’نقصان ہے پر اتنا بھی نہیں‘ گوشت خوری پر نئی تحقیق

ایک متنازع تحقیق کے مطابق ساسجز، قیمہ، سٹیک اور پروسیسڈ سرخ گوشت کا استعمال کم کرنا بہت سے لوگوں کے لیے وقت کا ضیاع ہے۔

یہ رپورٹ جس سے بہت سے اداروں کا اختلاف ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ شواہد کمزور ہیں کہ اور لوگوں کی صحت کو ان اشیا کے استعمال سے کم خطرات ہیں۔

کچھ ماہرین نے اس پیچیدہ تحقیق کی تعریف بھی کی ہے۔ تاہم دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی 'خطرناک طور پر گمراہ کن' تحقیق 'عوام کو خطرے میں ڈال' سکتی ہے۔

سرخ گوشت یا پروسیسڈ گوشت میں کیا کیا شامل ہے؟

سرخ گوشت میں گائے، بھیڑ، خنزیر، بچھڑے اور ہرن کا گوشت شامل ہیں جبکہ مرغی، بطخ اور دیگر شکار کیے جانے پرندے اس میں شامل نہیں ہیں۔

پروسیسڈ میٹ وہ گوشت ہوتا ہے جسے زیادہ دیر تک رکھا جاتا ہے اور جس کا ذائقہ بدل جاتا ہے۔ اس میں اسے دھویں میں پکایا جاتا ہے، اس میں نمکیات کو شامل کیا جاتا ہے یا پھر گوشت کو خشک کیا جاتا ہے۔

قیمہ پروسیسڈ گوشت میں شامل نہیں ہے۔ لیکن بیکن، ہاٹ ڈاگ، سلیمی، کارنڈ بیف، ہیم اور پیٹے اس میں شامل ہیں۔

کیا یہ صحت کے لیے برے ہیں؟

red meet

اس سے ایک بڑا خطرہ آنتوں کے کینسر کا ہے۔

جب کینسر پر تحقیق سے متعلق عالمی ادارہ صحت کی بین الاقوامی ایجنسی نے یہ کہا کہ پروسیسڈ گوشت سے کینسر ہوتا ہے تو یہ دنیا بھر میں خبروں کی شہ سرخی بنی۔

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ ’ممکنہ طور پر کینسر پیدا کرنے کا سبب ہے تاہم اس بارے میں شواہد کم تھے۔

صرف برطانیہ میں ہر سال 5400 افراد آنتوں کے کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پروسیسڈ گوشت کے استعمال کی وجہ سے ہے۔

اس میں یہ بھی تجویز کی گئی ہے کہ پروسیسڈ گوشت کے استعمال سے دل کی صحت اور ٹائپ ٹو ذیابیطس بھی ہو سکتے ہیں۔

سائنسی نتائج کے مطابق پروسیسڈ گوشت کا بہت زیادہ استعمال آپ کی صحت کے لیے بہت برا ہے۔

یہ نئی متنازع تحقیق کیا کہتی ہے؟

سرخ گوشت

کینیڈا کی میک ماسٹر اور ڈلاہوسی یونیورسٹی سے منسلک ماہرین کا کہنا ہے کہ انھوں نے وہی شواہد دیکھے ہیں جو دوسروں نے دیکھے ہیں۔

یہ نتائج سالانہ بنیادوں پر آنے والے انٹرنل میڈیسن نامی جریدے میں چھپے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر ایک ہزار افراد ہر ہفتے اپنی خوراک میں تین چوتھائی سرخ گوشت یا پروسییسڈ گوشت جو استعمال کرتے ہوں اسے بند کر دیں تو کینسر کی کل اموات میں سے سات اموات کم ہوں گی۔

اسی طرح 11 برس میں دل کی اموات میں چار کی کمی ہو گی۔ اگر اسی طرح 11 برس تک ایک ہزار افراد سرخ گوشت کے ہفتہ وار ااستعمال کرنے میں تین چوتھائی حصے کو کم کریں۔

سرخ گوشت کو کم کرنے سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کی کل تعداد میں چھ افراد کی کمی ہو گی۔

اسی طرح پروسیسڈ گوشت کے استعمال کی کمی سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں میں چھ متاثرین کی کمی ہو گی۔

اس تحقیق میں وہی خطرات بتائے گئے ہیں جو کہ پہلے کے گئے تھے لیکن اس کی جو تاویل اور تشریح کی ہے وہ یکسر مختلف ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ

  • خطرات زیادہ بڑے نہیں ہیں
  • شواہد بہت کمزور ہیں۔ وہ یہ یقینی طور پر نہیں بتاتے کہ خطرات حقیقی ہیں۔

تحقیق میں شامل ایک محقق ایسوسی ایٹ پروفیسر بریڈلے جانسٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بہت سے لوگوں کے لیے درست انتخاب ہے کہ وہ گوشت کے استعمال کو جاری رکھیں لیکن یہ ہر فرد کے لیے درست انتخاب نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ’یہاں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ اس میں واقعتاً کم شواہد ملے ہیں اس کے کم استعمال سے کینسر میں کمی ہوتی ہے اور صحت پر منفی اثرات کم مرتب ہوتے ہیں۔‘

اس تحقیق کو کیسے لیا گیا ہے؟

شماریات دانوں نے اس تحقیق کے طریقہ کار کی حمایت کی ہے۔

پروفیسر کیون میکونوے اوپن یونیورسٹی میں اپلائینڈ شماریات کے استاد ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ ’بہترین اور جامع کام کیا گیا ہے۔‘

پروفیسر ڈیوڈ سپیگل ہالٹر جن کا تعلق کیمبرج یونیورسٹی سے ہے کہتے ہیں کہ ’پوری احتیاط اور غیر جانبداری سے کی جانے والی تحقیق میں سامنے آنے والے جائزوں سے ایسے اچھے شواہد نہیں ملے کہ جن سے یہ سامنے آئے کہ گوشت کا کم استعمال صحت کے لیے بہترین ہے۔‘

’درحقیقت اس سے اچھے شواہد بالکل نہیں ملے۔‘

تحقیق کے نتائج؟

سرخ گوشت

اس تحقیق کے ساتھ ایسے ہی ہوا جیسے غبارہ فضا سے نیچے چلا جاتا ہے کیونکہ بہت سے شعبوں میں اس تحقیق کے نتائج کی تشریح و توضیح پر اختلاف تھا۔

انگلینڈ میں شعبہ صحت کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں کہ وہ گوشت کے استعمال کی حد مقرر کرنے سے متعلق مشورے پر نظرثانی کریں۔

ڈاکٹر مارکو سپرنگ مین جن کا تعلق آکسفورڈ یونیورسٹی سے ہے کا کہنا ہے کہ یہ خطرناک حد تک گمراہ کن تجاویز ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سائنسی شواہد کو کم کر کے بیان کیا گیا ہے جو کہ کسی بھی صورت میں معاشی طور پر مضبوط ملکوں سے تعلق رکھنے والے گوشت کھانے والے بہت ہی کم لوگوں پر کی گئی تحقیق ہے۔

ورل کینسر ریسرچ فنڈ سے وابستہ ڈاکٹر گیوٹا میٹرو کہتے ہیں کہ اس سے عوام کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

پروفیسر نیتہ فروحی کا تعلق کیمبرج یونیورسٹی سے ہے وہ کہتی ہیں کہ اس تحقیق کی وسعت کم تھی۔

تحقیق میں تجویز کیا گیا ہے کہ اگر ایک ہزار لوگ 10 سال تک ہر ہفتے پروسیسڈ گوشت کی مقدار کو تین چوتھائی کم کر دیں تو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے بار کیسز کم ہو جائیں گے۔

وہ کہتی ہیں کہ عام حالات میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کسی ملک کی آبادی کے حساب سے معمولی نہیں ہے۔

شواہد کی کوالٹی اتنی کمزور کیوں ہے؟

red meet

آپ لوگوں کو محدود نہیں کر سکتے کہ وہ زندگی کیسے گزاریں اور نہ ہی آپ انھیں جبور کر سکتے ہیں کہ وہ کسی بھی خوراک کے کھانے کے لیے اس کے اثرات کے حوالے سے مجبور کریں۔ آپ کو ناقص تحقیق پر بھی انحصار کرنا ہو گا۔

سائنسی تحقیق میں دو قسم کی تحقیق ہوتی ہے۔ مشاہداتی مطالعہ اور بے ترتیب کنٹرول ٹرائلز۔

مشاہداتی مطالعہ میں آپ بہت دہائیوں تک زیادہ بڑی تعداد میں لوگوں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ مثلاً یہ ریکارڈ رکھنا کہ وہ کیسے برتاؤ کرتے ہیں اور یہ دیکھنا کہ ان کی صحت کیسی ہے۔ لیکن یہ دیکھنا کہ خوراک کے کسی ایک جزو کا کیا کردار ہے یہ کرنا ایک چیلنج ہے۔

بے ترتیب تجربات میں آپ کچھ لوگوں کو لیتے ہیں جو مختلف خوراک کھاتے ہوں۔ لیکن وہ اس سے ہمیشہ استعمال نہیں کرتے اور آپ کو انھیں برسوں تک دیکھنا ہوتا ہے اس سے پہلے کہ وہ کسی مرض میں مبتلا ہوں مثلاً کینسر یا ہارٹ اٹیک۔

پروفیسر فروحی کا کہنا ہے کہ سائنس سے منسلک کمیونٹی کو یہ تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ ادویات کے برعکس کسی مخصوص خوراک کے حوالے سے طبّی تجربات اور لوگوں کو لمبے عرصے تک مشاہدے میں رکھا جانا جب تک کہ ان کی موت واقع نہ ہو جائے یا وہ کسی مرض میں مبتلا نہ ہو جائیں ممکن نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *