ہالی وڈ میں مسلمانوں کا منفی کرداروں سے مثبت کرداروں تک کا سفر

ہالی وڈ کی دنیا کا ایک تلخ سچ یہ ہے کہ روشن خیالی کے اپنے تمام تر دعوؤں کے باوجود یہ نسل اور قوم پرستانہ کرداروں پر ہی انحصار کرتی ہے اور یہ پہلو دیکھنے والوں کے اندر موجود عصبیت کو مزید فروغ دیتا ہے۔

یہ اس وقت زیادہ واضح ہو جاتا ہے جب ہالی وڈ کی کسی فلم کے لیے ’وِلن‘ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

اگرچہ سرد جنگ کا اختتام کئی دہائیوں قبل ہو چکا ہے لیکن موجودہ دور میں سکرین پر جو کچھ اس حوالے سے دکھایا جاتا ہے اس کے مطابق روس اب بھی برے لوگوں کا ہی مسکن ہے اور جرمن تو ہوتے ہی اُجڈ گنوار ہیں۔

اس کی ایک وجہ جنگ عظیم دوئم سے اب تک بڑی تعداد میں برے جرمن نازیوں کا ٹی وی پروگرامز میں شرکت کرنا بھی ہے۔

نئی صدی کے آغاز سے ہی عرب مسلمان سکرین سے ہونے والی ’کردار کشی‘ کا سب سے بڑا شکار ہیں۔

حتیٰ کہ امریکہ میں نائن الیون سے پہلے بھی عرب مسلمانوں کو تیل کے وسائل کی وجہ سے عیاش، خواتین پر ظلم ڈھانے والے، جنسی ہوس پرور اور دہشت گرد کے روپ میں پیش کیا جاتا تھا۔

بس فرق صرف یہ ہے کہ نائن الیون اور اس کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے پروپیگنڈے کو مزید تقویت ملی ہے۔

بھلے ہی گذشتہ 15 برسوں میں عام لوگوں کی بڑی تعداد دائیں بازو اور سفید فام نسل پرست تحریکوں سے وابستہ انتہا پسند کے ہاتھوں قتل ہوئی ہے لیکن ہالی وڈ کے مطابق عام لوگ سب سے زیادہ مسلمانوں سے ہی ڈرتے ہیں۔

ہالی وڈ

اس کی بڑی وجہ 9/11 کے بعد سنسنی خیز ٹی وی سیریز 24 اور’سلیپر سیل‘ ہیں، جن کو دیکھ کر لگتا ہے کہ امریکی ٹی وی نے اسلام اور اس کے پیروکاروں کو اپنا سب سے بڑا دشمن بنا لیا ہے۔

ٹی وی پر سب سے بڑا اسلام فوبیا کا شکار شو؟

ہوم لینڈ سیریز نے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے الفاظ ’یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا پھر دہشت گردوں کے ساتھ‘ کی صیحح معنوں میں عکاسی کی ہے جس میں مسلمان کردار یا تو دہشت گردوں کے ساتھی دکھائے گئے یا پھر امریکی حکومت کے آلہ کار بننے پر رضامند ظاہر کیے گئے ہیں۔

اس سیریز کی اب آٹھویں اور آخری سیزن کے ساتھ واپسی ہونی ہے اور مسلمان برادری میں سے زیادہ تر کو اس کے ختم ہونے کا انتظار ہے۔

سنہ 2011 میں اس سیریز کے پریمئیر نے ثابت کیا کہ یہ سکرین پر سب سے زیادہ متعصبانہ ڈرامہ ہے۔ اس سے ہٹ کر کے کیسے ہر برائی کو مسلمانوں کے ساتھ ہی جوڑا گیا ہے، اس سیریز نے تو مسلمانوں کو امریکی شہریوں کے لیے پوشیدہ خطرہ تک قرار دیا ہے۔

خوب پذیرائی حاصل کرنے والے اور ثقافت کا مظہر بن جانے والے اس شو کے سابق امریکی صدر باراک اوباما بھی بڑے مداح تھے۔ یہ قابل افسوس ہے کہ اس شو کے چلانے والوں نے کئی برس تک اسلامی دنیا کے بارے میں بنیادی تفصیلات حاصل کرنے کو بہت کم اہمیت دی۔

پہلی سیریز میں کئی متنازعہ سین تھے، عرب کرداروں کو فارسی نام دیے گئے اور اسلام آباد جیسے قابل دید اور خوبصورت شہر کو خوفناک جہنم اور جنگ کا میدان بنا کر پیش کیا گیا۔ اس سیریز میں اس طرح کی کئی خامیوں کی طویل فہرست ہے۔

امریکی تنظیم مسلم پبلک افیئرز کونسل کے ہالی وڈ بیورو کی ڈائریکٹر سیو عبیدی کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تضحیک اور منفی عقائد و رویے کے مغربی معاشرے پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ اس طرح کی بے بنیاد معلومات پر مسلم کمیونٹی کے بارے میں کوئی مخصوص رائے قائم کر سکتا ہے جس کے بھیانک نتائج ہو سکتے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے بارے میں اس طرح کی منفی عکاسی کا عام لوگوں کی رائے پر براہ راست اثر ہوتا ہے اور وہ ایسی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں جو مسلمانوں کے لیے خطرناک ہوتی ہیں اور ان کے حقوق پر ضرب لگاتی ہیں یا ان کے خلاف سخت فوجی طاقت کے استعمال کا جواز فراہم کرتی ہیں۔

جبکہ دوسری جانب مسلمانوں کی مثبت عکاسی اور ان سے براہ راست تعلق کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ہالی وڈ سٹار کا رد عمل

عبیدی کا کہنا ہے کہ صیحح نمائندگی صرف اس وجہ سے ضروری نہیں ہے کہ دوسرے مسلمانوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں بلکہ یہ اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ خود مسلمان اپنے آپ کو کیسے دیکھتے ہیں۔

یہ مسئلہ 2017 میں خود ہالی ووڈ کے مشہور مسلمان اداکار رِض احمد، جو مشہور فلموں روگ ون اور وینم کے سٹار بھی ہیں، سامنے لائے ہیں۔

امریکی مسلمان

برطانیہ کے ایوانِ زیریں میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے خبردار کیا کہ ’سکرین پر متنوع نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے منفی پروپیگنڈے نے مسلمانوں کو انتہا پسندوں کا آسان ہدف بنا دیا ہے۔ دولت اسلامیہ کے جنگجو کے خیال میں وہ جیمز بانڈ کا روپ ہے۔ تو کیا یہ درست ہے؟ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ وہی ٹھیک ہے۔ کیا آپ نے دولت اسلامیہ کی پروپیگنڈا والی ویڈیوز دیکھی ہیں؟ یہ سب کچھ ایکشن فلموں کی طرح لگتا ہے۔ اس کا متبادل بیانیہ کہاں ہے؟ ہم اپنے بچوں کو کہاں بتا رہے ہیں کہ وہ بھی ہماری کہانیوں کے ہیرو ہو سکتے ہیں؟‘

مسلمان ہالی ووڈ اداکار کے مطابق اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر دولت اسلامیہ جیسی تنظیم اپنے رہنماؤں کو ہیرو کے روپ میں پیش کرتی ہے۔ لوگ اس طرح کے پیغام کو سنجیدہ لیتے ہیں جس میں ان کو اپنائیت، شراکت داری اور ان کی اہمیت نظر آئے۔ لوگ نمائندگی چاہتے ہیں جس میں ہم ناکام ہیں۔

کیا ہوم لینڈ سیریز کے خاتمے کے بعد ٹی وی پر اسلام فوبیا دور کا خاتمہ ہو چکا ہے؟

یقیناً اب اس طرح کے شو بنانے والوں نے مسلمانوں کے تحفظات پر توجہ دی ہے۔ گذشتہ کچھ برسوں میں مسلمان ہیروز ایسی سیریز میں متعارف کروائے گئے ہیں، شاید یہ سوچی سمجھی کوشش ہے تاکہ پہلے والے منفی تاثر کو زائل کیا جا سکے۔

نئے مسلمان ہیروز

پولیس کے گرد گھومنے والی سنہ 2003 سے شروع ہونے والی سیریز این سی آئی ایس بڑے تنازعات کی زد میں آئی جب ناقدین نے یہ الزام عائد کیا کہ سیریز نے اس تصور کو فروغ دیا ہے کہ ہر مسلمان مخفی دہشت گرد ہے۔ مگر یہ اب اپنے ایک اور شو این سی آئی ایس: لاس اینجلس میں قابل تعریف بہتری لائی ہے۔

اس سیریز کے اہم کرداروں میں سے ایک کردار سام ہینا کا دیکھایا گیا ہے جو ایک مسلمان سینیئر جاسوس اور سابق نیوی سیل کا کردار ہے۔

یہ امریکی ٹی وی سکرین پر چلنے والا پہلا مسلمان مرکزی کردار ہیں جس کا مذہبی عقیدہ اس کے کردار کا حصہ ہے جبکہ وہ مکمل امریکی اور محب وطن ہے۔

سیریز میں ایک حجاب پوش فاطمہ نمازی کو ایک خاص جاسوس لڑکی کے روپ میں پیش کیا گیا ہے جو بہت امیروں والے شوق رکھتی ہے اور وہ ہر چیز ہی بہت مہنگی جگہ سے خریدنا چاہتی ہے۔

اس بار مذہب کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے البتہ اس کے حجاب کے بارے میں واحد اشارہ ایک انتہا پسند مسلمان کے منہ سے کروایا گیا کہ ’وہ حجاب پہنتی ہیں لیکن ایک بگڑی ہوئی امریکی لڑکی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔‘

ہالی وڈ

اسی طرح امریکی ٹی وی پر امریکہ میں جرائم سے متعلق ڈرامہ سیریز ’بلائنڈ سپاٹ‘ کے پانچویں سیزن میں بھی ایک حجاب پہنی آفرین نامی لڑکی کو دیکھایا گیا ہے جو امریکی ایجنسی ایف بی آئی کے لیے کام کرتی ہے۔

لیکن اس کردار میں ان کے حجاب پر کوئی غیر ضروری توجہ نہیں دلائی گئی بلکہ یہ کردار اپنے احمقانہ لطیفوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔

اس نارمل حجاب والی لڑکی کا کردار ہوم لینڈ سیریز کے کرداروں سے بالکل مختلف ہے جس میں حجاب پہنی لڑکی فارا امریکی ایجنسی سی آئی اے کے لیے کام کرتی ہے اور اسے ایجنسی کے سینیئر افسر ساؤل کے طرف سے جھڑکا جاتا ہے کہ اس کا حجاب اسے ان کے دشمن کی یاد دلاتا ہے۔

شو کے اگلے حصوں میں وہ حجاب پہننا چھوڑ دیتی ہے اور اسے ایک بہت ہی وفادار جاسوس ظاہر کیا گیا ہے۔

مسلمان اور محب وطنی

گذشتہ برس اس طرح کا ٹام کلینسی کا ایمازون پر ایک شو منظر عام پر آیا ہے جس میں پرانے تعصبات کو رد کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس شو میں ریان کے باس، جو امریکی ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جیمز گریر ہیں، کے کردار کو ری کاسٹ کیا گیا ہے۔ اس شو میں ان کو ایک افریقی امریکن ظاہر کیا گیا ہے جو اسلام قبول کر لیتا ہے۔

پہلی سیریز میں ایک یادگار سین ہے جس میں جیمز گریر اسلامو فویبا کے خیالات رکھنے والے ایک فرانسیسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار پر برہمی کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ ان کے مسلمان ہونے تک کا خیال نہیں کرتا۔

اس طرح کے مسلم کردار سکرین پر سامنے لانا ہالی وڈ کی ایک دانستہ کوشش ہے جو محب وطن، قابل فخر، ہیروز اور لیڈرشپ کے منصب کے اہل ہیں۔

اس میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مسلمان صرف امریکی اقدار سے ہی نہیں جڑے ہوئے بلکہ وہ اپنے وطن کے لیے جان تک کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

اب اس طرح کے شو کے سکرپٹ میں ایسے لوگ جو اسلام پر مثبت اور پرامن انداز میں عمل پیرا ہوتے ہیں وہ محض استثنیٰ نہیں ہے بلکہ ایک رواج ہے۔

مثال کے طور پر ہوم لینڈ سیریز نے ایسے رحجانات کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ اس سیریز میں ایک سی آئی اے کے ایجنٹ ڈینی گیلویز کو اس وقت فوراً مشکوک قرار دیا جاتا ہے جب وہ اپنی مسلم شناخت ظاہر کرتے ہیں۔

شو میں بعد میں مسلمان ہونے کے باوجود ڈینی گیلویز کو محب وطن ثابت کیا جاتا ہے۔

گذشتہ برس سی بی ایس چینل کی سب سے زیادہ دیکھے جانے والی سیریز ایف بی آئی میں عرب مسلم اداکار کو اہم کردار دیا گیا ہے۔

زیکو زکی کو سپیشل ایجنٹ او اے زیدان کا کردار دیا گیا جو ایک ایسا اداکار ہے جو اس ہی مذہب اور قومیت سے تعلق رکھتا ہے۔

ہارپرز بازار پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے زکی نے انکشاف کیا کہ انھیں زیادہ تر دہشت گرد یا پھر برے آدمی کے روپ میں پیش ہونے کا کردار دیا جاتا تھا۔

مسلمان کرداروں کی چھوٹی سکرین پر نمائندگی خوش آئند امر ہے تاہم ابھی بھی ان کا کردار ایک سنسنی اور علاقائی سیاسی امور تک ہی محدود ہے۔ مسلمان کردار عام زندگی سے متعلق کردار نبھاتے اب بھی نظر نہیں آتے۔

رض احمد کی تقریر سے متاثر ہو کر رض ٹیسٹ کے موجد شاف چوہدری اور سعدیہ حبیب کا کہنا ہے کہ صورتحال میں بہتری اس وقت ہی ممکن ہو سکے گی جب مسلم لکھاریوں کو سکرین اور اس کے علاوہ اپنی کہانیاں خود لکھنے کا کام سونپا جائے گا۔

امریکہ فلم انڈسٹری

رض ٹیسٹ میں ایک کردار کے بارے میں جانچا جاتا ہے کہ وہ کس حد تک شرائط پر پورا اترتا ہے۔ یہ دیکھا جاتا کہ کردار جو بھی بات کرتا ہے وہ خود دہشت گردی کا متاثرہ ہے یا خود دہشت گرد ہے، کیا کردار کو غیر ضروری ناراض دکھایا گیا ہے یا توہم پرست، قدامت پسند یا مغربی طرز زندگی کے لیے خطرے کے طور پر پیش کیا گیا ہے، یا پھر کردار خواتین مخالف مرد ہے یا پھر خود ایک مظلوم عورت کے روپ میں ہے۔

ان کرداروں میں سے ایک کے ہونے کا مطلب بھی ہے کہ فلم ٹیسٹ میں فیل ہو گئی ہے۔

رض ٹیسٹ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ہالی وڈ کو مسئلے کی نوعیت کے بارے میں جاننا ضروری ہے اور فلم کے کردار میں ان امور کا خیال رکھنا از حد ضروری ہے۔

حقیقت پسندانہ عکاسی

معروف امریکی مصنف اور ٹی وی پروڈیوسر رضا اسلان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ضرورت مثبت تاثر کی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی حقیقی تصویر کشی کی ہے۔

اسلان کے مطابق مسلمان شناخت بہت سی دیگر شناختوں میں سے ایک ہے جو ایک کردار میں موجود ہوتی ہیں۔

البتہ ان کے خیال میں اس طرح کی تبدیلی رونما ہورہی ہے۔

’مزید اس سے متعلق کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ بہتری اس طرح بھی آرہی ہے کہ اب زیادہ مسلمان فلم ساز، لکھاری اور اداکار ہیں جن کو اپنی کہانی بتانے کا بھرپور موقع مل رہا ہے۔ زیادہ اہم یہ ہے کہ اب ہم مسلمانوں کی ہر جگہ نمائندگی دیکھ رہے ہیں، مسلم پروڈیوسرز اب اسٹوڈیوزمیں کام کرتے نظر آتے ہیں۔ اب وہ فیصلہ ساز بھی ہیں۔ اس سے اب میرے خیال میں مسلمانوں کے بارے میں ہالی ووڈ میں پیش کیے جانے والے تصور میں فرق نظر آئے گا۔‘

ہالی وڈ بیورو فار امریکا مسلم پبلک افیئرز کونسل کے ڈائریکٹر سو عبیدی کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ اس سفر کی آخری منزل یہ نہیں ہے۔ کوئی بھی پسی ہوئی کمیونٹی کم وقت میں مطلوبہ نمائندگی حاصل نہیں کر پاتی۔

ہالی وڈ

عبیدی اس بات سے متفق ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’میں پہلے کہتی تھی کہ ہم نئے آغاز کی طرف سفر کر رہے ہیں لیکن اب میں کہتی ہوں کہ ہم نے نئے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ اب ہم سکرین پر زیادہ مسلم کردار اور بیانیے دیکھ رہے ہیں۔ ہولو رامے کا سکرین پر آنا اس نئے سفر کا آغاز ہے۔‘

رامے ایک مسلم کامیڈین ہے جو مصری امریکن کامیڈین رامے یوسف کا مرکزی کردار ہیں جو گذشتہ ماہ نمائش کے لیے پیش کی گئی ہے جس کا ’لینا ڈنہام گرلز‘ سے موازنہ کیا جا رہا ہے۔

عبیدی اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ ابھی مسلمانوں کی سکرین پر نمائندگی سے متعلق طویل سفر طے کرنا ہے۔

’حقیقت تو یہ ہے کہ انڈسٹری میں یہ نیا سفرہے، یہ منزل نہیں ہے۔ کوئی پسا ہوا طبقہ جلد حقیقی نمائندگی حاصل نہیں کر پاتا۔ کسی عمل میں شامل کرنا اہم ہے لیکن بامعنی انداز میں شامل کرنے کی زیادہ اہمیت ہے۔‘

اچھے اور برے مسلمان کے تصور سے ہٹ کر کرداروں کو پیش کرنا اہم ہے۔ رامے اور عزیز انصاری کا ’ماسٹر آف نن‘ یا ’دی بِگ ِسک‘ جیسی مووی اس کی بہترین مثال ہیں جو مطلوبہ تبدیلی کی طرف اہم قدم ہیں۔

رضا اسلان کے مطابق ہالی ووڈ اچھے یا برے مقاصد نہیں رکھتا۔ اس کا واحد مقصد پیسہ بنانا ہی ہے اور اس کی سوچ کا مرکز ہی پیسہ ہے۔ وہ اس کے لیے ہی فکر مند ہے۔

یہ انڈسٹری دنیا میں کوئی بہتری کا ارادہ نہیں رکھتی۔ اور نہ ہی یہ کوئی دنیا میں کچھ برا کرنا چاہتی ہے۔ مقصد صرف پیسہ بنانا ہے۔ یہی وہ بات ہے کہ جس پر آپ ہالی ووڈ کو راضی کر سکتے ہیں اور یہی میں گذشتہ دس برسوں سے کرتا نظر آ رہا ہوں۔

جب ہالی وڈ کو یہ کہا جائے کہ آپ بھوری رنگت والے لوگوں کا مذاق اڑانا بند کریں گے تو زیادہ پیسہ کما سکیں گے تو وہ ایسا کرنا چھوڑ دیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *