'زیرتسلط افراد پر جبر بدترین دہشت گردی ہے'، بھارت کو اقوام متحدہ میں جواب

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کی تقریر پر بھارت کے جواب پر پاکستان نے جواب الجواب میں کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کا ظلم جاری ہے جو بدترین دہشت گردی ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے ذوالفقار چھینہ نے کہا کہ 'میں بھارتی وفد کو 120 رکنی غیروابستہ تحریک کی پوزیشن یاد دلاؤں کہ زیرتسلط افراد پر جبر بدترین قسم کی دہشت گردی ہے اور اس کی مذمت کرنی چاہیے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ حقیقت ہے کہ بھارت نہ تو اپنی مکروہ پالیسیوں اور کارروائیوں کے حوالے سے حقیقت کا سامنا کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی دوسروں کو دکھانا چاہتا ہے'۔

پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'یہ خطرناک بات ہے کہ ایک ایسا ملک جو 30 برس سے زائد عرصے سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کررہا ہے اور دھڑلے سے دوسروں پر دہشت گردی کا الزام عائد کرتا ہے'۔

قبل ازیں بھارتی نمائندے نے وزیراعظم عمران خان کی تقریر پر جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'پاکستان نفرت کے نظریے تلے دہشت گردی صنعت پروان چڑھارہا ہے'۔

اپنے جواب میں پاکستانی نمائندے نے کہا کہ 'یہ الزامات ایک ایسے ملک کی جانب سے لگائے جارہے ہیں جن کا حاضر سروس نیول افسر کمانڈر کلبھوشن یادیو کو امن کو سبوتاژ اور دہشت گردی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا'۔

ذوالفقار چھینہ نے کہا کہ 'ایک ملک فاشست آر ایس ایس کے شکنجے میں ہے جو بھارت میں دہشت گردی کے جرم میں تین مرتبہ پابندی کا شکار رہی ہے، کیا ان کو دوسروں پر انگلی اٹھانے کی ہمت ہونی چاہیے'۔

انہوں نے کہا کہ 'بھارت کو پہلو خان کے قاتلوں سے جوابات حاصل کرنا چاہیے جنہیں 2017 میں عوام کے ایک ہجوم نے گائے لے جانے کی پاداش میں قتل کردیا گیا تھا'۔

بھارت کے ریاستی مظالم گنواتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'بھارت 2002 میں گجرات میں ہوئے قتل عام کے مرکزی کردار کے جواب تلاش کرے جس سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے والے مالامال ہوگئے ہیں جبکہ معصوم متاثرین کرب اور درد میں پھنسے ہوئے ہیں'۔

پاکستانی نمائندے نے فورم کو بتایا کہ 'ان واقعات کے علاوہ بے شمار دیگر واقعات کے متاثرین ہندو توا کے جبر کے سامنے انصاف کے حصول میں ناکام ہیں'۔

پاکستان نے بھارت کی توجہ اس حقیقت کی جانب دلائی جو 5 اگست کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کے نتیجے میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہے لیکن بھارت اپنے روایتی ہتھکنڈوں کے استعمال کے باوجود عالمی برادری کی توجہ ان مسائل سے ہٹانے میں ناکام ہوچکا ہے۔

ذوالفقار چھینہ نے کہا کہ 'بھارتی نمائندے نے جان بوجھ کر مقبوضہ علاقے میں مکمل اور جابرانہ طور پر مواصلاتی بلیک آؤٹ کی جانب توجہ نہیں دلائی اور نہ ہی معصوم کشمیریوں کی حالت زار سے آگاہ کیا جو گزشتہ 53 روز سے بنیادی غذائی ضروریات تک رسائی سے محروم ہیں اور اپنے مستقبل کے حوالے سے مکمل اندھیرے میں ہیں'۔

انہوں نے فورم کے صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال سنگین ہے اور کشمیریوں کے خود ارادیت کے بنیادی حق کو بھارت کی جانب سے مسترد کیا جارہا ہے'۔

پاکستانی نمائندے نے کہا کہ 'پاکستان اور عالمی برادری کشمیریوں کو یہ حق دلانے کے لیے سلامتی کونسل کی 11 قرار دادوں کے تحت پابند ہیں'۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس سے خطاب میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے بدترین ظلم کو عالمی فورم پر بھرپور انداز میں اٹھایا تھا اور بھارت کے اقدامات سے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'میں اس بات کو دہرانا چاہتا ہوں کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے حوالے سے یہ ایک نازک موقع ہے، اس صورت حال پر ردعمل ہوگا اور پھر پاکستان پر الزامات عائد کیے جائیں گے، دو جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک آمنے سامنے آئیں گے جس طرح ہم فروری میں آئے تھے'۔

وزیراعظم نے کہا کہ 'اس سے پہلے کہ ہم اس طرف جائیں اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے، اسی کے لیے 1945 میں اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تھا، آپ اس کو روکنے کے مجاز ہیں'۔

'اگر کچھ غلط ہوا تو آپ اچھے کی امید کریں گے لیکن ہم اس سے نمٹنے کی تیاری کررہے ہوں گے، اگر دونوں ممالک کے درمیان روایتی جنگ شروع ہوئی اور کچھ ہوا تو سوچیے کہ ایک ملک جو اپنے ہمسایے سے سات گنا چھوٹا ہو تو اس کے پاس کیا موقع ہے، یا تو آپ ہتھیار ڈال دیں یا آخری سانس تک اپنی آزادی کے لیے لڑتے رہیں'۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 'میں یہ سوال خود سے پوچھتا ہوں، میرا ایمان ہے کہ لا الہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی نہیں) اور ہم لڑیں گے، اور جب ایک جوہری ہتھیاروں کا حامل ملک آخر تک لڑتا ہے تو اس کے نتائج سوچ سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں، اس کے نتائج دنیا پر ہوتے ہیں'۔

عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا کہ 'میں خبردار کررہا ہوں، یہ دھمکی نہیں ہے، یہ خوف ، پریشانی ہے کہ ہم کہاں جارہے ہیں یہی بتانے کے لیے میں یہاں اقوام متحدہ میں ہوں کیونکہ صرف آپ ہیں جو کشمیر کے عوام کو ان کا حق خود ارادیت کی ضمانت دے سکتے ہیں جس کے لیے وہ مشکلات کا شکار ہیں'۔

انہوں نے کہا تھا کہ 'یہی موقع ہے عمل کا، پہلا قدم یہ ہے کہ بھارت کرفیو کو ہٹادے جو 52 روز سے نافذ ہے، یہ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے اور خاص کر ان 13 ہزار نوجوانوں کو جنہیں اٹھایا گیا ہے اور ان کے والدین کو ان کی خبر نہیں ہے'۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ 'عالمی برادری کشمیر کو ہر صورت حق خود ارادیت دلائے'۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *