کیا مولانا کو روکا جا سکتا ہے؟

تما م ٹیسٹ یہ بتا رہے ہیں کہ کینسر کا ایک مریض آخری سٹیج پر ہے۔ اگر کوئی اسے قتل کرنا چاہے تو آپ ایسے شخص کو کیا مشورہ دیں گے؟ یہی کہ ''جب آسمانی قوتیں آپ کی تائید میں کھڑی ہیں اور کارکنانِ قضا و قدر آپ کی خواہش کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں تو پھر آپ اپنے ہاتھ اس کے لہو سے کیوں رنگنا چاہتے ہیں؟‘‘
حکومت ڈھلوان کے سفر پر ہے۔ اس کی رفتار دن بدن تیز ہوئی جاتی ہے۔ قدموں کی لڑکھڑاہٹ پر قابو پانا اس کے بس میں نہیں رہا۔ تمام آثار یہ ہیں کہ جی کا جانا ٹھہر چکا، صبح گیا کہ شام گیا۔ کسی طرف سے اچھی خبر نہیں۔ خان صاحب کے سب ہمدرد خاموش ہیں کہ تائید مشکل ہو گئی۔ سوائے ان کے جو نواز شریف کے بغض میں کچھ بھی قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ شاید ہی کسی حکومت پر اتنے کم عرصے میں اس طرح کا برا وقت آیا ہو۔
جو کچھ سوچتے ہیں، اُن کے پاس صرف ایک دلیل باقی ہے: ہے تو دیانت دار نا۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ دلیل بھی اسی وقت قابلِ قبول ہے جب دیانت کی مروجہ تعریف سے دست بردار ہوتے ہوئے، اس کی ایک نئی تعریف کی جائے۔ اب اگر کوئی ایسی حکومت کے خلاف دھرنا دینا چاہے تو اسے کیا مشورہ دیا جائے؟ مولانا فضل الرحمن کیا دل کی آگ بجھانا چاہتے ہیں کہ یہ معرکہ ان کے ہاتھوں سر ہوا؟
معیشت کھلی کتاب کی طرح ہمارے سامنے ہے۔ سب سے تکلیف دہ روز افزوں مہنگائی ہے۔ اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور آمدنی میں بہتری کا کوئی امکان نہیں۔ قرض، جو نواز شریف کے خلاف چارج شیٹ میں سرِ فہرست تھا، حکومت نے اس باب میں تمام سابق ریکارڈ توڑ دیے۔ یہی نہیں بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف میڈیا کو دیکھیں تو آئے دن ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جن کی نوکری ختم ہو چکی۔
بے روزگاری کا براہ راست تعلق جرائم سے ہے۔ جب روزگار نہیں ملتا تو چوری چکاری کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ راولپنڈی اسلام آباد کے بارے میں، میں براہ راست معلومات رکھتا ہوں کہ سٹریٹ کرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پولیس کی نااہلی پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ یوں عام شہری پریشان ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور پھر عدم تحفظ کا احساس۔ اس پہ مستزاد گھٹن۔ اس کا نتیجہ نفسیاتی امراض میں اضافہ ہے۔ اب تو مہینوں گزر جاتے ہیں کسی نارمل آدمی سے ملے۔
کشمیر کے معاملے میں پوری قوم بے بسی کی کیفیت میں ہے۔ خارجہ پالیسی کی ناکامی کا یہ عالم ہے کہ ہم اقوام متحدہ کی کونسل برائے حقوقِ انسانی میں مذمتی قرارداد ہی پیش نہیں کر سکے۔ وزیر خارجہ قوم کو بتاتے رہے کہ پاکستان کو اٹھاون ممالک کی حمایت حاصل ہے، وقت آیا تو معلوم ہوا کہ قوم سے غلط بیانی کی گئی۔ حکومتی مناصب پر فائز لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ بھارتی مظالم کی مسلسل خبروں سے لوگوں کی نفسیات پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عام آدمی سوال کرتا ہے کہ اگر کشمیریوں پر ظلم کا یہ عالم ہے تو پاکستان کیا کر رہا ہے؟ آخری گولی تک لڑنے کے لیے کب پہلی گولی چلائی جائے گی؟
اگر خان صاحب اور ان کی ٹیم یہ سمجھتی ہے کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں تو پھر قوم کی تربیت بھی اسی حوالے سے کرنی چاہیے۔ ایک طرف سرکاری سرپرستی میں عوامی جذبات ابھارے جا رہے ہیں اور دوسری طرف جنگ کی نفی بھی کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی آخری گولی تک لڑنے کا عزم۔ اس ابہام کا نتیجہ سماجی سطح پر ایک عمومی بے چینی ہے جس کا ہدف حکومت ہے۔ 
یہ داستان دراز ہو سکتی ہے مگر یہ تحصیلِ حاصل ہو گی۔ ہر چیز نوشتہ دیوار ہے اگر کوئی دیدہ بینا رکھتا ہے۔ نواز شریف کو کرپٹ قرار دینے سے دیوار پہ لکھا مٹ نہیں سکتا۔ دوسروں کو برا ثابت کرنے سے حکومت کو اب اچھا ثابت کرنا ممکن نہیں رہا۔ خان صاحب کے مداحوں میں موجود سمجھ دار لوگوں پر یہ بات پوری طرح واضح ہے۔ وہ اب یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ نئی حکومت پرانی سے مختلف نہیں۔
یہ بات بھی اگرچہ درست نہیں مگر اِس وقت یہ میرا موضوع نہیں۔ اگر کسی کے نزدیک ترقی کی شرح 5.9 فیصد ہو یا 2.3 فیصد، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یا آپ کا سٹاک ایکسچینج ایشیا کا بہترین بازارِ حصص ہو یا مسلسل ڈوب رہا ہو، دونوں ایک ہی بات ہے تو ایسے آدمی سے کیا بحث کی جا سکتی ہے؟ اس قضیے سے صرفِ نظر کرتے ہوئے، اس وقت میرا کہنا یہ ہے کہ خان صاحب کے حامی طبقے میں جو سوچتے ہیں، وہ جان چکے کہ تبدیلی کا نعرہ ایک سراب کے سوا کچھ نہیں تھا۔
اس حسنِ کارکردگی کے ساتھ کھڑی ایک حکومت کے خلاف دھرنے کا جواز، میں باوجود کوشش کے تلاش نہیں کر سکا۔ ریت کی دیوار کو گرانے کے لیے اتنی توانائی کا استعمال کیوں؟ اگر یہ اقدام مولانا فضل الرحمن جیسا شخص کرے جو سیاستِ دوراں کے فہم میں معاصرین میں ممتاز تر ہے تو حیرت بڑھ جاتی ہے۔ مولانا، اندازہ یہ ہے کہ کوئی ایسا کام نہیں کرتے جو بے فیض ہو۔
حکومتی کارکردگی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اپوزیشن کی ذمہ داری ہے۔ احتجاج بھی اس کا جمہوری حق ہے۔ اگر مولانا حکومت کے خلاف کوئی تحریک چلاتے ہیں تو اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اسے غلط نہیں کہا جا سکتا۔ اپوزیشن عوامی شعور کی بیداری کے لیے ایک مہم اٹھا سکتی ہے۔ جلسے کر سکتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اتنے لوگ گھروں سے نکل آئیں کہ حکومت مفلوج ہو جائے۔ ایسی صورت میں نئے انتخابات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔
دھرنا ایک مختلف معاملہ ہے۔ محض چند ہزار افراد کا دھرنا نظمِ حکومت کو مفلوج کر سکتا ہے لیکن اسے جمہوری نہیں کہا جا سکتا۔ بیس تیس ہزار بلکہ ایک لاکھ افراد کا یہ حق کسی طور ثابت نہیں کہ وہ کسی حکومت کو یرغمال بنا لیں۔ یہ جمہوری روایات اور آداب کے خلاف ہے۔ اس حکومت کو اگر دھاندلی کا نتیجہ مان لیا جائے تو بھی اس کو بالفعل حکومت تسلیم کیا جا چکا ہے۔ اس کے خلاف دھرنا انارکی اور لا قانونیت کا سبب بن سکتا ہے۔
نون لیگ اور پیپلز پارٹی کا رویہ جمہوری روایات سے قریب تر ہے۔ دھرنا مولانا فضل الرحمن کا انفرادی فیصلہ ہے۔ ان کا یہ حق ہے کہ وہ دوسری جماعتوں کو ہم نوا بنائیں لیکن اگر وہ ان کا ساتھ نہیں دیتیں تو پھر انہیں تنہا پرواز سے گریز کرنا چاہیے۔ بغیر مشاورت اتنا بڑا قدم اٹھانے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ دھرنے میں کتنے لوگ ہوں گے، سوال یہ ہے کہ ایسا اقدام درست ہے یا غلط؟
آج عوام کو دینے کے لیے حکومت کے پاس کچھ نہیں۔ تسلی بھی نہیں۔ جس حکومت کا ہدف ہی دو سال میں ترقی کی شرح2.4 فیصد تک لے جانا ہو، وہ عوام کو دے بھی کیا سکتی ہے؟ ایسی حکومت کے خلاف دھرنا سیاسی بصیرت کی علامت نہیں ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کو چاہیے کہ وہ مہنگائی، آزادیٔ رائے، جمہوری روایات اور شفاف انتخابات کے لیے عوامی شعور کو بیدار کریں۔ اس کے لیے ہر وہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے جس کی آئین اور اخلاق‘ اجازت دیتے ہیں۔
خدشہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا یہ جذباتی قدم کہیں جمہوری عمل ہی کو خطرے میں نہ ڈال دے۔ صورتِ حال کو وہاں نہیں لے جانا چاہیے جہاں کچھ لوگ صدارتی نظام کا بینر اٹھائے کھڑے ہیں اور موجود سیاسی نظم ہی کو تہہ و بالا کرنا چاہتے ہیں۔ عمران خان کی ناکامی کو پارلیمانی نظام کی بساط لپیٹنے کے لیے بطور جواز استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا سدِ باب اپوزیشن جماعتوںکا کام ہے۔ یہ کام منظم جمہوری جدوجہد سے ہو گا۔ دھرنے صدارتی نظام کی راہ ہموار کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
میں مولانا فضل الرحمٰن کو یہی مشورہ دوں گا کہ وہ اپنے جذبات کو تھامتے ہوئے، صورتِ حال کا ادراک کریں۔ اگر وہ آمادہ نہ ہوں تو نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو انہیں اس اقدام سے روکنا چاہیے۔ تجربہ یہ ہے کہ دھرنے صرف حادثات کو جنم دیتے ہیں۔ ان سے اصلاحِ احوال کا کام نہیں لیا جا سکتا۔ پھر ایسی حکومت کے خلاف جو اپنے ہی بوجھ تلے دبتی جا رہی ہو!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *