ملیحہ لودھی: اُدھر ڈوبے‘ اِدھر نکلے

وزیر اعظم عمران خان کی نیو یارک سے واپسی کے ساتھ ہی اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کی سبک دوشی کی خبر نے سیاسی و صحافتی حلقوں کو تبصروں، تجزیوں (اور قیاس آرائیوں) کا وافر سامان مہیا کر دیا تھا۔ کسی نے طنز کی، وزیر اعظم صاحب دنیا فتح کر کے آئے ہیں تو ملیحہ لودھی کی چھٹی کیوں؟ 
برسوں سے واشنگٹن میں مقیم، انگریزی صحافت میں دبنگ رپورٹنگ کی شہرت رکھنے والے، پاکستانی اخبار نویس کے ٹویٹ سے تاثر ملا کہ موصوفہ کی سبکدوشی، ان کی ''تنک مزاجی‘‘ کا نتیجہ تھی۔ جبکہ خود ملیحہ لودھی کا (اپنے ٹویٹس میں) کہنا تھا کہ انہیں اس منصب پر چار سال سے زائد ہو چکے تھے، وہ خود ریٹائرمنٹ چاہتی تھیں‘ اور اس کے لیے وزیر اعظم صاحب کا دورہ نیو یارک ختم ہونے کی منتظر تھیں۔
مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کے ہفتہ وار فکری فورم میں اس بار معروف دفاعی (اور سفارتی) تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) فاروق حمید مہمانِ خصوصی تھے۔ ''مسئلہ کشمیر، جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے بعد‘‘ ان کا موضوع تھا۔ ان کے سیر حاصل خطاب کے بعد سوال، جواب کا سلسلہ شروع ہوا، تو ایک سوال وزیر اعظم کے دورے کے ساتھ ہی ملیحہ لودھی کی سبکدوشی کے حوالے سے بھی تھا۔ بریگیڈیئر فاروق حمید کو واشنگٹن کے پاکستانی سفارت خانے میں ایمبیسیڈر ملیحہ لودھی کے ساتھ کچھ عرصہ بطور اسسٹنٹ ڈیفنس اتاشی کام کرنے کا موقع بھی ملا (تب وہ ینگ لیفٹیننٹ کرنل تھے) لیکن ملیحہ لودھی سے ان کی شناسائی بہت پہلے سے تھی، اس وقت سے جب وہ اسلام آباد کے ایک انگریزی اخبار کے دفتر میں ایک چھوٹے سے کیبن میں بیٹھا کرتی تھیں اور میجر فاروق حمید اپنا آرٹیکل چھپوانے کے لیے ان کے دفتر جایا کرتے تھے۔ میڈیا میں آرمی کے پیشہ ورانہ کردار اور کارکردگی کی بھرپور کوریج آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کی پالیسی تھی۔ اس کے لیے وہ فوجی افسران کو اخبارات میں لکھنے کے لیے کہتے (''ضربِ مومن‘‘ کی کوریج کے لیے تو انہوں نے اخبار نویسوں کی باقاعدہ رجمنٹ بنائی تھی) اس کے لیے طریقِ کار یہ تھا کہ افسران اپنا آرٹیکل لے کر آئی ایس پی آر جاتے۔ یہاں سے یہ ایم آئی کے دفتر جاتا، وہاں سے منظوری کے بعد، آئی ایس پی آر اپنے خط کے ساتھ اسے ''مصنف‘‘ کو واپس کر دیتا۔ اسے چھپوانا لکھنے والے کی اپنی ذمہ داری ہوتی (فاروق حمید کو بچپن سے لکھنے لکھانے کا شوق تھا، سکول کے زمانے میں ہی ان کے ''لیٹر ٹو ایڈیٹر‘‘ پاکستان ٹائمز میں چھپنے لگے تھے)
فاروق حمید بتا رہے تھے، ملیحہ لودھی ان کے آرٹیکلز کی تعریف کے ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کرتیں۔ یہ سوویت یونین کے ساتھ، افغان مسئلے پر جنیوا مذاکرات کا دور تھا۔ ملیحہ لودھی اسلام آباد کی انگریزی صحافت میں ایک ''رائزنگ سٹار‘‘ کے طور پر پہچان بنا رہی تھیں، سمارٹ لیڈی، جو بہت اچھا لکھتی، بہت اچھا بولتی۔ بریگیڈیئر فاروق حمید کے بقول، ''اقتدار کے ایوانوں‘‘ میں ایسے با صلاحیت لوگوں کی ضرورت (اور خاص قدر و منزلت) ہوتی ہے۔ ایک دن افسرانِ بالا نے فاروق حمید سے کہا، تمہارے پاس نجانے کون سی گیدڑ سنگھی ہے کہ تمارا ہر آرٹیکل چھپ جاتا ہے اور اس کے ساتھ اس خواہش کا اظہار کہ اپنی ایڈیٹر کو ہماری طرف سے چائے کی دعوت پر بلائو۔
فاروق حمید نے وہیں سے فون کال کی۔ ملیحہ اس دعوت کو اپنے لیے بہت بڑا اعزاز قرار دے رہی تھیں۔ لیکن آخری وقت پر کسی ناگزیر مصروفیت کے باعث، چائے کا پروگرام ملتوی ہو گیا۔ ملیحہ لودھی کو اس کی اطلاع دیتے ہوئے میجر فاروق حمید کو خاصی خجالت کا سامنا تھا۔
فاروق حمید نئی ڈیوٹی پر نکل گئے۔ ملیحہ لودھی اپنے صحافتی پروفیشن میں ترقی کے زینے طے کرتی چلی گئیں۔ اس دوران وہ ایک ملٹری سٹریٹیجسٹ اور پولیٹیکل سائنٹسٹ کے طور پر بھی خود کو منوا چکی تھیں۔
بے نظیر صاحبہ کی (خود ساختہ) جلا وطنی کے دنوں میں ملیحہ بھی لندن سکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن کے بعد وہیں مقیم تھیں۔ اسی دوران بے نظیر صاحبہ سے ان کی دوستی ہوئی۔ 1986 میں بے نظیر صاحبہ کی وطن واپسی پر ملیحہ بھی ان کے ساتھ تھیں۔
بے نظیر صاحبہ کی دوسری وزارتِ عظمیٰ میں، ملیحہ لودھی دنیا کے اہم ترین دارالحکومت (واشنگٹن) میں پاکستان کی سفیر تھیں، جب کرنل فاروق حمید نے اکتوبر 96 میں اسسٹنٹ ڈیفنس اتاشی کے طور پر جوائن کیا۔ ملیحہ لودھی کو انہیں پہچاننے میں دیر نہ لگی۔ نومبر میں صدر لغاری کے ہاتھوں بے نظیر صاحبہ کی برطرفی کے بعد بھی، ملیحہ لودھی سفیر رہیں۔ فروری 97 (نواز شریف کی دوسری حکومت) میں ملیحہ لودھی کی جگہ ریاض کھوکھر آ گئے۔
فاروق حمید کے بقول، ملیحہ لودھی واشنگٹن کے سفارتی حلقوں میں بہت پاپولر تھیں، ان کی ڈپلومیسی کا سٹائل متاثر کن تھا۔ پاکستانیوں کو بھی اپنے مسائل کے حوالے سے، ان سے رابطے میں کوئی دقت نہ ہوتی۔
12 اکتوبر (1999) کے بعد پاکستان میں مشرف راج تھا۔ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات (اور معاملات) پاکستانی حکمرانوں کے لیے ہمیشہ بہت اہم رہے ہیں، اس کے لیے نظرِ انتخاب، ایک بار پھر ملیحہ لودھی پر گئی اور وہ دسمبر میں دوبارہ سفیرِ پاکستان بن کر واشنگٹن پہنچ گئیں۔ کوریڈورزآف پاور میں ان کی خاص اہمیت تھی، زرداری صاحب کے دور میں وہ برطانیہ میں پاکستان کی ہائی کمشنر بن گئیں۔ پھر میاں صاحب (تیسری بار ) آ گئے تو وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب کے طور پر نیو یارک پہنچ گئیں۔ اس دوران میاں صاحب سے منسوب یہ فقرہ بھی سننے میں آیا، میں کیا کرتا، وہ میرے دفتر کے باہر آ کر بیٹھ رہتی تھیں۔ ملیحہ لودھی ایک بار پھر فارغ ہیں، لیکن بریگیڈیئر فاروق حمید کے بقول زیادہ دیر فارغ نہیں رہیں گی، با خبروں میں یہ بات عام ہے کہ اسلام آباد میں کوئی اور اہم ذمہ داری ان کی منتظر ہے۔
ہم یہاں اپنا ذاتی تجربہ بھی شیئر کرتے چلیں۔ ہم فروری، مارچ 1994 میں (مظفر محمد علی مرحوم کے ساتھ) امریکہ کے سٹڈی ٹور پر تھے، ملیحہ لودھی بھی انہی دنوں واشنگٹن پہنچی تھیں (اور اپنے کاغذاتِ سفارت پیش کرنے کے لیے، وائٹ ہائوس سے کال کی منتظر تھیں)
امریکی کانگریس سے صدر (کلنٹن) کے سالانہ خطاب کے موقع پر ملیحہ لودھی سے علیک سلیک ہوئی تو انہوں نے پاکستانی صحافیوں کی واشنگٹن میں موجودگی پر اظہارِ مسرت کرتے ہوئے، شام کی چائے پر اپنے ہاں (ایمبیسیڈر ہائوس) میں بلا لیا۔ ہوٹل کے استقبالیے پر ایمبیسی کا ڈرائیور ہمارا منتظر تھا۔ چائے پر ایک خاص بات جو ہم نے نوٹ کی وہ ملیحہ لودھی کی چین سموکنگ اور کافی کے ساتھ خاص رغبت تھی۔ انہوں نے اپنے ''لائق کسی خدمت‘‘ کا پوچھا تو ہم نے عرض کیا، سعودی ایمبیسی سے عمرے کا ویزہ لگوا دیجئے۔ ہمیں امریکہ پہنچ کر احساس ہوا تھا کہ، ہمارے وزٹ کے دوران ہی رمضان المبارک کا آغاز ہو جائے گا۔ پہلے معلوم ہوتا تو اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے سے عمرے کا ویزا لگوا کر آتے (اور واپسی براستہ سعودی عرب کا انتخاب کرتے) ملیحہ لودھی کا کہنا تھا، تھرڈ کنٹری سے ویزہ ملنا آسان نہیں ہوتا تاہم وہ پوری کوشش کریں گی۔ انہوں نے ہمارے پاسپورٹ رکھ لئے۔ واشنگٹن سے لاس اینجلس تک جن جن ہوٹلوں میں ہماری بکنگ تھی، ان کے نمبر بھی لے لئے اور سفارت خانے کے علاوہ ایمبیسیڈر ہائوس کے نمبر بھی دے دئیے۔ واشنگٹن میں پانچ روز قیام کے بعد ہم اگلی منزلوں کی طرف روانہ ہوئے۔ اس دوران ہر دوسرے، تیسرے روز، پاکستانی سفارت خانہ ہماری خیر، خیریت دریافت کرتا رہا۔ ایک، دو بار سفیر صاحبہ نے خود بھی بات کی۔ ایک شام یہ خوش خبری بھی انہوں نے خود دی تھی کہ عمرے کے ویزے لگ گئے ہیں، ہم اپنے پاسپورٹ نیو یارک کے پاکستانی قونصل خانے سے حاصل کر لیں۔ ہمارے ٹکٹ ''ری روٹ‘‘ کروانے میں، ہمارے یارِ طرح دار اظہر زمان مددگار ہوئے۔ اُن دنوں لاہور میں امریکن سنٹر کے کرتا دھرتا تھے، اِن دنوں واشنگٹن میں ہوتے ہیں۔ حرمین میں کی گئی دعائوں میں ملیحہ لودھی کے لیے دنیوی و اُخروی درجات کی بلندی بھی شامل تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *