ملیحہ لودھی کی جگہ منیر اکرم اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب مقرر، سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے فوراً بعد ہی اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کو ہٹا کر ان کی جگہ منیر اکرم کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

منیر اکرم سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بھی سنہ 2002 سے 2008 تک اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔

سنہ 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کے معاملے پر منیر اکرم کے پیپلز پارٹی سے اختلافات پیدا ہو گئے تھے جس کے بعد انھیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

منیر اکرم پر نیویارک میں سنہ 2002 میں اپنی ساتھی خاتون پر گھریلو تشدد کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا تاہم سفارتی استثنیٰ کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

ملیحہ لودھی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پر پاکستان کی نمائندگی کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انھوں نے لکھا کہ وزیر اعظم کے دورے اور گذشتہ کئی برسوں سے ملنے والی پذیرائی پر وہ شکر گزار ہیں۔

یاد رہے کہ ملیحہ لودھی کو دسمبر 2014 میں اقوام متحدہ میں مستقل مندوب تعینات کیا گیا تھا اور انھوں نے فروری 2015 میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔

ملیحہ لودھی سنہ 1994 سے 1997 اور پھر سنہ 1999 سے 2002 تک دو بار امریکا میں پاکستان کی سفیر بھی رہ چکی ہیں۔

ملیحہ لودھی اور عمران خان

ملیحہ لودھی کی تبدیلی کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے دورہ امریکہ کے بعد حکومتی حلقوں میں ملیحہ لودھی کی تعریف میں قصیدے پڑھے جا رہے تھے۔

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے تو اپنی ٹویٹ میں عمران خان کے اس دورے کی ’کامیابی‘ کا سہرا بھی ملیحہ لودھی کے سر باندھا تھا۔

ٹویٹ

سوشل میڈیا پر جہاں اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس فیصلے کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔

معاشی اور اقتصادی امور کے ماہر صحافی خرم حسین نے لکھا ’کامیاب دورے کے بعد ملیحہ لودھی کو ہٹایا جانا حیران کن ہے۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ نیو یارک یا واشنگٹن میں چیزیں ٹھیک نہیں ہوئیں۔‘

صحافی ضرار کھوڑو نے لکھا ’ملیحہ لودھی کی جگہ منیر اکرم کو کس میرٹ کی بنا پر لایا گیا اس بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ میرے نزدیک یہ رجعت پسندانہ قدم ہے۔ امید ہے یہ بزداری عمل کا حصہ نہیں ہے۔‘

کالم نگار مشرف زیدی نے لکھا ’وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنا کامیاب ترین ہفتہ مکمل کرنے کے چند گھنٹے بعد ہی وزیر اعظم نے نیویارک میں پاکستان کے مستقل مشن کے محافظ کو تبدیل کردیا، جس کی کوئی وضاحت یا جواز پیش نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس انتظامیہ کے انتہائی پرجوش حمایتی اس کا دفاع کر سکتے ہیں۔‘

ملیحہ ہاشمی نے لکھا ’ملیحہ لودھی کی جگہ منیر اکرم کی تعیناتی ایک بہترین فیصلہ ہے۔‘ انھوں نے لکھا کہ منیر اکرم پر تنقید کرنے والے انتظار کریں اور پاکستان کو سفارتی محاذ پر پروان چڑھتا دیکھیں۔‘

کالم نگار محمد تقی نے طنزیہ انداز میں لکھا ’ہا ہائے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کی مینیجر کو ہٹا دیا گیا؟‘

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *