شہباز ‘شجاعت رابطہ…اگلی شرافت کے نمونے پائے جاتے ہیں

چودھری شجاعت حسین کو میاں شہبازشریف کی کال کا معلوم ہوا تو انہوں نے فوراً جوابی کال ملانے کا کہا‘لیکن تب شہباز صاحب سوچکے تھے۔ چودھری صاحب کو اگلے روز بھی یہ کام یاد تھا۔ اس روز بات ہوگئی ۔چودھری صاحب جرمنی میں(اپنی دیرینہ بیماری کے سلسلے میں)زیر علاج ہیں۔ گزشتہ دنوں اس حوالے سے تشویش ناک خبریں بھی آئیں‘لیکن اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور چودھری صاحب زندگی کی طرف لوٹ آئے۔ شہبازشریف نے چودھری صاحب کی مزاج پرسی کے لیے فون کیا تھا۔ کال چودھری صاحب کے صاحبزادے سالک حسین نے وصول کی ‘تب چودھری صاحب آرام کررہے تھے۔ شہباز صاحب نے مریض کو ڈسٹرب کرنا مناسب نہ سمجھا (کہ آرام بھی علاج کا حصہ ہوتا ہے) انہوں نے سالک حسین سے تفصیلات معلوم کرنے پر ہی اکتفا کیا اور کہا کہ وہ دوبارہ کال کرلیں گے‘ لیکن چودھری صاحب کی روایتی وضعداری بروئے کار آئی اور انہوں نے شکریے کے لیے جوابی کال کرنا ضروی سمجھا۔وضعداری اورملنساری کی روایت چودھری خاندان میں‘ بڑے چودھری صاحب (ظہور الٰہی شہید)کے دور سے چلی آرہی ہے۔ انہوں نے بھی یہ روایت اپنے بڑوں سے ورثے میں پائی ہوگی کہ خاندانی روایات ‘ نسلوں کا تسلسل ہوتی ہیں ۔چودھری ظہور الٰہی بھی اپنی ڈھب کے خاص آدمی تھے‘ دوستوں کے دوست اور دشمنوں کے ساتھ بھی دشمنی نبھانے والے ۔
جنرل ایوب خان نے آتے ہی جن سیاستدانوں کو''ایبڈو‘‘ کیا ‘ ان میں چودھری صاحب بھی تھے۔ایبڈوزدگان کے سامنے دوراستے تھے‘ 6 سال کے لیے سیاست سے دستبردار ہوکر گھر بیٹھ رہیں(یہ عافیت کی راہ تھی) دوسرا راستہ اسے قبول کرنے کی بجائے عدالت میں چیلنج کرنے کا تھا۔ اس صورت میں6 سال کی ڈس کوالیفکیشن کے ساتھ سزا بھی ہوسکتی تھی‘ لیکن چودھری صاحب نے دوسرا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور عدالت سے بے گناہی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔(حسین شہیدسہروردی نے بھی یہی راستہ اختیار کیا اور سرخروٹھہرے)۔ 1962ء میں مارشل لا اٹھاتو سیاست کے لیے ایوب خان کی کنونشن لیگ چودھری صاحب کا انتخاب تھی۔ وہ برسراقتدار جماعت کی پارلیمانی پارٹی کے سیکرٹری جنرل بھی بنے‘ لیکن اس دوران گورنر مغربی پاکستان نواب امیر محمد خان آف کالا باغ سے ٹھن گئی ۔یہ دریا میں رہ کر مگر مچھ سے دشمنی والی بات تھی‘ لیکن دشمنی اور دوستی کے معاملے میں چودھری صاحب کو سودوزیاں کی فکر نہ ہوتی۔ 1970ء کا الیکشن میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کی کونسل مسلم لیگ کے ٹکٹ پر لڑا۔بھٹو کے طوفان میں کونسل لیگ پنجاب سے قومی اسمبلی کی جو سات سیٹیں نکال پائی ‘ ان میں گجرات سے چودھری صاحب کی سیٹ بھی تھی۔ خود دولتانہ صاحب لڈن(وہاڑی) والی آبائی سیٹ بمشکل جیت پائے تھے۔سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد ''نیا پاکستان‘‘ بھٹو صاحب کی دستبردمیں تھا۔ دولتانہ صاحب‘ بھٹو کی'' فسطائیت‘‘ سے اور بھٹو صاحب دولتانہ کی ''سیاسی ذہانت‘ ‘ سے خوف زدہ تھے۔(بے رحم ناقدین اسے محلاتی سازشوں والی مہارت قرار دیتے)۔ بھٹو صاحب نے برطانیہ میں سفارت کی پیش کش کی ‘بزرگ سیاستدان کی ذہانت نے اسے عافیت کی راہ سجھائی اور اس نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کو عافیت کدہ بنالیا۔ دونوں ایک دوسرے سے محفوظ ہوگئے تھے۔ یاد پڑتا ہے‘ 1977ء میں پی این اے کی تحریک نے زور پکڑا تو دولتانہ صاحب ووٹ کے تقدس کی تحریک سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے وطن لوٹ آئے۔ جنرل گل حسن اور ایئر مارشل رحیم بھی ایمبیسڈر شپ سے استعفے دے کر واپس آگئے تھے۔ یہ وہی تھے جنہوں نے سقوط ڈھاکہ کے بعد یحییٰ خان سے بھٹو کو اقتدار منتقل کروایا تھا اور چند ماہ بعد بھٹو نے زبردستی استعفے لے کر دونوں کوسفیر بنا کر بیرون ملک بھجوا دیا ۔
دولتانہ صاحب کے بعد سردار شوکت حیات بھی کونسل مسلم لیگ چھوڑ کر پیپلز پارٹی کے ہوگئے ‘ لیکن چودھری ظہورالٰہی نے بھٹو مخالفت کی کٹھن راہ پر گامزن رہنے کا فیصلہ کیا ۔ان پرڈیفنس آف پاکستان رولز سے لے کر بھینس چوری تک کے مقدمے بنے۔معاشی لحاظ سے تباہ کرنے کی کوششیں بھی ہوئیں ۔ پھرپنجاب بدر کرکے بلوچستان کی مچھ جیل میں ڈال دیا گیا۔ تب اکبر بگٹی وہاں گورنر تھے۔ انہیں چودھری صاحب کو ''پولیس مقابلے‘‘ میں مروادینے کا کہا گیا‘ لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ بلوچ اپنے مہمانوں کو قتل نہیں کرتے۔ بھٹو ایوانِ اقتدار سے رخصت ہوئے تو چودھری صاحب پر درِ زنداں کھلا۔ وہ بھٹو دشمنی کا استعارہ بن گئے تھے۔ انہوں نے صدر جنرل ضیا الحق سے وہ قلم تحفے کے طور پر حاصل کرلیا جنرل نے جس سے بھٹو صاحب کی پھانسی کے حکم پر دستخط کئے تھے۔ 25ستمبر1981ء کی صبح وہ پنڈی سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے ۔ جسٹس(ر) مولوی مشتاق حسین اور نامور قانون دان ایم اے رحمن بھی ہم سفر تھے۔ پنڈی سے لاہور آتے ہوئے چودھری صاحب (تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی)عموماً گجرات میں رکا کرتے ‘لیکن اس روز وہ سیدھے لاہور چلے آئے۔ وہ ڈرائیور کے ساتھ اگلی سیٹ پر تھے کہ ماڈل ٹائون میں ایک موڑ پر گاڑی آہستہ ہوئی اور گھات میں بیٹھے ہوئے حملہ آور وں نے فائر کھول دیا۔ ایک گولی ڈرائیور کو لگی۔ دوسری چودھری صاحب کے سر میں گھس گئی۔ کچھ چھرے پچھلی نشست پر مولوی مشتاق صاحب کو بھی لگے۔ ایم اے رحمن بالکل محفوظ ومامون رہے۔ مرتضیٰ (اورشاہ نواز )کی الذوالفقار نے اس واردات کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔ بعض ذرائع کے مطابق انڈین را بھی اس میں ملوث تھی‘جس کے خیال میں سکھوں کی خالصتان تحریک کے تانے بانے چودھری صاحب تک بھی پہنچتے تھے۔تب غلام مصطفی کھر بھی ''بھٹو برادران‘‘ کے ساتھ ہوتے ۔ ایک موقع پر کہا۔ چودھری شجاعت حسین ‘ بڑے چودھری صاحب کے سیاسی وارث قرار پائے۔ ان کے کزن (اور برادرِ نسبتی) چودھری پرویز الٰہی ان کے دستِ راست تھے۔ یہی پنجاب کے سیاسی افق پر میاں نوازشریف کے ابھرنے کا دور تھا۔ گجرات کے چودھریوں اور لاہور کی شریف فیملی کو ''فطری طور پر‘‘ صدر ضیا الحق کی سرپرستی حاصل تھی۔عملی سیاست میں نوواردشریف فیملی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔1981ء میں صوبائی وزیر خزانہ سے آغاز کرنے والے نوجوان نوازشریف 1985ء میں ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔ پرویز الٰہی ان کے وزیر بلدیات تھے‘ ادھر چودھری شجاعت حسین وزیر اعظم جونیجو کی کابینہ کے اہم ارکان میں شمار ہوتے۔ اس دوران پیر صاحب پگارا کی سرپرستی میں پنجاب میں نوازشریف کے خلاف بغاوت کا منصوبہ بنا‘ چودھری پرویز الٰہی اس میں پیش پیش تھے‘ لیکن نوازشریف سروائیو کر گئے۔بعد کی کہانی‘ دونوں خاندانوں میں قربتوں اور فاصلوں کی کہانی تھی۔-90 1988ء میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی مخالفت اور مزاحمت‘ دونوں خاندانوں میں مثالی اتحاد واتفاق کا باعث بن گئی۔ پنجاب میں نوازشریف کی دوسری وزارتِ اعلیٰ کو بے نظیر صاحبہ کی وفاقی حکومت کی دستبرد سے بچانے میں چودھری صاحبان پیش پیش تھے۔
1990-93ء میں وفاق میں نوازشریف حکومت اور پنجاب میں وائیں صاحب کی وزارتِ اعلیٰ میں چودھری برادران بڑے حصے دار تھے۔ اکتوبر 93ء سے نومبر96ء تک بے نظیر صاحبہ کی دوسری حکومت میں وفاق اور پنجاب میں چودھری برادران ‘ نوازشریف کی زیر قیادت اپوزیشن کا ہر اول دستہ تھے۔1997ء میں نوازشریف کی مسلم لیگ نے وفاق اور پنجاب میں لینڈ سلائیڈ وکٹری حاصل کی ۔ اب چودھری برادران کوپنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کی امید تھی۔ یہ شہبازشریف کے حصے میں آئی تو چودھری صاحبان کڑوا گھونٹ بھر گئے‘ لیکن وفاق اور پنجاب کے اقتدار میں اب بھی ان کا معقول حصہ تھا۔ بڑے چودھری صاحب وفاق میں وزیر داخلہ اور چھوٹے چودھری پنجاب اسمبلی کے سپیکر تھے۔12کتوبر1999ء کے ٹیک اوور کے بعد نئے حالات تھے اور نئی سیاست۔ جدہ کے سرور پیلس میں ایک شام ہم نے میاں صاحب سے پوچھا‘ آپ کو کس کے چھوڑ جانے کا سب سے زیادہ افسوس ہوا؟'' چودھری شجاعت صاحب کے چھوڑ جانے کا‘‘۔دونوں خاندانوں میں فاصلے جلا وطنی سے واپسی پر قربتوں میں تبدیل نہ ہوسکے‘ لیکن سماجی تعلقات میں فرق نہ آیا‘ چودھری شجاعت کی والدہ کی وفات پر میاں نوازشریف اور شہباز شریف سب سے پہلے پہنچنے والوں میں تھے۔ یہی معاملہ بیگم صاحبہ کی تدفین پر چودھری صاحبان کا تھا۔اب بڑے چودھری صاحب کی مزاج پرسی کے لیے شہبازشریف کی کال اور جواباً چودھری صاحب کی شکریے کی کال...ابھی اگلی شرافت کے نمونے پائے جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *