ہمارے بچے کو کیوں مارا؟ کوے تین برس سے ایک شخص کے دشمن

مہاراشٹر: بھارت میں کوے گزشتہ تین برس سے ایک شخص کو نشانہ بنارہے ہیں جس کے ہاتھوں میں غلطی سے کوے کا ایک بچہ مرگیا تھا۔ اب اس بچے کے والدین گھر سے نکلتے ہی اس پر حملہ کردیتے ہیں۔

مدھیہ پردیش کے ایک گاؤں سملہ کا مزدور شِیوا کیوٹ ہے جو روزانہ کووں کے عتاب کا نشانہ بنتا ہے اور یہ سلسلہ تین سال سے جاری ہے۔ تین سال قبل ایک دن شیوا اپنی راہ پر چل رہے تھے کہ انہوں نے کوے کے ایک بچے کو ایک جال میں پھنسا دیکھا۔

شیوا نے اسے نکالنے کی بہت کوشش کی لیکن کوے کا نیم مردہ بچہ ان کے ہاتھوں میں مرگیا اور اوپر منڈلاتے کوے یہ سمجھے کہ شیوا نے اسے مارا ہے۔ اب بچے کے رشتے دار کوے شیوا کو پہچانتے ہوئے روز اس پر حملہ آور ہوتے ہیں لیکن اکثر مرتبہ ایک ہی کوا بار بار اسے ٹھونگیں مارتا ہے۔ اب ان سے بچنے کے لیے شیوا نے ایک چھڑی کا انتظام کررکھا ہے۔

شیوا نے بتایا کہ’ میں پرندے کو بچانے کی کوشش کررہا تھا اور وہ میرے ہاتھوں میں دم توڑ گیا اب کوے سمجھتے ہیں کہ ان کے بچے کو میں نے مارا ہے اس لیے اب میں اپنی حفاظت کے لیے ایک چھڑی اپنے ساتھ رکھتا ہوں‘۔

اس گاؤں میں کوے کسی اور عورت یا مرد کو نشانہ نہیں بناتے اور وہ صرف شیوا کے پیچھے ہی پڑے رہتے ہیں۔ اب حال یہ ہے کہ شیوا جیسے ہی گھر سے نکلتا ہے تو لوگ ٹھہر کر دیکھتے ہیں اس بار کونسا پرندہ اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ بسا اوقات شیوا چونچ یا ناخن سے مجروح ہوتے ہیں کیونکہ کوےاچانک بہت تیزی سے حملہ آور ہوتے ہیں۔

شیوا نے بتایا کہ کوے کبھی کبھار لڑاکا جیٹ طیاروں کی طرح آتے ہیں اور مجھ پر حملہ کرتے ہیں، بسا اوقات اوپر اڑتا کوا یک دم ہوا میں جست لگا کر نیچے آتے ہوئے مجھ پر جھپٹتا ہے۔

اس واقعے پر بھوپال کی برکت اللہ یونیورسٹی میں جانوروں کے رویوں کے ماہر اشوک کمار نے کہا کہ کووں کی یادداشت بہت تیز ہوتی ہے اور اگر کوئی ان کے ساتھ برا سلوک کرے تو وہ اسے بھولتے نہیں، اسی طرح ان میں بدلہ لینے کی عادت بھی ہوتی ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *