اماں کیتھل: منی پور کا بازار جہاں صرف خواتین کا راج ہے

ایسا بازار آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔ میانمار کی سرحد سےصرف 65 کلومیٹر کے فاصلے پر، انڈیا کے شمال مشرق میںایک انتہائی حیرت انگیز قسم کا بازار موجود ہے۔ ایمپھال کے علاقے میں واقع اس بازار کو اماں کیتھل یا ماؤں کے بازار‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جسے کم از کم 4000 خواتین چلاتی ہیں۔

یہاں کسی مرد کا کوئی کاروبار نہیں اور ہمیشہ سے ایسا ہی رہا ہے۔ نہ صرف ایشیا بلکہ دنیا بھر میں یہ عورتوں کا چلایا جانے والا سب سے بڑا بازار ہے۔

لیکن صرف یہی چیز ایما کیتھل بازار کو منفرد نہیں بناتی۔ بازار چلانے والی ’اماؤں‘ کی رہنمائی میں یہ انڈین ریاست منی پور میں خواتین کے لیے سماجی اور سیاسی سرگرمیوں کا ایک ابھرتا ہوا مرکز ہے۔

ایسا کیوں ہے، یہ سمجھنے کے لیے اس خطے کے قدیم اور حالیہ ماضی سے متعلق جاننا ناگزیر ہے۔

بازار

یہاں عورتوں کی مرضی چلتی ہے

سرسبز پہاڑوں سے گھری منی پور کی وادی میں کبھی کنگلیپاک بادشاہت رائج تھی۔ یہ بادشاہت 33ویں عیسویں سے 19ویں صدی تک قائم رہی جب اسے برطانیہ کے زیرِ اثر انڈیا کی ایک ریاست بنایا گیا۔

منی پوری کے جوانوں کو چھوٹی عمر ہی سے نڈر جنگجو بننے کی تربیت دی جاتی تھی اور دفاع کے لیے ریاست کی حدود میں تعینات کیا جاتا تھا۔ اس دوران روزمرہ زندگی کے دوسرے تمام پہلوؤں کو چلانے کے لیے عورتیں اکیلی رہ جاتیں۔

یہیں سے منی پور کے روایتی طور پر مساوی معاشرے کی بنیاد پڑی۔ اور اماؤں کے مطابق ابھی تک ایسا ہی ہے۔

بازار

اپنایئت کا احساس دلانے والی جگہ

سیاحوں کے لیے اماں کیتھل دنیا کا ایک ایسا عجوبہ ہے جو انتہائی دوستانہ اور پرکشش ہے۔ ایسے افراد جو اماؤں سے ملنے میں دلچسپی رکھتے ہوں ان کا یہاں پرجوش خیرمقدم کیا جاتا ہے۔

ایک خاتون نے میرا ہاتھ تھام کر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مقامی زبان میں ایک ایسا جملہ بولا جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے ’میں بہت خوش ہوں کہ آپ یہاں تک آئیں۔ شکریہ، شکریہ۔‘

یہاں اچھی یادیں چھوڑ کر جانا بہت آسان ہے، خاص کر اماؤں سے ملنے اور ان کی بہت ساری کہانیاں سننے کے بعد۔

بازار

بہترین ساتھی

ان اماؤں کی ہمت ان کے طور طریقوں اور چال ڈھال سے جھلکتی ہے۔ ٹانگ پر ٹانگ رکھے، کہنیوں سے رانوں پر وزن ڈالے، آگے کو جھکے، اپنی دکانوں پر بیٹھی اجنبیوں سے آنکھیں ملاتے وہ ذرا نہیں شرماتیں نا ہی کسی مذاق کا برا مناتی ہیں۔

یہاں مرد کم ہی نظر آتے ہیں۔

اس بازار میں تین، دو منزلہ عمارات، خالص منی پور کے روایتی انداز میں بنائی گئیں ہیں، جن میں کھانے پینے کی اشیا اور کپڑے وغیرہ شامل ہیں۔

کم رش والے اوقات میں آپ کو یہاں ٹولیوں میں بیٹھی خواتین، اماؤں کا پسندیدہ کھیل، لڈو کھیلتی نظر آتی ہیں۔

بازار

بہتری کی جانب گامزن بازار

ہاتھ سے بنے سکارف اور سارنگ کے تھانوں کے درمیان بیٹھی تباتومبی چانتھن 16ویں صدی میں بازار کی حالت یاد کرتی ہیں۔

کرنسی متعارف ہونے سے قبل بازار ادل بدل کے نظام پر قائم تھا۔ آپ چاولوں کی بوری کے بدلے مچھلی، کھانا پکانے کے برتن یا منی پور میں ہونے والی شاندار شادیوں کی تقریبات کے لیے کپڑے تک لے سکتے تھے۔

سنہ 2003 میں ریاستی حکومت نے اماں کیتھل کی جگہ پر ایک جدید طرز کا شاپنگ سینٹر تعمیر کرنے کا اعلان کیا اور یہیں سے اس بازار میں نئی صدی کی پہلی قابلِ ذکر تحریک کی مثال سامنے آئی۔

خواتین نے راتوں رات ایسا احتجاجی دھرنا دیا جس نے بالاخر حکومت کو اپنا منصوبہ ختم کرنے پر مجبور کر دیا۔

بازار

بازار کے باہر ایک اور بازار

بازار کی تین عمارتوں کے باہر سینکڑوں خواتین بیٹھی ہیں جو پھیری پر پھل، سبزیاں، جڑی بوٹیاں اور مچھلی بیچتی ہیں۔ یہ مچھلی منی پور کے کھانوں کا اہم حصہ ہے۔ شاہ مرچیں اور سبزیاں ملا کر بنائی گئی چٹخارے دار چٹنی ’ارومبا‘ اور مچھلی کی بو اس بازا کی گلیوں میں رچی بسی ہوئی ہے۔

بازار سے باہر پھیری والی ان خواتین کے پاس اماں کیتھیل میں فروخت کرنے کا لائسنس نہیں ہے اسی لیے انھیں خاصا محتاط رہنا پڑتا ہے۔

چانتھن کہتی ہیں ’بہت کم مواقع پر پولیس کسی کو گرفتار یا جرمانہ کرتی ہے۔ بلکہ اس کے بجائے وہ ان کی تازہ اشیا کو بازار میں پھینک دیتے ہیں۔‘

میں نے گٹر میں تروتازہ سیب دیکھے۔ شاید یہ کسی حالیہ نوک جھوک کا ثبوت تھا۔

بازار

احترام کی ایک مثال

چانتھن نے ہم سے وعدہ کیا کہ وہ اس 4000 خواتین کے بازار کو چلانے والی اماؤں کی تنظیم ’خویرابند نوری کیتھل‘ کی سربراہ گروہ کے ساتھ ہماری ملاقات کروائیں گی۔ چانتھن خود بھی اس کی ایگزیکٹو ممبر ہیں۔

ایک عمارت کی اوپری منزل پر یہ امائیں اپنے دفتر میں جمع ہوئیں۔ باہر ایک نوجوان ایک تختے پر لیٹا نیند پوری کر رہا ہے۔

ان خواتین میں سے ایک منگولنگانبی اس کے سر پر کھڑی ہو کر اسے یہ جگہ خالی کرنے کو کہتی ہیں۔ وہ سر جھکائے معذرت کرتا کھسک جاتا ہے۔

بنا کسی شک و شبہ یہ کسی شخصیت کے لیے احترام کا اظہار ہے۔

بازار

ایک مضبوط آواز

چار بچوں کی ماں 60 سالہ شانتی کشیتریمیوم، ایک سحر انگیز شخصیت کی مالک ہیں اور وہ اس تنظیم کی صدر ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’چار ہزار عورتوں کے بازار کی نمائندگی کے لیے جمہوری طور پر مجھے چنا گیا۔ کیونکہ میں مضبوط آواز کی مالک ہوں۔‘

ان کے ساتھ کیے گئے انٹرویوز میں یہ بات ظاہر بھی ہوتی ہے۔۔ جب شانتی بولتیں ہیں تو کمرے میں موجود سبھی انھیں سنتے ہیں۔

شانتی سے ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ امائیں اپنے، بازار اور منی پور کو لے کر فرق نہیں رکھتیں۔ ریاست کے لیے اگر کوئی چیز اہم ہے تو وہ اس کے لیے لڑیں گی۔ جب ان سے کسی حالیہ ایسے اہم واقعے کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ یہ کہانی اس طرح بتاتی ہیں۔

سنہ 1958 میں انڈیا کے مزاحمتی شمال مشرق میں علیحدگی پسند اور انقلابی قوتوں کو ختم کرنے کے لیے حکومت نے مسلح افواج کے خصوصی اختیارات کا ایکٹ (اے ایف ایس پی اے) منظور کیا۔

اس ایکٹ نے خطے میں موجود سکیورٹی فورسز، آسام رائفلز پیراملٹری تنظیم جن پر اکثر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام عائد کیا جاتا ہے، ایسے خصوصی اختیارات مہیا کیے جنھیں دیکھتے ہی جان سے مارنے کا لائسنس سمجھا جاتا ہے۔

سنہ 2004 تک ، آسام رائفلز کی 17 ویں بٹالین امپھال کے مرکز میں کنگلہ قلعے میں موجود تھی، جو کنگلیپاک بادشاہت کا ایک قدیم محل تھا۔ بازار سے محض چند سو میٹر کے فاصلے پر یہ ایک ناگوار مقام تھا اور کہیں سے بھی عام شہری اس میں داخل نہیں ہوسکتے تھے۔

بازار

ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا فیصلہ

جب شانتی وہ کہانی سناتی ہیں تو کمرہ خاموش ہوجاتا ہے اور اس کے بعد آنے والی تفصیلات پر کچھ نگاہیں حیرت سے اٹھتی ہیں۔

منی پور سے ایک نوجوان لڑکی کو اغوا کرکے قلعے میں لے جایا گیا۔ ان پر ایک انقلابی کے ساتھ تعلقات کا الزام (یا خود انقلابی ہونے کا) لگایا گیا، جس کی بنا پر اس کے ساتھ اجتماعی طور پر زیادتی کی گئی اور انتہائی قریب سے اس کے جنسی اعضا کو گولیوں سے چلنی کر دیا گیا۔

جیسے ہی یہ بات پھیلی، چند اماؤں جنھیں فوجیوں کے اس غیر انسانی سلوک اوراختیارات پر سخت غصہ تھا، انھوں نے اس ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔

بازار

ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا لیکن یہ آخری بار تھی۔ بعد میں پورے انڈیا میں مشہور ہو جانے والے اس مظاہرے کے دوران 12 عورتوں نے بازار سے قلعے تک مارچ کیا اور اس کے باہر مکمل برہنہ حالت میں کھڑے رہیں۔

انھوں نے ایک بینر اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا ’انڈین فوج نے ہمارا ریپ کیا۔‘

امرابتی تھنگبھائجام کے مطابق انھوں نے چیختے ہوئے کہا ’تمھیں عورتوں کا جسم چاہیے؟ آؤ اور ہمارا جسم لے کر اپنی بھوک مٹا لو۔

یہ غیر انسانی فعل جنگل کے مجرموں کے لیے ہے۔ انڈیا کی فوج، کنگلا چھوڑ دو اور منی پور سے نکل جاؤ۔‘

بازار

ایک علامتی فتح

یہ برہنہ مظاہرہ رائیگاں نہیں گیا اور 17ویں آسام رائفلز نے چار مہینے بعد قلعہ خالی کرکے مقامی لوگوں کے حوالے کر دیا۔

اگرچہ فوجیں منی پور کے جنگل میں موجود رہیں، لیکن اماؤں نے انتہائی کامیابی سے انھیں مرکز سے نکال باہر کیا۔

کشیتریمیوم کہتی ہیں ’بازار والی اماؤں کی طاقت ان کا اتحاد ہے۔ جب ہم 4000 اکھٹی کھڑی ہوتی ہیں، ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور ہماری اجتماعی آواز سنی جاتی ہے۔‘

بازار

ایک دکاندار عورت کی کہانی

خویرابند نوری کیتھل تنظیم کی چیف سیکرٹری 56 سالہ رانی تھنگوجام اس بازار میں مچھلیاں بیچتی ہیں۔ تھنگوجام نے اس بازار میں اس وقت کام کرنا شروع کیا جب ان کی عمر 30 سال تھی اور انھوں نے آخری مرتبہ اپنے شوہر کو دیکھا تھا۔

وہ بتاتی ہیں ’جب میں نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کو جنم دیا، اس کے بعد ایک شام میرا شوہر گھر میں ایک اور عورت کے ساتھ داخل ہوا۔‘

ان کے شوہر نے اس خاتون نے شادی کا دعویٰ کیا اور اسے، تھنگوجام، اپنے بچوں اور والدین سے دوسری بیوی کے طور پر متعارف کرانا شروع کیا۔

اس ساری رات گھر سے ان دونوں کے لڑنے کی آوازیں آتی رہیں۔ بالاخر ان کا شوہر غصے میں اپنی نئی بیوی کے ساتھ گھر سے چلا گیا۔ تھنگوجام 40 دن تک بچوں کے ساتھ اپنے والدین کے گھر پر ہی رہیں۔

ان کا شوہر کبھی پلٹ کر نہیں آیا۔

بازار

ایک نئی زندگی

تھنگوجام کہتی ہیں ’ان دنوں بار بار میں خود کو مار ڈالنے کے منصوبے بناتی۔ میں چاہتی تھی زہر پی لوں اور کبھی نہ اٹھوں۔‘

بالاخر انھوں نے زندہ رہنے کا فیصلہ کیا اور اپنے والد سے بات کی جو انھیں بچوں سمیت ساتھ رکھنے پر تیار ہو گئے۔

کچھ عرصے بعد اپنے مشکل حالات کے باعث تھنگوجام کو اماں کیتھل میں بیچنے کا لائسنس مل گیا اور اس طرح انھوں نے اپنے خاندان کو سہارا دینا شروع کیا۔

تھنگوجام نے خود کو مارکیٹ کے لیے وقف کر دیا۔ آگے چل کر نہ صرف وہ سیکرٹری بنیں بلکہ اس بازار کی سب سے اہم ارکین میں ان کا شمار کیا جانے لگا۔

بازار

بازار سے پارلیمانتک کا سفر

سنہ 2019 میں تھنگوجام اور دو اور خواتین کے ساتھ دلی پہنچیں۔ بازار میں حکومتی بل کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا اور اس دوران اماؤں نے خود کو پانچ دن تک بازار میں بند رکھا۔

صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور کم از کم آٹھ خواتین زخمی ہوئیں۔

تھنگوجام یہ لڑائی انڈیا کی پارلیمان میں لے آئیں۔

شہریت کا ترمیمی بل (سی اے بی) جس میں ہمسایہ ممالک کے اقلیتی شہریوں جیسے پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے ہندوؤں ، عیسائیوں اور بدھ پرستوں کو انڈیا منتقل کرکے بعد میں شہریت حاصل کرنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے، شدید تنقید کی زد میں تھا۔ انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں، منی پور اور آسام میں مظاہرین کو خدشہ تھا کہ انھیں بڑے پیمانے پر ان پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔

تھنگوجام خوشی سے بتاتی ہیں ’ہم نے مودی کا پتلا جلایا۔‘

بازار

ان کا ماننا ہے کہ دلی کی حکومت منی پور کے عوام کی آوازیں نظرانداز کر رہی ہے اور اتنے دور سے ایسے فیصلے لیے جا رہے ہیں جو ریاست کے مفاد میں نہیں۔

وہ اپنے ساتھ ایک پیغام لے کر آئی ہیں: منی پور شاید 2400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہو لیکن آپ ہمیں نظرانداز نہیں کریں گے۔

تمام عورتوں کے حقوق کی جدوجہد

اماں کیتھل میں زیادہ تر خواتین کا تعلق میٹی نسل سے ہے جو منی پور کے پرانے باشندے ہیں۔ ایمپھال اور آس پاس کی وادی میں میٹی ثقافت ابھی تک زندہ اور نمایاں ہے۔

اگرچہ یہ سچ ہے کہ شہریت کے ترمیمی بل سے سب سے زیادہ میٹی متاثر ہوں گے کیونکہ وہ وادی میں رہتے ہیں (پہاڑوں میں رہنے والے قبائل اس سے متاثر نہیں ہوں گے)، لیکن امائیں صرف میٹی کے مسائل کے لیے ہی نہیں انڈیا میں رہنے والی تمام عورتوں کے لیے لڑتیں ہیں جیسا کہ کنگلا قلعے والے واقعے میں انھوں نے ظاہر کیا۔

بازار

انڈیا کی محافظ

کنگلا قلعے میں نوجوان عورتیں مسکراتے ہوئے، ایک دوسرے کے ساتھ گروپ تصاویر بنوا رہی ہیں۔

ایسے مناظر سنہ 2004 سے پہلے ممکن نہ تھے جب یہ قلعہ آسام رائفلز کے قبضے میں تھا۔ یہاں کشیتریمیوم کے الوداعی الفاظ سے زیادہ بہترین بات کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔

’ہم اپنی ریاست کے لیے لڑتے رہیں گے۔ امائیں صرف منی پور کے لیے ہی نہیں بلکہ یہاں رہنے والے ہر فرد کے لیے محافظ بنیں گی۔‘

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *