نزلہ زکام کا نیا علاج: وائرس کی بجائے اس کی آماجگاہ کو ہدف بنانے کا تجربہ

نزلہ زکام کا علاج تلاش کرنا طب کی دنیا میں ہمیشہ سے ایک بہت بڑا مسئلہ رہا ہے تاہم اب ۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ انھوں نے ایک ایسا طریقہ دریافت کر لیا ہے جس کی مدد سے نہ صرف نزلہ زکام کو روکا جا سکتا ہے بلکہ اس قسم کے دیگر وائرس پر قابو پایا جا سکتا ہے جو فالج کا باعث بن سکتے ہیں۔

اس نئے طریقے میں زکام کے وائرس کو براہ راست نشانہ بنانے کی بجائے ہمارے خلیوں میں موجود اس پروٹین کو نشانہ بنایا جاتا ہے جس کی مدد سے وائرس ہمارے جسم میں پھلتا پھولتا ہے۔

ماہرین نے اس نئے طریقے کو چوہوں اور انسانی پھیپھڑوں کے خلیوں پر آزمایا ہے اور ان کے بقول یہ طریقہ زکام سے ’مکمل بچاؤ‘ فراہم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

تاہم، ماہرین کا کہنا ہے ابھی اس طریقے کو انسانوں پر نہیں آزمایا جا سکتا۔

زکام کا علاج، ایک بڑا چیلنج

عام طور پر نزلہ زکام رائنو وائرس قسم کے وائرس سے ہوتا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ رائنو وائرس کم از کم 160 اقسام کے ہوتے ہیں اور یہ نہایت تیزی سے شکل تبدیل کر کے یا تو ادوایات کے خلاف مدافعت پیدا کر لیتے ہیں، یا ہمارے جسم کے دفاعی نظام سے چھُپنے کی صلاحیت پیدا کر لیتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ماہرین ہمیشہ سے زکام کا کوئی ایسا علاج تلاش کرنے کی کوشش میں رہے ہیں جسے ’ہوسٹ ڈائرکٹِڈ تھیراپی‘ کہتے ہیں، یعنی وائرس کو نشانہ بنانے کی بجائے ہمارے جسم میں ایسی تبدیلی پیدا کرنا جس سے جسم وائرس کی آماجگاہ نہ بن سکے۔

ایک اکیلے وائرس کے اندر وہ تمام اجزاء موجود نہیں ہوتے جن کی مدد سے وہ اپنے جیسے مزید وائرس پیدا کر کے پھل پھول سکے، بلکہ اس کے لیے وائرس کو کسی دوسرے خلیے میں داخل ہو کر اس میں موجود اجزاء کو استعمال کرنا پڑتا ہے۔

اور یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے سائنسدان ابھی تک یہ بحث کرتے ہیں کہ آیا وائرس واقعی کوئی زندہ چیز ہوتی ہے یا نہیں۔

حالیہ تحقیق امریکہ کی دو یونیورسٹیوں، سٹینفرڈ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے تعاون سے کی گئی ہے اور اس میں ماہرین کو ہمارے جسم کے خلیوں میں موجود اس چیز کا علم ہوا ہے جس کی مدد سے وائرس پھیلتے ہیں۔

جسم میں وائرس کی میزبانی

اس تحقیق میں سائنسدانوں نے سب سے پہلے انسانی خلیوں پر تجربات کیے اور اس کے بعد جِین ایڈیٹنگ کے ذریعے ہمارے ڈی این اے میں شامل ہدایات کو باری باری فہرست سے خارج کیا۔

جینیاتی تبدیلی کے اس عمل سے جو تبدیل شدہ خلیے حاصل ہوئے، ان میں مختلف قسم کے وائرس داخل کیے گئے۔ ان وائرسز میں عام زکام والے وائرس بھی شامل تھے اور ایسے خطرناک وائرس بھی تھے جو پولیو اور فالج جیسے امراض کا سبب بنتے ہیں۔

جن تبدیل شدہ خلیوں سے پروٹین کی ایک قسم (میتھائل ٹرانفیریز اس ایک ڈی 3) نکال لی گئی تھی، جب ان خلیوں میں وائرس داخل کیے گئے تو وائرس وہاں پھل پھول نہیں سکے۔

اس کے بعد تحقیق کرنے والی ٹیم نے کچھ چوہوں میں جینیاتی تبدیلی کر کے ان میں اِس قسم کی پروٹین پیدا کرنے کی صلاحیت بالکل ختم کر دی۔

پروفیسر جین کیرٹ کا کہنا تھا کہ جب مخلتف چوہوں میں یہ وائرس داخل کیا گیا تو جینیاتی تبدیلی والے چوہوں کے علاوہ تمام چوہوں کو انفیکشن ہو گئی۔

’اگر چوہوں میں جینیاتی تبدیلی نہ کی گئی ہوتی، تو یہ سارے چوہے مر جاتے، لیکن یہ چوہے نہ صرف زندہ رہے بلکہ ہم نے دیکھا کہ ان کے اندر وائرس پھیل نہیں سکا۔‘

زکام

ماہرین ایسی دوا بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو پروٹین کو عارضی طور پر دبا کر وائرس کے خلاف مدافعت فراہم کر سکے۔

نزلہ زکام پیدا کرنے والے وائرس، پروٹین کی جن اقسام پر انحصار کرتے ہیں وہ ہمارے خلیوں کے اندر ایک پیچیدہ عمل کے ذریعے ایک قسم کا حصار بنانے کے کام آتی ہے۔

’نیچر مائیکروبائیولوجی‘ نامی جریدے میں شائع ہونے والے اس تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ چوہوں میں مذکورہ پروٹین شروع سے موجود نہیں تھی، لیکن اس کے باوجود یہ چوہے وائرس سے بالکل متاثر نہیں ہوئے۔

زکام کا کوئی علاج ہمیں کب ملے گا؟

صاف ظاہر ہے کہ سائنسدان زکام سے بچانے کے لیے انسانوں میں کسی جینیاتی تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، بلکہ ماہرین کوئی ایسی دوا بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ہمارے جسم میں پروٹین کو عارضی طور پر دبا کر وائرس کے خلاف مدافعت فراہم کر سکے۔

پروفیسر کارٹل کہتے ہیں کہ ’ ہمیں اس خاص پروٹین کا پتہ چل گیا ہے جس پر یہ سارے وائرس انحصار کرتے ہیں۔ اس پروٹین کو خلیوں سے ہٹا دیں تو جس میں وائرس کے پھیلنے کا کوئی امکان نہیں رہتا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ ایک پہلا قدم ہے، اور اب دوسرا قدم کوئی ایسا کیمیائی مادہ دریافت کرنا ہوگا جو وائرس کو یہ فریب دے سکے کہ اب خلیوں میں اس کی خوارک بننے والی پروٹین موجود نہیں رہی۔‘

’اور میرا خیال ہے کہ اس میدان میں مزید ترقی اب قدرے تیزی سے ہو سکے گی۔‘

جسم میں زکام وغیرہ کے مزید وائرس پیدا کرنے میں یہ پروٹین کیسے مدد کرتی ہے، اس کے بارے میں ماہرین یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے اور اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہوگی۔

ہم میں سے اکثر لوگوں کے لیے نزلہ زکام کوئی بڑی بیماری نہیں بلکہ ایک قسم کی زحمت ہوتی ہے، لیکن ایسے افراد جنھیں دمہ ہو، ان میں اس وائرس کے حملے کے اثرات بہت برے ہو سکتے ہیں اور اگر یہ وائرس دماغ تک پھیل جائے تو انہیں فالج بھی ہو سکتا ہے۔

اس حوالے سے برطانیہ کی یونیورسٹی آف نوٹنگھم سے منسلک پروفیسر جوناتھن بال کہتے ہیں کہ حالیہ تحقیق بڑی ’واضح‘ ہے لیکن سائنسدانوں کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ مجوزہ علاج میں کسی قسم کا خطرہ نہیں ہو۔

’اب ایسے طریقہ علاج کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے جس میں کسی جراثیم کو نشانہ بنانے کی بجائے اس پرویٹن کو ہدف بنایا جاتا ہے جس پر وائرس پھلتے پھولتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح آپ وائرس کی شکل تبدیل کر لینے کی صلاحیت پر بہتر قابو پا سکتے ہیں۔‘

لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وائرس تبدیلیوں سے نمٹنا خوب جانتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ میزبان پروٹین کو ہدف بنانے والا علاج بھی شاید وائرس کو ہم سے زیادہ عرصہ دور نہ رکھ سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *