واپسی

کچھ عرصہ غریب الوطنی کے بعد جب میں اپنے ملک کی طرف روانہ ہوتی ہوں تو میرے دل میں  سکون اورطبیعت میں ایک عجیب سی شادمانی ہوتی ہے۔ میں ایسے بہت سے لوگوں کو مل کر آتی ہوں جنہوں نے اپنی زندگی کے کم سے کم تیس سے چالیس برس اپنے ملک میں گزارے اور پھر کسی نہ کسی وجہ سے ملک سے باہر جا کر آباد ہو گئے۔ ذیادہ تر افراد جو اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ گزارنے کے بعد وطن سے دوری اختیار کرتے ہیں ان کے اس فیصلہ کی وجہ یا تو مالی مشکلات ہیں، یا معاشرتی رویے جن سے تنگ آکر وہ اپنا وطن چھوڑتے ہیں، جب کہ ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو اپنے ملک میں بھی ایک خوشحال زندگی گزار سکتا ہے مگر ترقی یافتہ ممالک کا معیار زندگی انہیں اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ ان لوگوں کی تعداد نسبتا" کم ہے۔ ان لوگوں کے پاس وسائل کی فراوانی ہے اور یہ دنیا میں کہیں بھی رہیں ان کے لیے زندگی سہولیات سے آراستہ رہتی ہے۔

وطن واپسی سے پہلے بہت سے افراد مجھے یہ سوال پوچھنا شروع کر دیتے ہیں کہ تم واپس کیوں جانا چاہتی ہو۔ سب سے ذیادہ پر مغز گفتگو اس بار ایک کینیڈین شخص کے ساتھ ہوئی اور ایک ۱۹ سالہ پاکستانی نژاد بچے سے جو کینیڈا ہی میں پیدا ہوا اور اس کی پاکستان کے بارے میں معلومات میڈیا پر دکھائے جانے والے پاکستان تک محدود ہے۔ کینیڈین شخص کی عمر پچاس سے ذیادہ تھی اور وہ مجھ سے سادہ سوالات کر رہا تھا۔ میری اسی رات پاکستان واپسی کی فلائٹ تھی اور وہ جاننا چاہتا تھا کہ پاکستان میں کینیڈا میں رہنے کی بجائے پاکستان واپس کیوں جانا چاہتی ہوں۔ میں نے اسے تفصیلا" اپنے کام اور زندگی کی مصروفیات کے بارے میں بتایا۔ اس کا سب سے اچھا سوال تھا تم نے شادی نہیں کی تو کیا پاکستان میں یہ نارمل تصور کیا جاتا ہے؟ اور کچھ دیر بعد گفتگو کے دوران اس نے کہا اوہ اچھا تو تم نے اپنے کام سے شادی کر رکھی ہے۔ پھر اس نے استفسار کیا کہ تم چھٹی کیسے گزارتی ہو جس پر اس کے لیے یہ ایک حیران کن بات تھی کہ میں ایک خاتون ہوتے ہوئے پاکستان میں بھی شاپنگ، باہر کھانا اور فلم دیکھنا پسند کرتی ہوں بالخصوص یہ کہ میرے دوستوں کی فہرست میں خواتین اور مرد دونوں پائے جاتے ہیں۔ پاکستانی نژاد بچہ صرف اور صرف یہ سمجھنے کی کوشش کرتا رہا کہ میں اسلام آباد کو رہنے کے لیے بہترین شہر کیوں مانتی ہوں۔ اس کے لیے یہ بھی ایک حیران کن بات تھی کہ پاکستان میں مالز بھی ہیں اور بین الاقوامی برانڈز بھی۔

وطن واپسی کے سفر کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ کسی مقام پر بھی میری جامع تلاشی نہیں لی گئی، جب کہ کینیڈا سے امریکہ کے مختصر سفر کے لیے تین بار مختلف مقامات پر مجھے رینڈم چیک میں ڈالا گیا تھا۔ وطن واپسی کا سفر طویل سہی لیکن اس وجہ سے خوش آئند ہوتا ہے کہ میں اپنے دیس میں اور اپنی زندگی میں واپس جا رہی ہوں۔ ابوظہبی سے اسلام آباد کی فلائٹ ایک الگ کہانی ہے۔ کوئی بھی کسی بھی سیٹ پر بیٹھ جاتا ہے اور پھر ایک ہلچل مچ جاتی ہے۔ فلائٹ کا عملہ سامان رکھنے اور سیٹوں کے مسئلے حل کرنے سے شدید گریزاں رہتا ہے۔ ذیادہ تر افراد اس بات پر نالاں ہو جاتے ہیں کہ عملہ مداخلت کیوں کر رہا ہے اس لیے وہ عموما" ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں جب تک کہ کوئی خود ان کو مدد کی درخواست نہ کرے۔ ایک شخص اپنا بورڈنگ کارڈ ہاتھ میں لیے سیٹ ڈھونڈ رہا تھا، ایک بیس بائیس سالہ نوجوان نے اس کا کارڈ پڑھ کر کہا آپ کی سیٹ آگے ہے، وہ شخص اطمینان سے بولا ہاں لیکن وہاں کوئی اور بیٹھا ہے، نوجوان نے کہا کہ آپ ان سے کہئے کہ وہ اپنی سیٹ ہر جا کر بیٹھِ جائیں، یہ سنتے ہی وہ شخص ڈانٹ کر بولا یہ بہت " بری بات" ہے کہ ہم کسی بیٹھے ہوئے شخص کو اٹھا دیں، تم جائو میں اپنے لیے کوئی نہ کوئی سیٹ ڈھونڈ لوں گا۔ اس تمام گفتگو کے بعد میں یہ سوچتی رہی کہ ہم اچھی اور بری بات کا فیصلہ کیسے کرتے ہیں؟؟؟

اسلام آباد آئر پورٹ پر پہنچتے ہی میری زبان پر ہمیشہ شکر الحمدللہ ہوتا ہے۔ البتہ لوگوں کے رویے بدلتے بدلتے بد اخلاقی تک پہنچ جاتے ہیں اور اتنے وسیع ائر پورٹ پر دو چھوٹی چھوٹی لفٹ میں سے جب ایک نہ چل رہی ہو تو کیا منظر ہو گا وہ خود ہی سوچ لیں۔ واپسی کے بعد اگلے تین روز تک شہر میں ذیادہ تر زندگی کے معمولات بند رہے کیونکہ یہ عاشورہ کے ایام تھے۔ لوگوں نے فون پر اور سوشل میڈیا پر مجھے خوش آمدید کہا اور پھر جب زندگی معمول پر آئی تو فردا" فردا" دوست احباب اور عزیز و اقارب سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان تمام لوگوں کو اپنے سفر اور بیرون ملک قیام کی کہانی سناتے ہوئے ایک بات کا شدت سے اظہار کیا کہ خدارا ایک دوسرے کے لیے زندگی اس قدر تنگ نہ کیجئے کہ لوگ اپنا ملک اور اپنا گھر چھوڑ کر باہر جا بسیں۔ اپنا وطن اپنا گھر ہوتا ہے اور غیر ملک تا دم مرگ غیر ملک ہی رہتا ہے۔ میں کل شام اسلام آباد کی ایک سڑک کے کنارے پڑے کوڑے کے ڈھیر اور غلط جانب سے آتی گاڑیوں کی لمبی قطار دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ میں پاکستان میں رہنے کی کیا وجہ بیان کیا کروں سوائے اس کے کہ مجھے اپنے دیس سے محبت ہے اور محبت اندھی ہوتی ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *