وفاقی وزارتوں میں ایک کھرب 56 اروب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

اسلام آباد: آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز میں آڈٹ سال 19-2018 کے درمیان ایک کھرب 56 ارب کے عوامی فنڈ میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کردی۔

رپورٹ کے مطابق آئین کے آرٹیکل 171 کے تحت پارلیمنٹ میں پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں اے جی پی نے خلاف قواعد و ضوابط، اندرونی سطح پر کنٹرول میں کمی، عوامی فنڈز کی زیادہ ادائیگیوں اور غفلتوں کی طویل فہرست کی نشاندہی کی۔

آڈٹ کیے گئے فنڈز مالی سال 18-2017 کے تھے جسے آڈٹ سال 19-2018 کہا جاتا ہے۔

وفاقی حکومت کے آڈٹ سال 2018 کے اکاؤنٹس میں آڈٹ اعتراضات گزشتہ سال کے 58 ارب کے مقابلے میں 87 فیصد زیادہ ہے جو عوامی رقم پر مالیاتی کنٹرول میں خرابی ظاہر کرتا ہے۔

یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ حکومت نے 2 ارب ڈالر (280 ارب روپے) کے عالمی بانڈز 8.25 فیصد اور 7.25 فیصد شرح سود پر وفاقی کابینہ کے بجائے وزیر اعظم کی منظوری سے بڑھائے جبکہ قواعد کے مطابق اس کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جاتی ہے۔

اضافی شرح سود کی وجہ سے کرائے گئے آڈٹ میں 280 ارب روپے کی پوری رقم کو بغیر سوالات اٹھائے خلاف ضابطہ اور ناجائز قرار دیا گیا۔

اس طرح کی زیادہ تر بڑی رقم پبلک اکاؤنٹس کمٹی کی جانب سے ریگولرائز کی جاتی ہے کیونکہ ان میں زیادہ تر کرپشن یا غبن شامل ہوتا ہے۔

صدر مملکت کو بھی جمع کرائی گئی اے جی پی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کے انکشافات 50 میں سے 40 وفاقی اداروں کے عوامی فنڈز کی اسکروٹنی کے بعد سامنے آیا اور اس میں 10 لاکھ روپے سے کم اخراجات کو شامل نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نظر ثانی کیے گئے سال کے دوران 4.9 ارب روپے کی رقم بازیاب کی گئی جسے وفاقی فنڈ میں جمع کرادیا گیا ہے۔

اے جی پی نے اندرونی کنٹرول میں کمزوریوں کے کل 39 کیسز کی نشاندہی کی جس میں 1 کھرب 45 ارب روپے متعدد وزارتوں اور ڈویژنز اور بیرون ممالک میں متعلقہ اداروں کے شامل تھے، ان میں سے چند کو 51 مالیاتی انتضامات میں کمزوری کے کیسز میں شامل کیا گیا جن کی لاگت 1 کھرب 47 ارب روپے تھی، اس کے علاوہ 293 ارب روپے کے اخراجات میں بے ضابطگیاں اور خلاف قواعد ادائیگی کے 237 کیسز کی بھی نشاندہی کی گئی۔

186 ارب روپے کے بازیابی کے 56 کیسز تھے جبکہ 1 ارب روپے سے متعلق 4 کیسز کا ریکارڈ آڈیٹر کے مطالبے پر فراہم نہیں کیا گیا تھا۔

آڈیٹر جنرل پاکستان نے وزارت خزانہ اور اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریوینیو (اے جی پی آر) کی جانب سے 99 ارب روپے سے زائد کی سپلیمنٹری گرانٹ کے حوالے سے غلط بیانی پر بھی سوالات اٹھائے جو وفاقی حکومت کے موثر مالیاتی انتظامات کی یقین دہانی کے لیے ضروری ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *