’کہیں نہیں لکھا کہ عمر قید کا مطلب 25 سال ہے‘

سریم کورٹ پاکستان میں عمر قید کی مدت کے تعین کا معاملہ: ’کہیں نہیں لکھا کہ عمر قید کا مطلب 25 سال ہے‘

پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے عمر قید کی مدت کے تعین سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ جیل حکام کو قیدیوں سے متعلق بنائے گئے قوانین کو ریگولیٹ کرتے ہوئے ضابطہ فوجداری اور تعزیراتِ پاکستان میں ترامیم کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ضابطہِ فوجداری یا تعزیراتِ پاکستان میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ عمر قید کا مطلب 25 سال ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ایسا مجرم جس کو عدالتوں نے عمر قید کی سزا سنائی ہو اور وہ 15 سال جیل میں گزار چکا ہو تو جیل حکام کو یہ حق تو حاصل ہے کہ وہ حکومت وقت کو اس کے بارے میں خط لکھ سکتے ہیں کہ اس کی باقی سزا کو معاف کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے لیکن جیل حکام کو یہ اختیار نہیں کہ وہ عدالتوں کی طرف سے دی گئی سزا کے مکمل ہونے کا تعین خود کریں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7 رکنی بینچ نے عمر قید کے تعین سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ چاروں صوبوں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ جنرل نے اس ضمن میں اپنی سفارشات سپریم کورٹ میں جمع کروائیں۔

پاکستان

ایک درخواست گزار کے وکیل ذوالفقار ملوکا نے کہا کہ ان کے موکل کو 18 سال قبل ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی تاہم اس مقدمے میں نظرثانی کی اپیل دائر نہیں کی گئی۔ جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ تو عمر قید کے تعین سے متعلق قانونی نکات کو زیر بحث لانے کے بعد اس بارے میں کوئی فیصلہ دینا چاہتی تھی لیکن اب پہلے اس معاملے کو دیکھنا ہوگا کیونکہ نظرثانی کی اپیل دائر کرنا مجرم کا حق ہے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت کسی فریق کی خواہش پر عمر قید کی سزا کے تعین کے معاملے کا از سر نو جائزہ نہیں لے رہی بلکہ عدالت خود ایسا سمجھتی ہے کہ معاملہ توجہ طلب ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اگر کسی مجرم نے اپنی سزا کے خلاف تمام آپشن استعمال کر لیے ہیں تو پھر عدالت کس قانون کے تحت اس معاملے کا ازسر نو جائزہ لے سکتی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو بھی دیکھنا ہو گا کہ کسی بھی مجرم کو ملنے والی سزاوں پر عمل درآمد ایک ہی وقت میں شروع ہوگا یا ایک سزا ختم ہونے کے بعد ہو گا۔ پاکستان میں اس وقت جو قانون موجود ہے اس کے مطابق اگر کسی مجرم کو کسی مقدمے میں ایک سے زیادہ سزائیں دی گئی ہیں تو اس سزا پر عمل درآمد ایک ہی وقت شروع ہو گا۔

phkathn

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میں یہ معاملہ حل کیا گیا تھا کہ کسی بھی مجرم کی سزا اس وقت سے شروع ہو گی جب سے اسے گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے تحریر کیا تھا اور ان درخواستوں کی سماعت پانچ رکنی بینچ نے کی تھی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے تو دو ہفتوں کے لیے اس بینچ میں شامل معزز 6 جج صاحبان کو روک کر رکھا تھا تاکہ عمر قید کے معاملے کو نمٹایا جا سکے۔

چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے تو اس معاملے پر بڑی تیاری کی تھی اور وہ رات 3 بجے سوئے ہیں اور گذشتہ شب اُنھوں نے عمر قید کے تعین چھ ملکوں کی عدالتوں کے فیصلے پڑھے تھے اور ان ممالک میں امریکہ، برطانیہ، انڈیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔

چیف جسٹس نے جب یہ کہا کہ وہ اس درخواست کی تیاری کے لیے رات بھر جاگے ہیں تو یہ سن کر تمام صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل اور دیگر وکلا اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ مائی لارڈ اُنھوں نے بھی ان درخواستوں کی سماعت کے لیے بہت تیاری کر رکھی ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے اُنھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا ’اپنی توانائیاں محفوظ رکھیں ابھی بڑا وقت پڑا ہے‘، جس پر کمرہ عدالت میں ایک قہقہہ بلند ہوا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *