ایک لاپروا نوجوان سے ’مہاتما گاندھی‘ تک کا سفر

موہن داس کرمچند گاندھی کو 'مہاتما' کہا جاتا ہے۔ وہ ایک زیرک سیاست دان تھے جنھوں نے برطانوی تسلط سے ہندوستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کی اور غریب ہندوستانیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔

ان کے عدم تشدد کا سبق آج بھی پوری دنیا میں احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔

گاندھی کی 150 ویں سالگرہ کے موقع پر جانتے ہیں کہ عدم تشدد اور امن کا یہ پجاری جو خود ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور نوجوانی میں ایک باغی ذہن کا مالک تھا وہ ہندوستان کے غریبوں کا نمائندہ کیسے بنا۔

1869: ایک امیر گھرانے میں پیدائش

موہن داس کرمچند گاندھی 2 اکتوبر سنہ 1869 کو شمال مغربی ہندوستان کی ریاست پوربندر میں پیدا ہوئے۔

ان کا خاندان ایک مالدار گھرانہ تھا۔ گاندھی کے والد کرم چند اتم چند گاندھی پوربندر کے راجہ کے دیوان اور ریاست کی ایک مشہور شخصیت تھے۔

مون داس کی والدہ ایک مذہبی خاتون تھیں جو اکثر پوجا پاٹھ کے لیے مندر جاتیں اور اپواس (ایک قسم کا روزہ) رکھتی تھیں۔

ماں نے موہن کو ہندو روایات اور اخلاقیات کا سبق پڑھایا اور انھوں نے ہی انھیں عدم تشدد کی تعلیم دی۔

انھوں نے گاندھی کو ہمیشہ سبزی خور رہنے کی ہدایت کی۔ والدہ سے نوجوان موہن کو مذہبی رواداری، سادہ زندگی اور عدم تشدد کی تعلیم بھی ملی۔

Gandhi as a seven-year-old boy in Porbandar, India

موہن داس کرمچند گاندھی 2 اکتوبر سنہ 1869 کو شمال مغربی ہندوستان کی ریاست پوربندر میں پیدا ہوئے

1883: ایک باغی نوجوان

گاندھی ابھی ’مہاتما‘ بننے سے بہت دور تھے

اچھی تعلیم و تربیت کے ارادے سے موہن داس کے والد اپنے کنبے کو پوربندر سے راجکوٹ لے آئے جہاں اچھی تعلیم کا انتظام تھا اور موہن داس کو انگریزی تعلیم دی گئی۔

موہن داس گاندھی کی شادی 13 سال کی عمر میں کستوربا سے کر دی گئی جو راجکوٹ کی رہائشی تھیں اور شادی کے وقت ان سے ایک سال بڑی یعنی 14 سال کی تھیں۔

موہن داس اس وقت باغیانہ ذہنیت کے حامل تھے۔ خاندان کی روایت کے برخلاف انھوں نے شراب نوشی اور گوشت خوری جیسی ’ممنوعہ‘ چیزیں کیں۔

تاہم اس عمر میں بھی ان میں اپنے آپ کو بہتر بنانے کی خواہش تھی۔ ہر اس کام کے بعد جو ان کی نظر میں گناہ تھا وہ کفارہ کرتے تھے۔ انھوں نے اپنی کتاب 'سچائی کا پریوگ' یعنی سچائی کے تجربات میں اسے تفصیل سے بیان کیا ہے۔

جب ان کے والد بستر مرگ پر تھے تو موہن داس انھیں چھوڑ کر اپنی بیوی کے پاس چلے گئے اور اسی وقت ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد گاندھی کو اپنے طرز عمل پر بہت افسوس ہوا۔

اپنے والد کی موت کے وقت ان کے قریب نہیں ہونے کے متعلق گاندھی نے کہا تھا: 'میں بہت شرمندہ تھا اور خود کو بدقسمت سمجھتا تھا۔ میں اپنے والد کے کمرے کی طرف بھاگا۔ جب میں نے انھیں دیکھا تو سوچا کہ اگر مجھ پر جنسی ہوس حاوی نہ ہوتی تو وہ میرے بازوؤں میں دم توڑتے۔'

پہلے بچے کی پیدائش کے کچھ ہی دنوں بعد اس کی موت کو گاندھی اپنے گناہوں کی سزا سمجھتے تھے۔

Mahatma Gandhi posing next to his wife Kasturba. India, 1915

گاندھی اپنی اہلیہ کستوربا کے ہمراہ، سنہ 1915

1888: لندن میں قانون کی تعلیم

موہن داس گاندھی بمبئی کے بھاؤ نگر کالج میں زیر تعلیم تھے لیکن وہ وہاں خوش نہیں تھے۔ اسی زمانے میں انھیں مشہور انٹرٹیمپل میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے لندن جانے کی پیش کش ہوئی۔

اہل خانہ کے عمائدین نے موہن داس کو سمجھایا کہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانے پر انھیں برادری سے خارج کردیا جائے گا۔ لیکن بزرگوں کے اعتراض کو نظر انداز کرتے ہوئے گاندھی تعلیم کے حصول کےلیے لندن چلے گئے۔

لندن میں گاندھی مکمل طور پر مغربی رنگوں میں رنگ گئے تھے۔ تاہم اس وقت لندن میں جاری سبزی خور تحریک میں انھیں اپنے لیے بھائی چارہ نظر آیا تو وہ اس میں شامل ہوگئے۔

اس کے ساتھ لندن کی تھیوسوفیکل سوسائٹی سے انھیں اپنے بچپن کی ہندو عقائد کی جانب لوٹنے کی ترغیب ملی جو انھیں ان کی والدہ نے سکھائی تھیں۔ سبزی خوری، شراب سے توبہ اور جنسی تعلقات سے دوری کے بعد ایک بار پھر وہ اپنی جڑوں کی طرف لوٹنے لگے۔

تھیوسوفیکل سوسائٹی کے اثرات کے تحت انھیں اپنے عالمگیر اخوت کے نظریے کی تشکیل میں مدد ملی جس میں تمام انسانوں اور مذاہب کی پیروی کرنے والوں کو مساوی حیثیت دینا ان کا خواب تھا۔

گاندھی

1893: ہندوستان میں وکالت میں ناکامی، جنوبی افریقہ روانگی

قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد موہن داس گاندھی ہندوستان واپس آئے اور وکالت شروع کر دی۔ وہ اپنا پہلا کیس ہار گئے۔ اس دوران انھیں ایک انگریزی افسر کے گھر سے باہر نکال دیا گیا۔

اس واقعے سے بہت ذلت محسوس کرنے والے گاندھی کو جنوبی افریقہ میں کام کرنے کی پیش کش ہوئی جسے انھوں نے فوراً قبول کرلیا۔

جنوبی افریقہ میں جب وہ ٹرین کے فرسٹ کلاس کمپارٹمنٹ میں سفر کررہے تھے تو گاندھی کو ایک انگریز نے ان کے سامان کے ساتھ ڈبے سے باہر پھنکوا دیا۔

جنوبی افریقہ میں مقیم ہندوستانیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف انھوں نے انڈین کانگریس قائم کی اور نٹال میں ہندوستانیوں کو معاشرے سے علیحدہ رکھنے کے خلاف جدوجہد شروع کر دی۔

جنوبی افریقہ میں ہندوستانیوں کے حقوق کی اس جدوجہد کے دوران ہی گاندھی نے تزکیہ ذات اور ستیہ گرہ جیسے اصولوں کے ساتھ تجربہ کرنا شروع کیا تھا جو ان کے عدم تشدد کے وسیع تر خیال کا حصہ تھے۔

اسی دوران گاندھی نے برہم چاریہ یعنی پاک صاف اور جنسی عمل سے دور رہنے کا عہد کیا اور سفید دھوتی پہننا شروع کی جسے ہندو روایت میں غم کا لباس کہا جاتا ہے۔

Indian lawyer, activist and statesman Mohandas Karamchand Gandhi recuperating after being severely beaten in South Africa, 18th February 1908.

1914: نسلی امتیاز کے خلاف محاذ آرائی

سنہ 1913 میں گاندھی نے جنوبی افریقہ میں مقیم ہندوستانیوں پر عائد تین پاؤنڈ ٹیکس کے خلاف تحریک شروع کی۔

اس تحریک کے دوران پہلی بار گاندھی نے جنوبی افریقہ میں کام کرنے والے ہندوستانی مزدوروں، کان کنوں اور زرعی مزدوروں کو متحد کیا اور ان کے رہنما بن گئے۔

گذشتہ کئی سالوں کی اپنی جدوجہد کی مدد سے گاندھی نے 2221 افراد کے ساتھ نٹال سے ٹرانسوال تک احتجاجی مارچ کا فیصلہ کیا۔

اسے انھوں آخری سول نافرمانی کا نام دیا۔ اس سفر کے دوران گاندھی کو گرفتار کر لیا گیا اور انھیں نو ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

تاہم ان کی شروع کردہ ہڑتال اور پھیل گئی۔ جس کے بعد جنوبی افریقہ کی برطانوی حکومت کو ہندوستانیوں پر عائد ٹیکس واپس لینا پڑا اور گاندھی کو جیل سے رہا کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

جنوبی افریقہ میں برطانوی حکومت کے خلاف گاندھی کی اس فتح کی انگلینڈ کے اخبارات نے زبردست تشہیر کی۔ اس کامیابی کے بعد گاندھی بین الاقوامی سطح پر مشہور ہوئے۔

گاندھی

1915: ہندوستان واپسی

جنوبی افریقہ میں اپنی تحریک کی کامیابی کے بعد گاندھی ایک فاتح کے طور پر وطن واپس آئے۔ ہندوستان آنے کے بعد گاندھی اور کستوربا نے فیصلہ کیا کہ وہ ریل کے تیسرے درجے میں پورے ہندوستان کا سفر کریں گے۔

ہندوستان کے اس دورے کے دوران گاندھی کو شدید صدمہ اس وقت پہنچا جب انھوں نے اپنے ملک کی غربت اور آبادی کو دیکھا۔ اس دوران گاندھی نے برطانوی حکومت کے نئے جابرانہ قانون رولٹ ایکٹ کی مخالفت کا اعلان کیا۔

اس قانون کے تحت حکومت کو یہ طاقت حاصل تھی کہ وہ کسی بھی شہری کو شدت پسندی کے شبہے میں گرفتار اور قید کرسکتی ہے۔

گاندھی کے کہنے پر ملک گیر سطح پر ہزاروں افراد اس قانون کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ تمام شہروں میں احتجاج کیا گیا۔

لیکن اس دوران متعدد مقامات پر پرتشدد واقعات رونما ہوئے۔ امرتسر میں جنرل ڈائر نے 20 ہزار افراد کے ہجوم پر فائرنگ کر دی جس میں 400 سے زیادہ افراد ہلاک اور 1300 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے۔

اس قتل عام کے بعد گاندھی کو یقین ہوگیا کہ انھیں ہندوستان کی آزادی کی تحریک کا آغاز کرنا چاہیے۔

گاندھی

1921: ہندوستان کی خود مختاری کی جدوجہد

گاندھی اب اپنی روز افزوں مقبولیت کی وجہ سے انڈین نیشنل کانگریس کا نمایاں چہرہ بن گئے۔ وہ برطانیہ سے ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے رہنما بھی بنے۔

جدوجہد کے لیے مہاتما گاندھی نے انڈین نیشنل کانگریس کو عوام میں ایک مقبول پارٹی بنا دیا۔ اس سے پہلے کانگریس امیر ہندوستانیوں کا ایک گروہ ہوا کرتی تھی۔

گاندھی نے مذہبی رواداری اور تمام مذاہب کی آزادی کی بنیاد پر ہندوستان کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ گاندھی کی عدم تشدد کی تحریک کی اپیل پر ہندوستانی معاشرے کے تمام تر طبقات اور مذاہب کی حمایت ملنا شروع ہوگئی۔

انھوں نے برطانوی حکومت کے خلاف عدم تعاون کی تحریک کا آغاز کیا۔ گاندھی کی اپیل پر ہندوستان کے لوگوں نے برطانوی سامان کا بائیکاٹ کرنا شروع کردیا۔

اس کے جواب میں برطانوی حکومت نے گاندھی کو غداری کے الزام میں گرفتار کیا اور انھیں دو سال تک جیل میں رکھا گیا۔

جب ایک اخبار نے گاندھی پر ڈھکوسلے کا الزام لگایا تو انھوں نے کہا: 'میں ہندوستان کا دیسی لباس پہنتا ہوں کیونکہ یہ ہندوستانی ہونے کا سب سے آسان اور فطری طریقہ ہے۔'

گاندھی

1930: آزادی کے لیے نمک مارچ

گاندھی کی تحریک اور ان کے مطالبات کو نظرانداز کرنا اب برطانوی حکومت کے لیے مشکل ہو چکا تھا۔ لہذا برطانوی حکومت نے ہندوستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں بات چیت کے لیے لندن میں ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا۔

تاہم انگریزوں نے تمام ہندوستانیوں کو اس بحث سے دور رکھا

اس سے گاندھی بہت ناراض ہوئے اور انھوں نے نمک قانون کے خلاف مہم کا آغاز کیا۔ اس وقت برطانوی قانون کے مطابق ہندوستانی شہری نہ تو نمک جمع کرسکتے تھے اور نہ ہی اسے بیچ سکتے تھے۔

اسی سبب ہندوستانیوں کو انگریزوں سے اونچی قیمتوں پر نمک خریدنا پڑتا تھا۔ گاندھی نے ہزاروں لوگوں کے مجمعے کے ساتھ ڈانڈی یاترا (ریلی) نکالی اور برطانوی حکمرانی کے خلاف علامتی احتجاج کے طور پر نمک بنا کر قانون توڑا۔ اسی جرم میں انگریزوں نے انھیں گرفتار کرلیا۔

گاندھی کی تحریک وسیع پیمانے پر پھیل گئی۔ ہزاروں لوگوں نے برطانوی حکومت کو ٹیکس اور محصول دینے سے انکار کردیا۔ آخر کار برطانوی حکومت کو سر جھکانا پڑا۔ اس کے بعد گاندھی گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن روانہ ہوگئے۔

نمک ستیہ گرہ کے بعد ایک مٹھی نمک بنانے کے بعد گاندھی نے کہا: 'اس ایک مٹھی نمک سے میں برطانوی سلطنت کی جڑیں ہلا رہا ہوں۔'

Mahatma Gandhi leaves the Friends' Meeting House, Euston Road, after attending the Round Table Conference on Indian constitutional reform.

ہندوستان کے مستقبل پر لندن میں منعقدہ گول میز کانفرنس میں گاندھی شریک ہوئے

1931: گول میز کانفرنس

گاندھی لندن میں منعقدہ گول میز کانفرنس میں شرکت کرنے والے انڈین نیشنل کانگریس کے واحد نمائندے تھے۔

اس کانفرنس میں انھوں نے ہندوستان کی ایک طاقتور تصویر پیش کی لیکن گول میز کانفرنس گاندھی کے لیے ناکام رہی۔

سلطنت برطانیہ ہندوستان کو آزاد کرنے پر راضی نہیں تھا۔ اس کے علاوہ مسلمان، سکھ اور دوسرے ہندوستانی نمائندے گاندھی کے ساتھ نہیں تھے کیونکہ ان کا یہ خیال تھا کہ گاندھی تمام ہندوستانیوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔

اگرچہ گاندھی کو برطانوی بادشاہ جارج پنجم سے ملنے کا موقع ملا لیکن انھوں نے اس کے ساتھ ہی لنکاشائر میں عام کارکنوں سے بھی ملاقات کی۔

ان عوامی جلسوں سے گاندھی کو کافی شہرت ملی۔ اس کے ساتھ ہی انڈیا کی قوم پرستانہ مطالبے کے تعلق سے انھیں برطانوی عوام کی ہمدردی بھی حاصل ہوئی۔

گاندھی کے برطانیہ کے دورے کے بارے میں طاقتور برطانوی سیاست دان ونسٹن چرچل نے کہا تھا: 'یہ بہت ہی خوفناک اور قابل نفرت ہے کہ مسٹر گاندھی جو غدار اور ایک معمولی وکیل ہیں اب وہ ایک فقیر کی طرح اپنی نمائش کر رہے ہیں۔‘

1942: 'ہندوستان چھوڑو' تحریک

گول میز کانفرنس میں اپنی ناکامی کے بعد گاندھی نے انڈین نیشنل کانگریس کے صدر کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

جب چرچل نے ہندوستان سے نازیوں کے خلاف جنگ میں برطانیہ کی حمایت کرنے کو کہا تو گاندھی نے یہ اصرار کیا کہ ہندوستان کو نازیوں کے خلاف جنگ میں برطانیہ کی حمایت اس وقت تک نہیں کرنی چاہیے جب تک کہ وہ اپنے ہی گھروں میں غلام ہیں۔

اب گاندھی نے حکومت برطانیہ کے خلاف ایک نئی غیر متشدد 'ہندوستان چھوڑ دو' تحریک شروع کی۔

Indian statesman Mahatma Gandhi (Mohandas Karamchand Gandhi, 1969 - 1948) fasts in protest against British rule after his release from prison in Poona, India

اس تحریک کے آغاز میں گاندھی اور ان کی اہلیہ کستوربا کو جیل بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد گاندھی کو جیل سے رہا کرنے کے مطالبے پر پورے ملک میں پرتشدد تحریکیں شروع ہو گئیں۔

برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل اس معاملے پر جھکنے کو تیار نہیں تھے۔ گاندھی کی اہلیہ کستوربا گاندھی جیل میں ہی دم توڑ گئیں اور کئی مہینوں کے بعد گاندھی کو 1944 میں رہائی ملی۔

'ہندوستان چھوڑ دو' تحریک سے پہلے گاندھی نے کہا تھا: 'یا تو ہمیں ہندوستان کو آزاد کرانا چاہیے یا اس کوشش میں خود کو قربان کر دینا چاہیے لیکن ہم کسی بھی قیمت پر تاعمر غلامی کی زندگی گزارنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔'

1947: ہندوستان کی آزادی

ہندوستانیوں میں آزادی کا مطالبہ روز بروز تیز تر ہوتا جا رہا تھا۔ بالآخر برطانوی حکومت ہندوستان کی آزادی کے لیے بات چیت شروع کرنے پر مجبور ہو گئی۔

لیکن اس کا وہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا جس کے لیے گاندھی اتنے دنوں سے جدوجہد کر رہے تھے۔ ماؤنٹ بیٹن پلان کے تحت ہندوستان کو تقسیم کر کے دو آزاد ممالک یعنی ہندوستان اور پاکستان بنا دیا گیا۔

یہ تقسیم مذہبی بنیادوں پر ہوئی۔ اس وقت جب دارالحکومت دہلی میں قوم آزادی کا جشن منا رہی تھی مگر گاندھی کا متحدہ ملک کا خواب بکھر چکا تھا۔

تقسیم کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری ہوئی۔ قریب ایک کروڑ لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔ مایوس گاندھی دہلی چھوڑ کر کلکتے روانہ ہو گئے تاکہ تشدد کی روک تھام کی جائے اور وہاں امن قائم ہو سکے۔

گاندھی

1948: ’مہاتما‘ کا قتل

ملک کی تقسیم کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تشدد ہوا۔ گاندھی کلکتے سے دہلی لوٹ آئے تاکہ وہاں مقیم مسلمانوں کی حفاظت کر سکیں جنھوں نے پاکستان جانے کے بجائے ہندوستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔

گاندھی نے ان مسلمانوں کے حقوق کے لیے بھوک ہڑتال کر دی۔

ایک دن جب وہ دہلی کے برلا ہاؤس میں ایک دعائیہ تقریب کے لیے جا رہے تھے تو ان پر ایک ہندو بنیاد پرست نے حملہ کردیا۔ گاندھی کے سینے میں تین گولیاں لگیں۔

سخت گیر ہندو حلقوں میں گاندھی کی موت پر جشن منایا گیا لیکن زیادہ تر ہندوستانیوں کے لیے مہاتما گاندھی کا قتل قومی صدمہ تھا۔ دہلی میں جب گاندھی کی آخری رسومات کا وقت آیا تو انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے دس لاکھ افراد کی بھیڑ امڈ آئی۔

دہلی میں بہنے والے دریا جمنا کے کنارے ان کی آخری رسومات ادا کی گئی اور عدم تشدد اور امن کے اس پجاری کی موت پر پوری دنیا کے لوگوں نے سوگ منایا۔

گاندھی اپنی زندگی میں ایک متحدہ ہندوستان کے خواب کو پورا ہوتے نہیں دیکھ سکے۔

مہاتما گاندھی نے موت کے بارے میں کہا تھا: 'موت کے درمیان زندگی اپنی جدوجہد جاری رکھتی ہے۔ جھوٹ کے بیچ سچائی بھی مستحکم کھڑی رہتی ہے۔ چاروں جانب اندھیرے میں روشنی چمکتی رہتی ہے۔

Mahatma Ghandi enjoys a laugh with his two granddaughters Ava and Manu at Birla House in New Delhi.

۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *