جمہوریت کس مرض کی دوا ہے؟

ہمارے ملک میں جمہوریت کے خلاف مقدمہ بنانا سب سے آسان کام ہے، کہیں کوئی بے گناہ تھانے میں مارا جائے، کوئی غریب عورت اسپتال کی سیڑھیوں پر بچہ پیدا کرتے ہوئے مر جائے، کہیں کسی بوسیدہ عمار ت کی چھت گر جائے یا زمین کے انتقال کے لئے پٹواری پیسے مانگ لے تو ہمارے دانشور صاحبان جھٹ سے ایک تُرپ کا پتا پھینکتے ہوئے کہتے ہیں قوم کو ایسی جمہوریت کا کیا فائدہ؟

عوام چونکہ پہلے ہی مسائل میں گھرے ہیں اور داد رسی کی کوئی صورت انہیں نظر نہیں آتی تو ایسے میں جب کوئی جمہوریت پر تبرا کرتا ہے تو بے بس عوام کے کلیجے میں ٹھنڈ پڑ جاتی ہے، ہمیں بیٹھے بٹھائے ریٹنگ مل جاتی ہے اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی طاقتور شخص یا ادارہ ناراض بھی نہیں ہوتا۔

اس سے اچھا فارمولہ بھلا کیا ہو سکتا ہے؟ اس فارمولے میں بس ایک خرابی ہے کہ جمہوریت پر بے رحمانہ تنقید کی وجہ سے ہمارے لبرل امیج کو نقصان پہنچتا ہے، مہذب دنیا میں چونکہ جمہوری اقدار اور آزادی اظہار پر تنقید کرنے والوں کو قدامت پسند سمجھا جاتا ہے اور اپنے لئے یہ ٹائٹل ہمیں کسی صورت گوارا نہیں سو ایک آدھ جملہ ہم غیر جمہوری حکومتوں کے خلاف بھی لڑھکا دیتے ہیں تاکہ بات ریکارڈ پر آ جائے کہ ہم آمریت کی حمایت نہیں کر رہے حالانکہ ایک دودھ پیتا بچہ بھی یہ سمجھتا ہے کہ یہ پورا بیانیہ بالواسطہ آمریت کی حمایت کے سوا اور کچھ نہیں۔

جمہوریت کے خلاف تازہ ترین مقدمہ ایک ایسے دانشور نے کھڑا کیا ہے جنہیں کبھی میں آئیڈیلائز کیا کرتا تھا، اُن کی انگریزی، فیشنی داڑھی، شلوار قمیض پہننے کا انداز اور سب سے بڑھ کر اُن کی دبنگ تحریریں، افسوس کہ وہ سارا بُت ہی ڈھے گیا۔

’’مزید حماقتیں‘‘ میں شفیق الرحمن لکھتے ہیں ’’ہمارا تجربہ ہے کہ غروب آفتاب کے بعد قندیلوں کی جھلملاتی روشنی میں سب لڑکیاں حسین معلوم ہوتی ہیں۔ خصوصاً چند گھونٹ بادہ رنگین چڑھا لینے کے بعد۔

ہم نے درویشِ کامل شیخ شجر پوری کا نسخہ نکالا جو انہوں نے محبت اتارنے کے سلسلے میں بتایا تھا۔ اسے علی قلی پر آزمایا اور تیر بہدف پایا۔ شام ہوتے ہی علی قلی کو کہیں باہر کام پر بھیج دیا جاتا۔ پینا پلانا چھڑوا دیا گیا۔ لڑکی لگاتار علی الصبح اُسے دکھائی گئی۔ سورج کی روشنی میں جب علی قلی نے لڑکی کی اصلی شکل بغیر میک اپ کے دیکھی، تو بہت سے راز ہائے پنہاں آشکار ہوئے۔

چند ہی دنوں میں ایسا بدلا کہ لڑکی سے کوسوں دور بھاگنے لگا۔ دلّی کا رُخ ہی نہ کرتا تھا بلکہ ایک روز معروض ہوا کہ میں تارک الدنیا بننا چاہتا ہوں۔ ہم نے اسے منع کر دیا‘‘۔

میں درویش کامل تو نہیں مگر پھر بھی میرا خیال ہے کہ اگر محترم دانشور تخلیل کے بادہ رنگین سے پرہیز فرما کے چند دنوں تک آمریت کو علی الصبح سورج کی روشنی میں بغیر میک اپ کے دیکھیں گے تو آمریت سے بیزار ہو جائیں گے اور پھر کبھی جمہوریت کے خلاف مقدمہ نہیں بنائیں گے۔

جمہوریت کے خلاف محترم دانشور کے دلائل میں کوئی نئی بات نہیں، خلاصہ یہ ہے کرپٹ پٹواری یا تھانیدار کو اس سے کچھ غرض نہیں کہ آئین میں کیا ضمانتیں دی گئی ہیں، عام آدمی کا انتخابات، آزادی اظہار اور ایسی خرافات سے کوئی تعلق نہیں یہ سب مڈل اور اپر مڈل کلاس کا فیشن ہے، مزید یہ کہ قانون کی حکمرانی اور جمہوریت دو الگ چیزیں ہیں، ہمیں یہ ادراک ہی نہیں کہ یورپ امریکہ وغیرہ میں قانون کی عملداری پہلے ہوئی اور جمہوریت بعد میں آئی، وغیرہ۔ دست بدستہ عرض ہے کہ یہ حقائق درست نہیں۔

چلیے دیکھتے ہیں کہ جمہوریت کی غیر موجودگی میں دنیا کے پاس کیا ماڈل ہوا کرتا تھا۔ وہ ماڈل بادشاہت کا تھا، بادشاہ بھی تھانیدار، تحصیلدار اور حکومتی اہلکار مقرر کیا کرتا تھا، بہترین صورت یہ ہوتی تھی کہ بادشاہ بہت انصاف پسند اور رحم دل ہو مگر اس صورت میں بھی رعایا کی رائے جاننا کا کوئی طریقہ نہیں تھا جس سے معلوم کیا جا سکے کہ کیا واقعی انہیں بادشاہ کے عدل اور صلح رحمی سے کوئی براہ راست فائدہ پہنچ رہا ہے یا نہیں۔

دوسری صورت یہ تھی کہ بادشاہ نالائق اور جابر ہو، ایسی صورت میں بھی عوام کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا تھا کہ وہ بادشاہ کو تخت سے اتار سکیں اور کسی بہتر شخص کو لا سکیں۔

1822سے 1949تک قریباً سوا سو سال جموں کشمیر پر چار بادشاہوں نے حکومت کی، گلاب سنگھ ڈوگرہ، رنبھیر سنگھ، پرتاپ سنگھ اور مہاراجہ ہری سنگھ۔

گلاب سنگھ ڈوگرہ کے دور میں یہ قانون تھا کہ عوامی منصوبوں پر کام کرنے کی کوئی مزدوری نہیں دی جائے گی یعنی اگر کشمیر میں کوئی سرکاری عمارت تعمیر ہونی ہے تو اس کی تعمیر میں حصہ لینے والوں کو کوئی معاوضہ نہیں ملنا، دوسرا قانون یہ تھا کہ ہتھیار صرف ڈوگرہ خاندان کے لوگ رکھ سکیں گے، ان دونوں قوانین پر پوری طرح عمل ہوتا تھا اور لوگ ان قوانین میں پستے تھے، کوئی جمہوریت نہیں تھی۔

لہٰذا یہ دلیل کہ قانون کی حکمرانی پہلے آتی ہے اور جمہوریت بعد میں، بالکل تاریخی حقائق کے منافی ہے۔ امریکہ کی مثال لے لیں، 1787میں وہاں جمہوری آئین بنا، جمہوری ادارے قائم ہوئے، جمہوریت شروع ہو گئی مگر 1920حتی کہ 30/40تک بھی Spoil Systemرہا جس میں قانون کی عملداری نہ ہونے کے برابر تھی، پولیس اور مئیر کا سکہ چلتا تھا، گویا بالکل ویسی صورتحال تھی جس کا ماتم محترم دانشور نے کیا ہے۔

اصل میں ہم ایک خلط مبحث میں مبتلا ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ جمہوریت کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ اس میں تھانیدار اور پٹواری صحیح کام کریں، آزادی اظہار جیسی عیاشیاں بعد میں آتی ہیں جبکہ جمہوریت کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ اس میں یہ طے کیا جائے کہ کون سا قانون درست ہے اور کون سا غلط۔

امریکہ میں spoil systemکو بذریعہ جمہوریت ہی تبدیل کرکے ختم کر دیا گیا جبکہ اپنے ہاں دلیل یہ آتی ہے کہ جب واپڈا کا میٹر لگوانے کے لئے پیسے دینا پڑیں تو ایسی جمہوریت کا کیا فائدہ! اور جب ہم یہ پوچھتے ہیں کہ کیا آپ آمریت چاہتے ہیں تو فوراً جواب آتا ہے کہ نہیں نہیں ہم تو آمریت کے خلاف ہیں، اب اگر آپ خلاف ہیں تو پھر ایک ہی سانس میں دو متضاد باتیں کیسے کہہ رہے ہیں!

جمہوریت اگر کسی مرض کی دوا نہ ہوتی تو ترقی یافتہ مغربی ممالک یہ دوا ترک کرکے اب تک کوئی حکیمی نسخہ اپنا چکے ہوتے، سو آپ یہ دوا جاری رکھیں اور مریض کی ڈرپ بار بار مت اتاریں، یقین کریں افاقہ ہوگا!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *