ایک منٹ کی ڈرائیو

محفل عروج پر تھی کہ اچانک محترم ظفراللہ خان نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد میں سب سے چھوٹی شاہراہ کا نام ’’شاہراہ جمہوریت‘‘ ہے۔

پاکستان میں جمہوریت، پارلیمانی امور اور انسانی حقوق جیسے ’’غیر متعلقہ‘‘ موضوعات پر جو چند لوگ دسترس رکھتے ہیں، ظفراللہ خان ان میں ایک سربر آواردہ نام ہے۔

وہ حال ہی میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمنٹری اسٹڈیز کی سربراہی سے سبکدوش ہوئے ہیں۔ وہ چند دوستوں کے ساتھ عامر رانا کے دسترخوان پر مدعو تھے۔ عامر رانا دانش کے موتی سمیٹنے کے ایسے مواقع اکثر پیدا کرتے رہتے ہیں۔

ظفراللہ خان نے کہا کہ شاہراہ جمہوریت کو دیکھنے کے لئے اس پر سفر کریں تو آپ لطف اندوز ہونگے۔ میں شاہراہ دستور پر سے ہزاروں بار گزرا ہوںگا مگر شاہراہ جمہوریت کو خصوصی طور پر دیکھنے کا خیال کبھی نہیں آیا۔ کل دفترسے نکلا تو محترم ظفراللہ خان کی باتیں ذہن میں آگئیں اور میں اتاترک ایونیو سے شاہراہ جمہوریت پر داخل ہوا۔

شاہراہ کے بائیں ہاتھ پر نادرا کی ملٹی اسٹوری عمارت ایستادہ ہے۔ یہ وہی عمارت ہے جو 70اور 80کی دہائی میں پارلیمنٹ ہائوس کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ بحیثیت وزیراعظم بھٹو، محمد خان جونیجو، بے نظیر جس کمرے میں بیٹھا کرتے تھے وہ آجکل نوجوان و قابل چیئرمین نادرا عثمان مبین یوسف کا دفتر ہے۔

اس کمرے میں آج بھی جنرل پرویز مشرف کی فوجی چھڑی ایک لکڑی کے فریم پر سجی ہوئی ہے اور بہت سی کہانیاں بیان کرتی ہے۔

آمریت چلی گئی مگر آمرانہ چھڑی آج بھی شاہراہ جمہوریت پر موجود ہے۔

1973کا آئین بھی اسی عمارت میں منظور ہوا اور پھر ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کے اجلاس بھی اسی عمارت میں ہوتے رہے۔

جنرل ضیاء نے حکومت پر قبضہ کیا تو غیر جماعتی انتخابات کے بعد آنے والی اسمبلی سے خطاب بھی اسی عمارت میں آکر کیا۔

اب یہ پرانا اسمبلی ہال ایک بھوت بنگلے جیسا ہے۔ اسی ہال میں آئین منظور ہوا تھا اور اب یہاں اکثر شام کو نادرا افسران بیڈ منٹن کھیلتے ہیں۔

اس دور کی اسمبلی کی نشستیں اور ہال اب بھی گل سڑ رہا ہے۔

حیرت ہے کسی کو خیال ہی نہیں آیا کہ اس عمارت میں کوئی میوزیم ہی بنادیں اور اسکا نام ’’جمہوریت کا عجائب گھر‘‘ رکھیں۔

اس وقت کی پارلیمنٹ اور آج نادرا کی اس عمارت کے سامنے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی عمارت ہے۔

یہ عمارت شروع دن سے یہیں ہے۔ اس وقت زراعت کی اہمیت یہ تھی کہ اس سے متعلق عمارت پارلیمنٹ کے سامنے تعمیر کی گئی۔

وقت کے ساتھ ہم نے زراعت کو نظرانداز کیا اوراب کسان کو اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔

شاہراہ جمہوریت پر ذرا آگے چلیں تو نادرا کے ساتھ درختوں میں چھپی ایک سنگل اسٹوری عمارت ہے یہ کبھی پاک پی ڈبلیو ڈی کا دفتر تھی۔

مسلم لیگ (ن) کی پچھلی حکومت نے اسے سیکرٹریٹ برائے سابق ارکان پارلیمنٹ فورم بنا دیا۔ آج کل زمرد خان اس کے کنوینر ہیں اور قومی اسمبلی کا تین رکنی اسٹاف سابق ارکان پارلیمنٹ کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ سمیت3 قائمہ کمیٹیوں کے سربراہ بھی یہیں بیٹھتے ہیں۔ اس عمارت کے سامنے سڑک پار درختوں کے جھنڈ میں ورلڈ بینک کی عمارت بھی ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے شروع دن سے ہی ہماری شاہراہ جمہوریت پر براجمان ہیں۔

ذرا آگے چلیں تو آپکو پتا چلے گا کہ اس شاہراہ پر ایک پل بنا ہے جس کے نیچے سے ایک گندا نالہ بہہ رہا ہے۔ اردگرد بو اور تعفن بھی موجود رہتا ہے۔

اس سے آگے بائیں ہاتھ پر اوورسیز پاکستانیز، متبادل توانائی بورڈ، کمیشن آن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور چند دیگر عمارتیں موجود ہیں۔

نالے کے پل پر دائیں طرف ایک خالی پلاٹ میں جھاڑیاں اگی ہوئی ہیں جہاں کوڑے کے دو تین ڈبے بھی پڑے ہیں۔

شاہراہ جمہوریت کے اس نکڑ پر رات کو جنگلی سوروں کی حکمرانی ہوتی ہے۔ اس خالی پلاٹ سے ملحق عمارت آج کل شاہراہ جمہوریت کی سب سے کروفر والی عمارت قومی احتساب بیورو کا ہیڈ کوارٹر ہے۔

یہاں سابق وزرائےاعظم سمیت کئی اہم سیاستدانوں کے کیسز پر کارروائی کی جارہی ہے۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا ایک کیس بھی یہاں کارروائی کا منتظر ہے۔

نیب قانون کے مطابق عدلیہ اور فوج اس کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔

یہ عمارت دیکھتے ہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ کا حالیہ خطاب کانوں میں گونجتا ہے، ’’یہ تاثرخطرناک ہے کہ احتساب کا عمل سیاسی انجینئرنگ ہے‘‘۔

لوگ کہتے ہیں کہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں بنے اس نیب پر ایک دیو کا سایہ ہے اور وہ سایہ آج بھی شاہراہ جمہوریت پر موجود ہے۔ یہاں منیر نیازی بھی یاد آتے ہیں۔

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

شاہراہ جمہوریت پر دائیں جانب سے آخری عمارت ریڈیو پاکستان کی ہے۔ آج کل پورے ملک کی طرح ریڈیو بھی شدید مالی بحران کا شکار ہے اور اس نے بعض اثاثے فروخت کرنے کے لئے اشتہار بھی دے رکھا ہے۔

یہاں شاہراہ جمہوریت شاہراہ دستور سے آکر مل جاتی ہے جہاں سب سے اونچی عمارت پارلیمنٹ ہائوس نہیں بلکہ سپریم کورٹ کی عمارت ہے۔

ایک لمحے کے لیے مجھے خیال آیا کہ میں شاہراہ جمہوریت پر دوبارہ سفر کروں اور گھڑی پر ٹائم دیکھوں۔

چالیس کی رفتار سے گاڑی دھیرے دھیرے چلتے واپس نادرا ہیڈ کوارٹر چوک پر آن رکی۔

وہی چوک جہاں سے شاہراہ جمہوریت شروع ہوتی ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ وفاقی دارالحکومت کی اس اہم شاہراہ کو بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

اسے ہر دھرنے اور احتجاج پر بند کردیا جاتا ہے۔ بمشکل ایک کلومیٹر کی اس شاہراہ پر میری یہ ڈرائیو صرف ایک منٹ کی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *