برطانیہ نے معاہدے کی ممکنہ ناکامی پر اپنا ہی بریگزٹ منصوبہ پیش کردیا

برطانیہ کے وزیرا عظم بورس جانسن نے آئرلینڈ سرحد کو کھولے رکھنے سے متعلق اپنا ہی بریگزٹ منصوبہ پیش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ متبادل راستہ صرف یہ ہی ہے کہ معاہدے کے بغیر یورپی یونین سے 31 اکتوبر تک علیحدہ ہوجائیں گے۔

بورس جانسن نے یورپی کمیشن کے صدر جِین کلاژ جنکر کو مراسلہ میں کہا کہ لندن کی جانب سے پیش کردہ تجویز ’معقول سمجھوتہ‘ تھا۔

واضح رہے کہ بورس جانسن نے بریگزٹ معاہدہ کی ڈیڈ لائن سے تقریباً 29 روز قبل اپنی ’حتمی‘ آفر پیش کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے وزیر اعظم نے مراسلے میں واضح کیا کہ یورپی یونین کا منصوبہ ’ایسا پل تھا جس کی کوئی منزل‘ نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’ایک نیا راستہ تلاش کرلیا گیا‘۔

بعدازاں جِین کلاژ جنکر نے بذریعہ فون بورس جانسن کو خبردار کیا کہ ’برطانیہ کی نئی تجویز میں ’چند پریشان کن نکات‘ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود یورپی یونین ’معروضیت کے ساتھ قانونی تجویز کا جائزہ‘ لے گی۔

آئرلینڈ کے وزیر اعظم لیو ورڈاکر نے ایک ہی رات میں نمودار ہونے والی تجویز پر ’سمجھوتے سے انکار‘ کردیا۔

واضح رہے کہ بورس جانسن نے آئرلینڈ کی سرحد پر کسٹم پوسٹ قائم کرنے کے تاثر کو مسترد کردیا تھا۔

خیال رہے کہ برطانیہ کو 30 اکتوبر تک یورپی یونین سے علیحدہ ہونا ہے اور برطانوی وزیراعظم مزید تاخیر سے بچنے کے لیے اسی ڈیڈلائن کے اندر ہی معاہدے کو حتمی شکل دینا چاہتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بورس جانسن بریگزٹ کے بعد یورپی کسٹم قوانین کو اسی طرح برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ برطانوی شمالی آئرلینڈ اور یورپی یونین کے رکن آئرلینڈ کے درمیان مصنوعات کی روانی اسی طرح جاری رہے۔

آئرلینڈ کے نشریاتی ادارے 'آر ٹی ای' نے رپورٹ دی تھی کہ برطانیہ نے سرحد کے دونوں جانب کسٹمز کلیئرنس پوسٹ قائم کرنے کی تجویز دی تھی، لیکن یہ مقامات اصل سرحدی مقام سے 8 کلومیٹر سے 16 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھے۔

آئرلینڈ نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماضی کے سرحدی انفراسٹرکچر کی واپسی نہیں ہوسکتی اور اس طرح کی کوشش سے شمالی آئرلینڈ میں امن عمل متاثر ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ بورس جانسن اگر کوئی منصوبہ بنالیتے ہیں تو انہیں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ہوگا جہاں انہیں اکثریت حاصل نہیں اس لیے انہیں ایک مرتبہ پھر مشکلات کا سامنا ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *