’امریکا سعودی تنصیبات پر حملے سے جنم لینے والے بحران کا پر امن حل چاہتا ہے‘

دبئی: امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ امریکا، تیل کی سعودی تنصیبات پر ہونے والے حملے سے جنم لینے والے بحران کا پر امن حل چاہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پومپیو نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر سعودی تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملے کا الزام ایران پر لگایا تھا اور اس ’جنگی حرکت‘ کی مذمت کی تھی جس کے نتیجے میں سعودی عرب نے تیل کی تقریباً نصف پیداوار روک دی تھی۔

مذکورہ بیان بازی نے سعودی عرب اور ایران کے مابین اشتعال انگیزی کے خطرے میں مزید اضافہ کردیا تھا جن کے تعلقات خطے میں غلبہ پانے کے لیے پہلے ہی کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں۔

دوسری جانب اس کشیدگی کے پیشِ نظر ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکا اور اس کے اتحادی خلیج ممالک پر واضح کیا کہ ’اگر ایران پر فضائی حملہ ہوا تو کھلی جنگ ہوگی‘۔

چنانچہ سعودی دارالحکومت ریاض اور متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت میں اتحادیوں سے ملاقات کرنے کے بعد مائیک پومپیو نے کہا کہ اس حوالے سے ’خطے میں اتفاقِ رائے‘ پایا جاتا ہے کہ ایران کی تردید کے باجود حملے اسی نے کیے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس محاذ آرائی سے نکلنے کی راہ تلاش کرنے کا عزم رکھتا ہے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم پرامن حل چاہتے ہیں اور میرے خیال میں ہم نے ایسا کر کے بھی دکھایا اور مجھے امید ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران بھی اس کو اس نظر سے دیکھے گا‘۔

خیال رہے کہ امریکی سیکریٹری اسٹیٹ جدہ سے ریاض پہنچے تھے اس سے قبل انہوں نے ولی محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی جو سعودی عرب کے ڈیفیکٹو حکمران ہیں اور تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کو عالمی خواہش کے لیے حقیقی امتحان قرار دے چکے ہیں۔

اس سے قبل سعودی حکام نے انکشاف کیا تھا کہ ملک کے مشرق میں قائم تیل کی تنصیبات پر 25 ڈرونز اور کروز میزائلز سے حملہ کیا گیا تھا جس سے وہاں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

مذکورہ حملوں کی ذمہ داری سعودی عرب کے پڑوسی ملک یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے قبول کی تھی لیکن واشنگٹن اور ریاض دونوں نے اس کو تسلیم نہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملہ باغیوں کی استعداد سے بڑھ کر ہے۔

آرامکو آئل فیلڈ حملہ

خیال رہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس پر ڈرون حملے کیے گئے تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کی تھی جبکہ اس کے عسکری ترجمان نے کہا تھا کہ سعودی حکومت کو مستقبل میں بھی ایسے مزید حملوں کی توقع رکھنی چاہیے۔

تاہم سعودی عرب کی فوج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا تھا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے حملے کی ذمے داری قبول کی گئی لیکن حقائق اس دعوے کے برعکس ہیں کیونکہ ہفتے کی صبح کیے گئے یہ حملے یمن سے نہیں ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان حملوں میں ایرانی ہتھیار استعمال کیے گئے تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے پر معاملے کو عوام کے سامنے لے آئیں گے۔

ادھر امریکا نے بھی الزام عائد کیا تھا کہ سعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس پر ہونے والے ڈرون حملوں میں ایران براہ راست ملوث ہے۔

تاہم ایران نے ایک مرتبہ پھر اپنے سابقہ موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ان کا سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں میں کوئی کردار نہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہم ایران پر لگائے گئے حملوں کے الزامات کی سخت سے مذمت کرتے ہیں، یہ الزامات ناقابل قبول اور بے بنیاد ہیں۔

مذکورہ حملوں کے پیشِ نظر سعودی عرب نے تیل کی پیداوار میں خاصی کمی کردی تھی توانائی کے اعداد و شمار بتانے والے ادارے 'ایس اینڈ پی پلیٹس' نے کہا تھا کہ سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملے کی وجہ سے یومیہ 30 لاکھ بیرل تیل کی فراہمی بند ہوگئی ہے۔

جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 19.5 فیصد تک کا ریکارڈ اضافہ ہوگیا تھا۔

اس تمام تر صورتحال پر سعودی فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت کابینہ اجلاس کے بعد دنیا کو خبردار کیا گیا تھا کہ تنصیبات پر حملے کے بعد دنیا کو تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

سعودی عرب کی زیر قیادت فوجی اتحاد مارچ 2015 سے یمن میں حکومت مخالف حوثی باغیوں سے جنگ لڑ رہا ہے اور ماضی میں بھی حوثیوں کی جانب سے اس طرح کے حملے کیے جا چکے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *