ کلیکٹو کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ ان 2 صحافیوں سے تیار کی جنہوں نے 5 روز مقبوضہ کشمیر مین بسر کیے اور مقامی انتظامیہ اور شہریوں کے ساتھ ساتھ 70 سے زائد صحافیوں سے گفتگو کی۔

دوسری جانب بھارتی وزارت اطلاعات و نشریات نے یہ کہتے ہوئے رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا کہ وہ ابھی رپورٹ دیکھیں گے۔

واضح رہے کہ وادی کشمیر میں بھارتی حکومت نے نقل و حرکت پر پابندی کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروسز بھی منقطع کر رکھی ہیں جہاں کے مردوں کے ساتھ ساتھ کم عمر نوجوان بھی 1989 سے بھارتی حکومت کے خلاف مسلح جدو جہد کر رہے ہیں۔

بھارتی حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ متنازع علاقے میں صورتحال معمول پر ہے اور پابندیوں میں رفتہ رفتہ نرمی کی جارہی ہے۔

اس بارے میں مختلف ذرائع کے مطابق 5 اگست سے اب تک وادی میں کم از کم 500 مظاہرے اور پتھر مارنے کے واقعات پیش آچکے ہیں اور 4 ہزار کے قریب افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *