افریقہ سے2بلین سال پرانا جوہری ری ایکٹردریافت! (دوسری قسط)

oklo-nuclear-reactor اوکلو سے جو کچھ ملا، اس نے وہاں جمع ہونے والے ہر شخص کو حیران کر دیا۔ وہ جگہ جہاں سے یورینیئم ملی، وہ دراصل ایک جدید زیرِزمین جوہری ری ایکٹر ہے جو ہمارے موجودہ سائنسی علم کی صلاحیتوں سے بہت آگے جاتا ہے۔محققین کو یقین ہے کہ یہ قدیم ری ایکٹر 1.8بلین سال پرانا ہے اور ماضی بعید میں کم از کم 500,000سال تک کام کرتا رہا۔سائنسدانوں نے یورینیئم کی اس کان میں کئی دیگر تحقیقات کیں اور پھر بین الاقوامی ایٹامک انرجی ایجنسی کی ایک کانفرنس میں اپنے اخذ کردہ نتائج کو منظرِ عام پر لائے۔افریقہ سے تعلق رکھنے والی نیوز ایجنسیوں کے مطابق، محققین نے کان کے علاقے میں مختلف جگہوں پر موجود فیوژن سے متعلق مصنوعات اور ایندھن کے فضلے کی باقیات پائی تھیں۔
ناقابل یقین بات یہ ہے کہ اس بڑے جوہری ری ایکٹر سے موازنہ کریں تو ہمارے جدید دور کے جوہری ری ایکٹرز ڈیزائن اور کام کرنے کے انداز، دونوں حوالوں سے ناقابل تقابل ہیں۔تحقیقات کے مطابق، یہ قدیم جوہری ری ایکٹر کئی کلومیٹر طویل تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس طرح کے ایک طویل جوہری ری ایکٹرکا ماحول پر منفی حرارتی اثراس کی تمام اطراف میں محض 40میٹر تک ہوتا تھا۔محققین کو معلوم ہونے والی اس سے بھی دلچسپ چیز وہ تابکارفضلے ہیں جنہیں ابھی تک اس مقام کی حدود سے باہر نہیں نکالا گیاجیسا کہ وہ ابھی تک اپنی جگہ پر قائم ہیں، وہ اس علاقے کے زمینی ماحول کیلئے ٹینک کا کام کرتے ہیں۔(جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *