فیس بک کی دھوکہ منڈی

کالم کا پہلا پیرا میں نے برادر طارق بٹ کی ایک پوسٹ سے لیا ہے، پہلے یہ پڑھ لیں۔

’’فیس بک کی دنیا سے باہر دوست بنانے کی کوشش کررہا ہوں لیکن فیس بک کے طریقہ کار کو میں استعمال کرتے ہوئے آجکل روزانہ نیچے گلی میں جاتا ہوں اور ہر گزرنے والے کو بتاتا ہوں کہ میں نے آج کیا کھایا، رات کیسے گزاری، شام کو کہاں جائوں گا۔

اس وقت کیسا محسوس کررہا ہوں، اس کے بعد کیا کرنے کا ارادہ ہے اور وہ سب کچھ بتاتا ہوں جو کہ تقریباً ہر عام انسان روزانہ کرتا ہے۔

میں لوگوں کو اپنی تصویریں بھی دیتا ہوں، میں لوگوں کی باتیں سن کر I like u ضرور کہتا ہوں اور اس طریقہ کار نے واقعی فیس بک کی طرح کام کیا، اب مجھے چار لوگFollowکررہے ہیں۔ دو پولیس والے، ایک جاسوس اور ایک ماہر ِ نفسیات‘‘

فیس بک پر بڑے بڑے فراڈ ہوتے ہیں چنانچہ میں نے اس کا نام’’دھوکہ منڈی‘‘رکھا ہوا ہے۔ یہاں اپنے تعارف میں کچھ لوگ خود کو آکسفورڈ کا تعلیم یافتہ بتاتے ہیں حالانکہ اپنے قصبے کے ’’کھوتی اسکول‘‘ سے اُنہوں نے پانچ جماعتیں پڑھی ہوتی ہیں،

کئی خود کو فیکٹری اونر بتاتے ہیں حالانکہ اُن کا ’’ذریعہ روزگار‘‘ ایک ریڑھی ہوتی ہے۔ میں یہ لطیفہ پہلے بھی ایک دفعہ لکھ چکا ہوں کہ ایک خاتون کی گاڑی سرخ سگنل پر رکی تو ایک فقیر نے اپنا کشکول آگے بڑھا دیا، خاتون نے فقیر کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا کہ ’’لگتا ہے میں نے تمہیں کہیں دیکھا ہے‘‘۔ وہ بولا ’’میڈم میں آپ کا فیس بک فرینڈ ہوں‘‘

لیکن اس دھوکہ منڈی میں اس سے بھی زیادہ بڑے حادثات ہوتے ہیں، کوئی زہرہ ’’بنا‘‘ ہوتا ہے اور کوئی ’’نیلم‘‘۔ اپنی ٹائم لائن پر اس نے کسی حسین و جمیل لڑکی کی تصویر لگائی ہوتی ہے مگر یہ ’’زہرہ‘‘ اور ’’نیلم‘‘ چھ فٹ قد کا حامل کوئی ’’ڈشکرا‘‘ ہوتا ہے،

مگر اصل صورتحال سے ناواقف لوگ، جو بہت ’’تھڑے‘‘ ہوئے ہوتے ہیں اُس پر ریشہ خطمی ہو جاتے ہیں۔ اِن باکس میں عاشقانہ چیٹنگ ہوتی ہے۔

جو خوش قسمت ہیں ان پر یہ بھید کھل جاتا ہے اور جو’’عشق‘‘ میں اندھے ہو گئے ہوتے ہیں، وہ کسی بہت بڑے فراڈ یا کسی بڑی ذلت سے دوچار ہوتے ہیں۔

تاہم فیس بک ان لوگوں کے لئے نعمت ہے جنہیں ان کے گھر والے بھی لفٹ نہیں کراتے، مگر یہاں ان کی پوسٹس پر سینکڑوں ’’تعریفی جملے اور لائک‘‘ ہوتے ہیں، تاہم اس کے لئے انہیں بھی دوسروں کی پوسٹس پر بڑے بڑے تعریفی جملے لکھنا اور لائک دینا پڑتے ہیں۔

فیس بک خصوصاً ان شاعروں کی جنت ہے جنہیں اردو ادب کے قارئین نے ’’صحیح‘‘ مقام نہیں دیا چنانچہ یہاں یہ شعراء ایک دوسرے کی شاعری کی مدح میں زمین آسمان ایک کردیتے ہیں۔

آپ اگر اس داد کی اصلیت جاننا چاہیں تو کسی بڑے شاعر کی شاعری اس کے نام کے ساتھ لگا کر دیکھیں تو آپ کو ایک بھی لائک یا واہ واہ اس پوسٹ پر نظر نہیں آئے گی۔

یہ داد ’’نویندرا‘‘ یا شادیوں پر دی جانے والی سلامی ہے، جو آگے چل کر آپ کو اس کے بچوں کی کسی شادی میں واپس کرنا پڑتی ہے۔

یہ ’’کاروباری‘‘ معاملات ہیں جو کچھ دے اور کچھ لے کی بنیاد پر استوار نظر آتے ہیں۔ ایک شاعر نے اپنے شاعر دوست سے گلہ کیا کہ تم نے کبھی میری شاعری پر رائے نہیں دی۔

اس بے وقوف کھرے آدمی نے جواب دیا ’’شکر کرو، میں نے رائے نہیں دی‘‘، اس پر اسے ’’ان فرینڈ‘‘ کردیا گیا۔

یہاں ڈبل شاہ کی پیروی کرنا پڑتی ہے ایک سو کی داد دیں اور دوسو کی داد وصول کریں۔فیس بک پر جو شعرائے کرام پائے جاتے ہیں، وہ یہ راز جان چکے ہیں کہ وہ اپنا شعری مجموعہ جسے تحفے کے طور پر پیش کرتا ہے ان میں سے اکثر اسے بک شیلف میں سجا کر رکھ دیتے ہیں،

پڑھنے والے بہت کم ہوتے ہیں چنانچہ وہ اپنے شائع شدہ مجموعے میں سے روزانہ ایک غزل یا نظم اپنی ٹائم لائن پر لگا دیتے ہیں اور وہ باذوق لوگ ضرور پڑھتے ہیں جنہیں شاعر نے کتاب پیش نہیں کی ہوتی اور یوں اس شاعر کے پیسے پورے ہو جاتے ہیں جو اس نے اس نے ناشر کو ادا کر کے یہ کتاب شائع کروائی تھی۔

شاعر یہ کتاب اتنے لوگوں کو تحفے میں دیتا ہے کہ چند مہینوں میں کتاب ختم ہو جاتی ہے۔ اب پھر وہ اس کا دوسرا ایڈیشن ذاتی جیب سے چھپواتا ہے اور اخبار میں خبر لگواتا ہے کہ جناب محسن گاگڑوی کے شعری مجموعے کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوگیا ہے،

جس سے لوگوں کو یہ تاثر ملتا ہے کہ موصوف انتہائی مقبول شاعر ہیں کہ صرف تین مہینے میں ان کی کتاب کا دوسرا ایڈیشن بھی آگیا ہے۔

میرے ایک بچپن کے دوست ایک دفعہ میرے پاس آئے اور کہا ’’تو مجھے شاعر نہیں مانتا، یہ دیکھ کر چند مہینوں میں اس کا دوسرا ایڈیشن بھی آگیا ہے‘‘۔ میں نے چہرے پر حیرت کا تاثر پیدا کرتے ہوئے معصومیت سے پوچھا ’’اس کا پہلا ایڈیشن کہاں گیا؟‘‘

میرے مزاح نگار دوست مجتبیٰ حسین نے اس سے ملتا جلتا واقعہ سنایا کہ ایک صاحب نے اپنی کتاب کا دوسرا ایڈیشن اشاعت کے لئے دیا، جس کے دوسرے صفحے پر اس کے ناشر دوست نے یہ جملہ لکھا ’’جو صاحب اس کتاب کے دوسرے ایڈیشن کی ایک کاپی خریدیں گے، انہیں پہلے ایڈیشن کی دو کاپیاں مفت دی جائیں گی‘‘۔

کتاب کی اشاعت کے بعد ناشر اور شاعر دونوں کو شدید زخمی حالت میں اسپتال پہنچایا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *