اس مشہور زمانہ سین کے پیچھے چھپی کہانی جانتے ہیں؟

مشن امپاسبل فلم سیریز کو دنیا بھر میں کروڑوں افراد پسند کرتے ہیں اور ٹام کروز کا کردار ہی سب کے دل کو بھاتا ہے۔

اس سیریز کی فلمیں رونگٹے کھڑے کردینے والے اسٹنٹس کی وجہ سے بھی شہرت رکھتی ہے اور ان میں سب سے خاص مشن امپاسبل 4 (گھوسٹ پروٹوکول) میں دنیا کی بلند ترین عمارت برج الخلیفہ کو مرکزی کردار کی جانب سے سر کرنا تھا۔

2722 فٹ بلند برج الخلیفہ پر یہ اسٹنٹ تو دنیا بھر میں کروڑوں افراد دیکھ چکے ہیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ اسٹنٹ کمپیوٹر گرافکس کا کمال نہیں بلکہ ٹام کروز نے حقیقت میں کیا تھا؟

جی ہاں واقعی ایسا ہوا تھا اور اس کی شوٹنگ 8 دن میں مکمل ہوئی تھی۔

سطح زمین سے چوتھائی میل کی بلندی پر ٹام کروز نے خود کو 8 دن تک ایک تار سے باندھ کر اس کی شوٹنگ مکمل کی تھی جس کی موٹائی بس ایک پیانو وائر جتنی تھی۔

فلم کے ڈائریکٹر بریڈ برڈ نے نیویارک ڈیلی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا 'شوٹنگ کے ابتدائی دنوں کی ایک رات میں بستر پر یہ احساس کرکے اچھل پڑا تھا کہ ہمارا اسٹار 1700 فٹ بلندی پر ایک پتلی تار کے سہارے لٹکا رہتا ہے، آخر ہم یہ کیا کررہے ہیں، وہ پورا سین رونگٹے کھڑے کردینے والا تھا مگر ہم نے اس کی اچھی منصوبہ بندی کی تھی'۔

اسکرین شاٹ

ٹام کروز نے اس اسٹنٹ کے حوالے سے کہا تھا 'مجھے توقع تھی کہ میں نیچے نہیں گروں گا'۔

اور ایسا ہوا بھی، دنیا بھر میں لوگوں نے اس کا تنیجہ فلم میں دیکھ لیا۔

فلم کے اسٹنٹ کوآرڈینیٹر گریک سمرز نے ایک انٹرویو میں کہا 'ہم پہلے پراگ گئے اور دبئی کے لیے کبھی ریہرسل نہیں کی، لوگوں کا خیال ہے کہ یہ کمپیوٹر جنریٹڈ سین تھا مگر ایسا نہیں، بلکہ ٹام کروز نے خود یہ کیا'۔

ایک اور انٹریو میں انہوں نے کہا 'میرے خیال میں میری عمر میں 10 سال کا اضافہ ہوگیا تھا'۔

کشش ثقل سے ہٹ کر ٹام کروز کے لیے ایک بڑا مسئلہ تیز ہوا اور شدید درجہ حرارت بھی تھا کیونکہ سورج کی تیز روشنی عمارت کے عکس والے آئینوں کی سطح سے گرمی کو مزید بڑھا رہی تھی۔

ویسے ایک گرین اسکرین کا استعمال کرکے برج الخیلفہ کی اتنی بلندی کو سر کرنا تار کے ذریعے جھولنے کے مقابلے میں بہت زیادہ آسان ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *